درس القرآن

 

وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا وَ مَا کُنَّا  مُھْلِکِی الْقُرٰٓی اِلَّا وَ اَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ۔  وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُھَا وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی اَفَلَاَ تَعْقِلُوْنَ ۔

(سورۃ القصص 28:60-61)

اور تیرا ربّ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا یہاں تک کہ ان (بستیوں) کی ماں میں رسول مبعوث کر چکا ہوتا ہے جو اُن پر ہماری آیات پڑھتا ہے اور ہم اس کے سوا بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے کہ ان کے بسنے والے ظالم ہو چکے ہوں۔ اور جو کچھ بھی تم دیئے جاتے ہو یہ دنیوی زندگی کا عارضی فائدہ اور اِس (دنیا) کی زینت ہے۔ اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ پس کیا تم عقل نہیں کرو گے ؟

تفسیر

یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا: اُمّی کے معنے ہوئے ام القُرٰی کا رہنے والا۔ اور امّ القُرٰی مکّہ کا نام ہے۔ پس ان پڑھ کے معنے خواہ مخواہ لے لئے۔ موقعہ مناسب آگا پیچھا دیکھ کر معنے کرنا چاہیئے تھا اور سچ یہ تھا کہ جہاں کوئی ہادی بھیجا جاتا ہے۔ اس بستی کو اس ہادی کے زمانہ میں اور بستیوں کا اُمّ جس کے معنی اصل کے ہیں کہا جاتا ہے۔ ثبوت یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا……. قرآن میں ہے پھر اس لحاظ سے بھی مکّہ معظّمہ کو اُمّ القرٰی کہا گیا اور ہر مامور کی بستی امّ ہوا کرتی ہے۔

                                                                                                          (حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 321)

ایک دوسری آیت العنکبوت 29 :49 میں بیان ہوا ہے! اور تو اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ تُو اپنے داہنے ہاتھ سے اُسے لکھتا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو جھٹلانے والے (تیرے بارہ میں) ضرور شک میں پڑ جاتے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ  ؑسے مماثلت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے بیٹے مارے جاتے تھے اور لڑکیاں زندہ رہنے دی جاتی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ عذاب دُور کر ایا۔ جب وہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اُلٹی بات تھی۔ لوگ لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے۔ اور لڑکوں کو زندہ رکھتے تھے۔ وہاں تو سلطنت کی طرف سے ظلم تھا۔ مگر یہاں کم بخت ماں باپ خود مارتے تھے۔ آخر یہ ظلم آپؐ   کی برکت سے دُور ہوا۔ یہ بھی ایک مماثلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہے۔

(مضامین ڈاکٹر میر محمد اسماعیل جلد دوم صفحہ 836)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *