انسانوں کے قدیم ترین اجداد کی باقیات دریافت

لاہور انٹرنیشنل ڈیسک

مختلف سائنسدانوں کے تحقیقی مقالہ جات جن کو بی بی سی نے مختلف ادوار میں شائع کیا۔ لاہور قارئین کے استفادہ کے لئے شائع کیا جا رہا ہے۔

سائنسدانوں نے جنوبی انگلینڈ میں انسان سمیت آج تک وجود رکھنے والے زیادہ تر ممالیہ حیوانیات (جانور)کی قدیم ترین باقیات دریافت کی ہیں۔ناپید ہو جانے والے چوہے کی ایک قسم کی مانند لگنے والی مخلوق کے دانتوں کی باقیات ڈورسیٹ ساحل کے پاس چٹانوں سے ملے ہیں۔ جن سائنسدانوں نے ان باقیات کی دریافت کی ہے ان کا خیال ہے کہ یہ باقیات بلاشبہ ممالیہ کے قدیم ترین باقیات ہیں جن سے انسان کا سلسلہ ملتا ہے۔

اس کی تاریخ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ساڑھے چودہ کروڑ سال پرانے ہیں۔ ان دانتوں کی جانچ کرنے والے پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کے سائنسداں ڈاکٹر سٹیو سوئٹ مین نے کہا “ہمیں جوراسک ساحل سے چوہے کی قسم کے ایک جانور سے ملتی جلتی جو باقیات ملی ہیں وہ اب تک ہمارے اجداد کے قدیم ترین باقیات ہیں۔” یہ چوہے جیسے فر والے جانور ممکنہ طور پر رات کے اندھیروں میں نکلتے تھے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بِل میں رہتے تھے اور کیڑے مکوڑے ان کی غذا تھے جبکہ بڑے جانور پودے بھی کھاتے ہوں گے۔ ان کے دانت کھانے کو کاٹنے اور چبانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ڈاکٹر سویٹ مین نے کہا: “ان میں ایسے آثار ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے عہد میں جانوروں کی جس قسم سے تعلق رکھتے تھے ان کی عمریں لمبی تھیں۔”ان باقیات کو گرانٹ سمتھ نے اس وقت تلاش کیا تھا جب وہ بی ایس سی کے طالب علم تھے۔ وہ سوانیج کے قریب ڈرلسٹن بے میں اپنے ڈیسرٹیشن کے لیے چٹانوں کا جائزہ لے رہے تھے کہ انھیں ایسے دانت ملے جو اس عہد کی چٹانوں پر پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ اس تحقیق کی نگرانی کرنے والے پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیو مارٹل کہتے ہیں: “راسک ساحل ہمیشہ نئے نئے رازوں سے پردہ اٹھاتا رہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کی دریافت ہمارے قریب ہوتی ہی رہے گی۔”

قدیم انگریز سانولے رنگ کے تھے؟

ایک جدید ترین سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دس ہزار سال قبل ایک برطانوی کی جلد خاصے گہرے رنگ کی تھی۔

لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم اور یونیورسٹی کالج آف لندن کے سائنس دانوں نے 1903ء میں دریافت ہونے والے ایک شخص کی باقیات سے ڈی این اے نکال کر اس کا تجزیہ کیا اور پھر اس کی بنیاد پر اس کے چہرے کے نقوش اور رنگت کا تخمینہ لگایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی افراد کی سفید رنگت بعد میں وجود میں آئی ہے۔ اس تحقیق سے گذشتہ برفانی دور کے بعد برطانیہ میں آ بسنے والے پہلے انسانوں کے بارے میں قابلِ قدر معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس شخص کو چیڈر مین کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا ڈھانچہ 115 سال قبل سمرسیٹ کاؤنٹی کے علاقے چیڈر گورج کے ایک غار سے ملا تھا۔ ڈھانچے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا قد ساڑھے پانچ فٹ تھا اور مرتے وقت اس کی عمر  20 برس کے قریب تھی۔

مرکزی تحقیق کار پروفیسر کرس سٹرنگر نے کہا: “میں چیڈر مین کے ڈھانچے پر 40 سال سے کام کر رہا ہوں۔ اب اس آدمی کا چہرہ دیکھنا، اس کے بال، چہرہ، آنکھوں کا رنگ اور گہری رنگت کی جلد۔ چند سال پہلے ہم اس چیز کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔” اس شخص کی کھوپڑی پر پائے جانے والے نشانات سے لگتا ہے کہ اس کی موت تشدد سے ہوئی تھی۔ امکان ہے کہ اس کے قبیلے والوں نے اسے اس غار میں لا کر ڈالا تھا۔ چیڈر مین کو مرے ہزاروں سال گزر گئے تھے لیکن اس کے جسم سے اتنا ڈی این اے مل گیا جس کا تجزیہ کیا جا سکے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کے بالے کالے اور ممکنہ طور پر گھنگریالے تھے، آنکھیں نیلی اور جلد کی رنگت گہری سانولی تھی۔ آج یہ امتزاج تھوڑا عجیب لگے گا لیکن اس دور کی یورپی آبادی میں یہ عام تھا۔ٹی وی (TV) چینل فور کے ڈائریکٹر سٹیون کلارک چیڈر مین پر ایک دستاویزی فلم تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: “ہم اس دور میں رہ رہے ہیں جہاں جلد کے رنگ پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔”سوشل میڈیا پر یہ خبر بہت زیادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔سائنس دانوں کے مطابق برطانیہ میں سفید رنگت والے انسان آج سے تقریباً چھ ہزار سال مشرقِ وسطیٰ سے یورپ میں داخل ہوئے۔ یہ آبادی یورپ میں پہلے سے رہنے والے چیڈر مین جیسے لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ رنگت سفید کیسے ہوئی لیکن ایک خیال یہ ہے کہ ان لوگوں کی خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی تھی، جس کی وجہ سے انھیں سورج کی روشنی کے جلد پر پڑنے سے یہ وٹامن حاصل کرنا پڑا۔ یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرِ جینیات پروفیسر مارک ٹامس کہتے ہیں: “اس کے دوسرے عوامل بھی ہو سکتے ہیں لیکن سائنس دانوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ بڑی وجہ یہی رہی ہو گی۔”چیڈر مین کے ڈی این اے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ دودھ ہضم کرنے کے قابل نہیں ہو گا۔ بالغ انسانوں میں یہ صلاحیت کانسی کے دور میں پیدا ہوئی۔ چیڈر مین کے دور میں برطانیہ یورپ کے ساتھ خشکی کے ذریعے جڑا ہوا تھا اس لیے وہاں سے مہاجرین کی کئی لہریں آ کر یہاں آباد ہوتی رہیں۔

جدید انسان سعودی عرب میں 85 ہزار سال قبل آباد تھے

ایک تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جدید انسان موجودہ سعودی عرب میں  85 ہزار سال قبل آباد تھے۔ حال ہی میں وہاں سے ملنے والی انسانی انگلیوں کی ہڈیوں کی آئیسوٹوپ تکنیک سے جانچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے۔ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ جدید نوع انسان کی انگلیوں کی ہڈیاں ہیں۔ یہ دریافت اور اس سے قبل اسرائیل، چین اور آسٹریلیا میں ملنے والے باقیات ایسے شواہد ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بنی نوع انسان پونے دو لاکھ سال قبل افریقہ سے باہر وسیع علاقوں میں پھیل گئے تھے۔ پہلے یہ خیال تھا کہ 60 ہزار سال سے پہلے بنی نوع انسان افریقہ کے باہر نہیں گئے تھے۔ تازہ تحقیق “نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولیوشن” نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل سرزمین عرب میں ہونے والی کھدائی میں ایسے اوزار ملے تھے جن کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ ابتدائی بنی نوع انسان نے ان کا استعمال کیا ہو گا لیکن ان کی کھوپڑیوں کے شواہد نہیں ملے تھے۔ سعودی عرب کے علاقے الوسطی میں کام کرنے والے محققین کو انگلیوں کی تین ہڈیوں میں سے درمیانی ہڈی ملی ہے۔ اس کے علاوہ اس انسان کی باقیات نہیں ملی ہیں۔

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ہوو گروکٹ نے کہا: “یہ معمول کی بات ہے کہ تمام انسان اور جاندار اپنا کوئی نشان چھوڑے بغیر غائب ہو جائیں گے۔” آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق نے بتایا: “ہم لوگ بہت خوش قسمت ہیں۔ عام طور پر اگر آپ کسی کا ایک حصہ پاتے ہیں تو آپ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن یہاں یہ ہڈی بالکل منفرد ہے۔” ٹیم نے ہڈی کا تھری ڈی ماڈل بنانے کے لیے سی ٹی سکین کا سہارا لیا اور ان کا بنی نوع انسان اور ان سے قبل عہد حجر کے انسان (نینڈرتھل) کے باقیات سے موازنہ کیا گیا۔ اس میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ نیڈرتھل کے مقابلے میں جدید نوع انسان سے زیادہ مشابہ تھا کیونکہ نینڈرتھل کے ہاتھوں کی انگلیاں چھوٹی اور چپٹی ہوتی تھیں۔ اس مقام پر پائی جانے والی دوسری چیزوں سے عہد کا اندازہ لگانے کے لیے دو مختلف تکنیک کے استعمال سے کیا گیا۔ سعودی عرب کا موسم 85 ہزار سال پہلے آج سے بہت مختلف ہوا کرتا تھا۔ مون سون کی بارش نے ہری بھری جھیلیں بنائی تھیں جہاں دریائی گھوڑے جیسے جانور رہتے تھے۔ جنگلی مویشی اور بارہ سینگھے بھی وہاں افریقہ سے نقل مکانی کر کے پہنچے تھے۔

الوسطی پر ملنے والی مختلف باقیات سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں پتھر کے اوزار کے ساتھ مختلف اقسام کے جانور رہا کرتے تھے اور یہ اوزار جدید نوع انسان کے استعمال کے اوزار سے زیادہ مشابہ ہیں۔ ڈاکٹر گروکٹ کا خیال ہے کہ انسان اس خوش آمدید کرنے والے ماحول سے متاثر ہو کر وہاں آئے ہوں گے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا: “یہ دلچسپ بات ہے کہ ماضی میں کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ ہم ایشیا میں اس وقت تک نہیں پھیل سکتے تھے جب تک کہ ہمارے پاس جدید اوزار نہیں ہوتے۔ لیکن ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں ہونے والی نقل مکانی میں جدید اوزار سے زیادہ موسمی تبدیلی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔” جنوبی افریقہ میں ہونے والی حالیہ تحقیق سے بھی پتہ چلتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی ارتقا میں دخیل ہے۔ بہرحال سعودی عرب میں کھدائی کے مقام سے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ وہاں انسان کتنے سال تک آباد رہے۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ وہ وہاں مختصر عرصے تک کچھ سو یا ہزار سال ہی آباد رہے ہوں گے۔ یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہاں آباد لوگ از خود ختم ہو گئے یا نقل مکانی کرلی۔ ڈاکٹر گروکٹ کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا واقعہ رونما ہوا۔ جینیاتی شواہد بتاتے ہیں کہ تمام زندہ غیر افریقی نسل کے لوگوں نے وہاں سے کوئی  60 ہزار سال قبل نقل مکانی کی تھی۔ اب محققین ڈی این اے ڈیٹا اور آثار قدیمہ کے شواہد سے اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ بنی نوع انسان افریقہ سے باہر اس سے پہلے سے موجود تھے۔ اس ضمن میں یہ امکان بھی ہے کہ پہلے والے انسان ختم ہو گئے ہوں اور آج جو انسان آباد ہیں وہ بعد کی نقل مکانی کا نتیجہ ہیں۔

قدیم انسانوں کی دو نسلوں کا ملاپ ثابت

ایک دفعہ کا ذکر ہے جب دو مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے دو قدیم انسانوں نے روس کے ایک غار میں ملاقات کی۔ اور اب 50 ہزار سال کے بعد سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کے ملاپ سے ایک بیٹی نے جنم لیا تھا۔ اس غار سے ملنے والی ہڈیوں کے ٹکڑوں سے ڈی این اے نکالنے پر معلوم ہوا کہ لڑکی کی ماں کا تعلق نینڈرتھال نسل سے تھا اور باپ کا تعلق ڈنیوسوون نسل سے تھا۔ سائنسی جریدے “نیچر” میں شائع ہونے والی اس خبر سے ہمیں اپنے آبا و اجداد کے بارے میں کافی اہم معلومات ملتی ہیں۔

نینڈرتھال اور ڈنیوسوون نسل کے لوگ شکل و صورت اور قد بت کے لحاظ سے آج کل کے انسانوں سے ملتے جلتے تھے لیکن حقیقتاً وہ مختلف نوع کے تھے۔

جرمنی کے میکس پلینک انسٹٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات سے منسلک محقق ویویان سلون نے بتایا کہ: “ہم ماضی میں کی جانے والی تحقیق سے دیکھ چکے ہیں کہ نینڈرتھال اور ڈنیوسوون نسل کے لوگوں کے آپس میں تعلقات سے بچے پیدا ہوئے تھے۔ لیکن یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم اتنے خوش قسمت ہوں گے کہ ہمیں ان کے ملاپ سے پیدا ہونے والی اولاد کا سراغ ملے گا۔”

آج کل کے دور میں ہر وہ انسان جس کا تعلق افریقہ سے نہ ہو، اس کے ڈی این اے کا کچھ حصہ نینڈرتھال نسل کے انسانوں سے ملتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر افریقی نسل کی آبادی کے چند حصے ایسے ہیں جن کے ڈی این نے کا کچھ حصہ ڈینوسوون نسل سے ہے۔

چونکہ یہ جینیاتی شناخت نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آئی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں افراد کے آپس میں تعلقات کا سلسلہ ان کے بعد والوں نے بھی جاری رکھا۔ لیکن اب تک صرف ایک ہی مقام پر ان دونوں نسلوں کے لوگوں کی باقیات ملی ہیں اور وہ ہے ڈنیسووا غار جو روس کے علاقے سائیبریا کے التائی پہاڑ میں واقع ہے۔ دور حاضر کے انسانوں کی نسل ہومو سیپیئنز کہلائی جاتی ہے اور اب تک اس سے مختلف نسلوں میں سے 20 سے بھی کم نسلوں کی جینیاتی شناخت کی جا سکی ہے۔ ڈاکٹر سلون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں اب تک صرف ایک ایسا انفرادی شخص ملا ہے جو کہ دو مختلف نسلوں کے ملاپ سے پیدا ہوا۔ اس سلسلے میں کی جانے والی دوسری تحقیقات کا جائزہ لیا جائے تو “یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسانوں کی ارتقائی تاریخ میں نظر آتا ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ کیا ہے۔”

                                                (بشکریہ بی بی سی)

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *