اسلامو فوبیا اور مثالی وزیراعظم

محی الدین عباسی مدیر اعلیٰ

اسلامو فوبیا یا اسلام سے خوف ایک خطرناک رجحان ہے۔ جس پر ہمیں مغربی دنیا میں بہت گہری نظررکھنا ہوگی۔اسی طرح جیسے مسلمانوں میں بھی تشدد پر آمادہ چھوٹے خطرناک گروہ پائے جاتے ہیں۔ اب تک مغربی دنیا دہشت گردی کو ذیادہ تر عسکریت پسند مسلمانوں کا کام ہی سمجھتی تھی لیکن نیوز ی لینڈ کرائسٹ چرچ کی مساجد پر مسلمانوں پر دہشت گردانہ حملوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام دشمنی کی بنیاد پر نفرت بھی اتنی ہی تباہ کن ہوسکتی ہے۔

ان حملوں کے  مرتکب دہشت گرد نے اپنی کارروائی کی بڑی حکمت عملی سے منصوبہ بندی کی تھی اور ہر پہلو پر قبل از وقت غور کیا تھا ۔ اس بارے میں بھی کہ وہ ان کارروائیوں کی انٹرنیٹ پر تشہیر کیسے کرے گا۔ اس ضمن میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا نے سوشل میڈیا کوقصور وار ٹھہرایا ہے جنہوں نے اس کو لائیو نشر کیا۔ اور وزیر اعظم نے فیس بک اور دوسری کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ اس ویڈیو کو بلاک کر دیں جو اس جنونی نے قتل عام کی بنائی ۔ اس اپیل کا فوری رد عمل ہوا اور ان کمپنیوں نے اس کو مزید پھیلنے سے روک دیا۔ اور ان پر مقدمہ بھی قائم ہو گیا ہے۔

یہ کسی ایک شخص کا نظریہ نہیں اور نہ ہی یہ کوئی نظریہ ہے ۔ لیکن یہ ایک ایسا خوف ہے جو دنیا کی باقی امن پسند قوموں کے دلوں میں پیدا کیا گیا ۔ ستم ظریفی یہ کہ اس دہشت گرد نے جن دنیا کے اہم لیڈروں کو اپنا ہیرو تسلیم کیا ہے ان میں امریکہ کے صدر ٹرمپ کا نام بھی شامل ہے۔

اس ضمن میں نیوزی لینڈ کی قوم نے ایک بے نظیر تاریخ رقم کی اور اس کی وزیر اعظم تو ساری دنیا کے لئے ایک مثالی عورت ثابت ہوئی۔ یہ عورت مسلمان نہ ہوتے ہوئے بھی اسلام کے بانی حضرت محمد ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے ساتھ کھڑی ہوئی نظر آئی۔ علاوہ ازیں اس نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کا آغاز ہی السلام علیکم سے کیا یعنی آپ پر سلامتی ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے تو دنیا کی ہر قوم میں اپنے رسول بھیجے تاکہ دنیا کے تمام مذاہب کااحترام انسان کے دلوں میں قائم ہو اور اس نے تو سب سے زیادہ مذہبی رواداری کے سنہری اصول ہمیں سکھائے ۔ ان میں سے ایک یہ کہ کسی کے جھوٹے معبودوں کو بھی بُرا بھلا نہ کہو۔

وزیر اعظم جیسنڈا نے کہا کہ کبھی میری زبان پر دہشت گرد کا نام نہ آئے گا ۔ ہاں میں جان دینے والوں کا نام لوں گی اس پاکستانی نعیم رشید کا نام لوں گی جس نے دوسروں کو بچانے کےلئے قاتل کی گن پکڑی اور اپنی جان دی ۔

یاد رہے دہشت گردی مختلف مذاہب ، ثقافتی شناختوں اور قومیتوں میں کوئی تفریق نہیں کرتی ۔ اس میں یہ پہلو بھی کوئی کردار ادا نہیں کرتا کہ کون کہاں پیدا ہوا تھا یا کوئی کتنے عرصے سے کس ملک یا شہر میں رہ رہا ہے ۔امن اور سلامتی کی تعلیم اور دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے تاہم یہ بات دنیا کے سامنے لائی جائے کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ دنیا کے سیاسی و سماجی اور مذہبی لیڈروں کو چاہئے عقل سلیم اور عقل فہم کے ساتھ اپنے عملی رویہ میں تبدیلی پیدا کریں۔ اور برداشت ، رواداری محبت کو فروغ دیں اور دہشت گردی نفرتوں کے رویوں کی سوچ کو ختم کرنے کےلئے مثبت کردار ادا کریں تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اور دنیا کو امن سکون میسر آئے ۔

یہ تونیوزی لینڈ کی بات ہے ہمارے ملک پاکستان میں اقلیتی مسلسل اس عذاب سے گزرتی ہیں ۔ اور پھر ہم یہ دعوے کرتےہیں کہ ہم سے زیادہ اقلیتوں کے حقوق کوئی ادا نہیں کرتا۔ ایسا ہی ایک واقعہ لاہور میں احمدیوں کی دو مساجد پر پیش آیا جن میں 90 سے زائد افراد شہید ہوئے ۔اُس وقت نہ ہی ان کے ساتھ عوام کھڑی ہوئی اور نہ ہی ریاست ۔اگر ’’ریاست ماں جیسی ہوتی ہے “کے اصول کو مان لیاجائے تو نیوزی لینڈ کی ریاست اور اس کی سربراہ وزیر اعظم جیسنڈا نے اس اصول پر عمل کر کے دنیا کو دکھادیا کہ یہ ہوتی ہے ریاست اور اسے کہتے ہیں قوم۔

دنیا نے دیکھا کہ جیسنڈا کا دل

 

درد مندی سے بھرا قاموس ہے

دیکھا جو قدسیؔ نیوزی لینڈ میں

 

اپنے ہاں سب سلسلہ معکوس ہے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *