اگر جنگ ہوئی تو پاکستان کے احمدی کس کا ساتھ دیں گے؟

تحریر: محمد فاتح ملک

اس وقت سوشل میڈیا  پر جس تیزی سے افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اس کی مثال پہلے کسی دور میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ وٹس ایپ اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کچھ دن قبل وٹس ایپ پر ایک تحریر آئی کہ اگر جنگ ہو جاتی ہے تو پاکستان میں موجود شیعہ ایران کا ساتھ دیں گے، ہندو بھارت کا ساتھ دیں گے اور قادیانی(احمدی) بھی ہندوستان کا ساتھ دیں گے کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔

اس تحریرکے لکھنے والے کا نام کہیں درج نہیں تھا۔ نہ ہی کوئی ٹھوس شواہد موجود تھے۔ فرقہ واریت کی اس سے زیادہ اور کیا مثال ہوگی کہ لوگوں کو مذہب کے نام پر بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ بات اگر احمدیوں کی کی جائے تو پہلی بات یہ ہے کہ احمدی پچھلی دو دہائیوں سے جنگ عظیم سوم سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس بارے میں آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے لیکن پچھلے چند سالوں سے تو اس مہم کو اتنی شدت سے چلایا جا رہا ہے کہ اس کا تصور کہیں اور نہیں۔ یورپ امریکہ ایشیا میں ہر سطح پر اس مہم کو چلایا جا رہا ہے کہ کسی طرح دنیا امن کی طرف آجائے اوراس جنگ سے بچ جائے۔

اب رہا یہ سوال کہ پاکستان کے احمدی کس کا ساتھ دیں گے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی جاننا چاہتا ہے۔ افواہ پھیلانے والے نے تو بغیر ثبوت کے بات کر دی۔ اور پاکستان کے اس کو مان بھی لیں گے کیونکہ احمدیوں کے خلاف ایک بغض پایا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان پہلی دفعہ حالت جنگ میں ہوگا؟ نہیں پاکستان پہلے بھی کئی جنگیں لڑ چکا ہے۔اس لئے اس سوال کا جواب دینا بہت آسان ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس سوال کا جواب آپ کو آسانی سے مل جائے گا۔ تاریخ کیا کہتی ہے آئیے دیکھتے ہیں تقسیم ہندوستان کے وقت سے احمدیوں نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ جماعت احمدیہ نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر بھرپور کوشش کی کہ گورداسپور(جس میں قادیان آتا ہے) پاکستان کا حصہ ہو۔ اور مسلم لیگ کے کیس کو مضبوط کرنے کے لئے پاکستان کے حق میں الگ کیس مسلم لیگ کی حمایت میں داخل کیا۔ہندوستان کے باقی مسلمان مذہبی جماعتوں کے برعکس جماعت احمدیہ نے قائد اعظم اور پاکستان کا ساتھ دیا۔  پاکستان بن جانے کے بعد نا چاہتےہوئے بھی اپنے مرکز کو چھوڑا اور پاکستان ہجرت کر لی۔ 1948 میں پاکستان کو پہلا معرکہ پیش آیا۔ اس میں پاکستان کے احمدیوں نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ کشمیر کے محاذ پر ہر میدان میں احمدی نمایاں رہے۔ بلکہ کشمیر کے دفاع کے لئے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر فرقان فورس بنائی جس میں احمدی رضا کاروں نے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر کشمیر کا دفاع کیا۔ فرقان بٹالین کا کام ختم ہونے پر پاکستانی فوج کے کمانڈر ان چیف نے اپنے پیغا م مورخہ 17جون 1950ء میں کہا :۔  ’’دشمن نے  ہوا پر سے اور زمین پر سے آپ پر شدید حملے کئےلیکن آپ نے ثابت قدمی اور اولو العزمی سے اس کا مقابلہ کیا اور ایک انچ زمین بھی اپنے قبضہ سے نہ جانے دی ۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد ششم۔ صفحہ 674,673)

1965 میں جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت بھی پاکستانی احمدیوں نے دفاع وطن کا حق ادا کر دیا۔ کشمیرمیں چھمب کی فتح کا کارنامہ انجام دینے والے ایک احمدی لیفٹنیٹ جنرل اختر حسین ملک تھے ۔ یہ ایک بڑی فتح تھی جس کے اعتراف میںآپ کو سب سے پہلے دوسرا بڑا جنگی اعزاز ہلالِ جرأت دیا گیا ۔آپ کے اس عظم  کارنامے کا ذکر مشہور دانشور شاعر اور ادیب احمد ندیم قاسمی نے یوں کیا۔

  ’لیفٹینیٹ  جنرل اختر حسین ملک قوم کے ایک ایسے ہیروتھے جن کا نام پاکستانی بچوں کو بھی یاد ہے ۔ وہ بہادری اور استقامت اور اولو العزمی کی ایک مجسم تصویر بن کر ابھرے اور اہل پاکستان کےذہنوں پر چھا گئے ۔ ‘‘

 (روزنامہ جنگ کراچی 9ستمبر1969ء صفحہ 4)

رن کچھ میں’ دشمن کے وسیع علاقہ پر قبضہ کرنے والے احمدی جرنل برگیڈیئر افتخار جنجوعہ ہیروآف رن کچھ کہلائے ۔آپ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اگلی صفوںمیں جنگ لڑی اور زخمی بھی ہوئے ۔ اس شجاعت و جرأت کے اعتراف میں بہادری کے دوسرے بڑے اعزا ہلالِ جرأت کے حق دار ٹھہرے ۔

چونڈہ کے محاذ پر دوسری جنگ عظم کے بعد ٹنکو ں کی سب سے بڑی جنگ میں ملک کا دفاع برگیڈیئر عبد العلی ملک نے کیا۔ انہیںبھی بہادری کا دوسرا بڑا اعزاز ہلالِ جرأت دیا گیا ۔ ان کے اس کارنامے کے بارےمیں ایک اخبار نے لکھا :۔

  ’’عبد العلی نے چونڈہ کےمحاذ پر ٹینکوںکی عظیم جنگ میں پاکستانی فوج کی کمان کی اور ایسے کارنامے سر انجام دئے کہ تاریخ حرب کے ماہرین حیران و ششدر رہ گئے۔ اس وقت موصوف برگیڈیئرتھے۔‘‘

(روزنامہ امروز لاہور 23اگست 1969ء)

چھمب جوڑیاں محاذ پر مجرت جنرل افتخار جنجوعہ شہید

1971ء کی جنگ میں مغربی پاکستان میں بڑا محاذ کشمیرمیں چھمب جوڑیاں سکٹر تھا۔ اس محاذ کی کمان گزشتہ جنگ کے رن کچھ کے احمدی ہیرومیجر جنرل افتخار جنجوعہ کے ہاتھ میں تھی۔ ان کی قیا دت میں ایک بار پھر چھمب فتح ہوا۔ وطن کا یہ جیالا محاذ پر اگلے مورچوں تک جاتا۔ ایسا ہی ایک مہم میں ان کا ہیلی کاپٹر بھارتی فوجویوں کی زدمیں آگیا اور بہادر جرنیل نے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنی جان قربان کر دی۔ شہید کے آخری الفاظ یہ تھے۔

’’میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ مجھے شہادت کا رتبہ مل گا ‘‘

بہادری کے اس عظیم کارنامے پر جنرل افتخار جنجوعہ کو ایک بار پھر ہلال جرأت دیا گیا۔چھمب کا نام ان کے نام پر افتخار آباد رکھا گیا اور کھاریاں چھاؤنی میں  ایک کالج اور رہائشی کالونی بھی آپ کے نام سے معنون ہے۔آرمی ہیڈکوارٹر راولپنڈی کو جانے والی سڑک بھی آپ کے نام سے معنون ہے۔ آپ کے متعلق ایک اخبار نے لکھا:

’’صدر نے مجرب جنرل افتخار خان شہید کو چھمب کے محاذ پر حالیہ جنگ میں بے مثال جرأت و شجاعت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے پر ہلال جرأت کا اعزاز دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ نمایاں خدمت کے عوض ہلال جرأت ، ستارہ پاکستان اور ستارہ قائداعظم حاصل کر چکے ہیں۔چھمب کی لڑائی میں میجر جنرل افتخار نے دشمن کے مضبوط مورچوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے فوجیوں کے ہراول دستوں کی قیادت کی اور میدان جنگ میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بے مثال عزم اور جرأت کا مظاہرہ کیااور چھمب کو فتح کردیا۔10 دسمبر 1971ء کو وہ ایک ہیلی کاپٹر میںاگلے مورچوں پر پرواز کر رہے تھے کہ ان کاطیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور وہ شہید ہو گئے‘‘۔

(روزنامہ امروز لاہور 22 دسمبر 1971ء صفحہ22)

جناب زاہد ملک سینئر صحافی ایڈیٹر ’’حرمت‘‘ نے امریکہ میں جناب ایم ایم احمد سابق مشیر صدر پاکستان و صدر ورلڈ بنک کا انٹریو کیا۔ اس میں مکرم میاں مظفر احمد نے 1965 کی جنگ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کی ایک فیصلہ کن رائے احمدیوں کے حب الوطن ہونے کے باری میں یوں بیان فرمائی کہ

’’ اگر کوئی چیخ چیخ کر سو دفعہ کہے کہ یہ جو احمدی ہیں یہ ملک کے خلاف ہیں تو میں اس پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی یقین نہیں کروں گا۔ کیونکہ 1965 کی جنگ کے دوران میں نے ایک بہت ہی خطرناک مشن پر بھیجنے کے لئے دس آدمیوں کو بلایا اور کہا کہ جس مشن پر آپ کو بھیجا جا رہا ہے وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس میں زندہ بچ کر واپس آنے کا امکان صرف 10 فیصد ہے جبکہ 90 فیصد امکان یہی ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے تو پہلا آدمی جس نے اثبات میں فوراً ہاتھ اٹھایا وہ احمدی تھا۔ میں نے پوچھا اس کا نام؟ تو اس کا نام پائلٹ منیب تھا۔ (منیب غلطی سے درج ہو گیا ہے یہ منیر ہے۔ ناقل)

(ہفت روزہ حرم 27 دسمبر 1996 تا 02 جنوری 1997 بحوالہ حاصل شام و سحر صفحہ 409)

حالیہ تاریخ میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک احمدی میجر افضال نے وطن کی خاطر میدان جنگ میں ہی جام شہادت نوش کیا۔ اور اپنے خون سے پاکستان کی محبت کا ثبوت دیا۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ پاکستان میں بسنے والے احمدی ہر میدان میں حب الوطنی دیکھاتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ احمدی جنگ میں بھارت کا ساتھ دیں گے یہ دھوکہ دہی اور حق سے انحراف ہے۔ پاکستان میں بسنے والے احمدی ستر سال سے زائد عرصہ سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ان کا جینا مرنا پاکستان سے وابستہ ہے۔ اس کے باوجود صرف مذہب کا بہانا بنا کر بغیر ثبوت کے یہ کہنا کہ جنگ ہونے کی صورت میں پاکستان میں بسنے والے احمدی بھارت یا دوسرے ملکوں کا ساتھ دیں گے غلط ہے۔ جنگ میں دشمن مذہب کی تفریق نہیں کیا کرتا اس لئے خدارا مذہب کو استعمال نہ کریں۔ حقائق دیکھیں۔ پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ انہی اقلیتوں کی حب الوطنی کی داستان سنا رہا ہے۔ تاریخ کو سامنے رکھیں اٹکل پچو سے کام نہ لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *