ہندو دیو مالائی کہانیوں کو سائنسی رنگ دینے کی کوشش

 

خصو صی رپورٹ:رابعہ عظمت

بھارتی پنجاب کےعلاقے جالندھر میں منعقدہ پانچ روزہ 106ویں سائنس کانگریس ، جس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا ۔ اس میں کئی نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں سمیت دنیا بھر سے تقریباً تیس ہزار مندوبین کے علاوہ بھارت کے متعدد وفاقی وزراء بھی شریک ہوئے ۔ مذکورہ کانگریس میں بھارتی سائنس دانوں کی طرف سے ہندو دیو مالائی کہانیوں کو سائنس سے بالا تر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی جس کی وجہ سے یہ اجلاس تنازع کا شکا ر رہا۔ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے 2014ء میں اقتدار میں آنے کےبعد ہندو دیومالائی کہانیوں کو سائنسی رنگ دینے کےلئے منظم کو شش جاری ہے ۔ خود وزیراعظم نریندر مودی یہ دعویٰ کرچکےہیں کہ جدید طب آج جہاں ہے بھارت ہزاروں برس پہلے وہاں پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے پلاسٹک سرجری کی مثال دی تھی اور ہندوؤں کے بھگوان گنیش کے سر پر ہاتھی کی موجودگی کو بطور ثبوت پیش کیا تھا ۔ بی جے پی کے سنیئر رہنما اور اتراکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ رمیش پوکھریال نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نیو کلیائی طاقت سے صدیوں پہلے واقف تھا حتیٰ  کہ دوسری صدی قبل مسیح میں اسنے نیوکلیائی تجربہ بھی کیا تھا ۔ بی جے پی کے ایک اور رہنما اور تریپوراکے وزیر اعلیٰ مہابھارت کے دور میں انٹر نیٹ کی موجودگی کا دعویٰ کر چکےہیں جب کہ تعلیم کے جونیئر وفاقی وزیر ستیہ پال سنگھ نے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو غلط بتایا ۔ راجھستان کے سابق وزیر تعلیم واسو دیو د یونانی نے دعویٰ کیا کہ ایک بھارتی ماہر فلکیات نے نیوٹن سے ایک ہزار سال قبل کشش ثقل کا قانون دریافت کیا تھا۔ ان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ گائے واحد جانور ہے ، جو آکسیجن لیتی اور خارج کرتی ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر ہرش وردھن نے گزشتہ برس دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیفن باکنگ نے ویدو ںمیں درج ایک تھیوری کو آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت سے بہتر قرار دیا تھا۔ حالانکہ ماہرین نے بعد میں وردھن کے اس دعویٰ کو یکسر بے بنیاد قرار دیا تھا۔ بھارتی سائنس دانوں کی تنظیم بریک تھرو سائنس کانگریس کے حالیہ تنازعہ کے حوالے سے کہنا تھا:ہمیں جھوٹے دعووں سے بچنا چاہئے، سائنس میں ہمیشہ نئی نئی چیزیں سامنے آتی رہتی ہیں لیکن تمام دعووں کےلئے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے ‘‘۔دریں اثناء حکومت کے چیف سائنٹیفک انڈوائزر کے وجے راگھون نے اس معاملےپر صفائی دیتے ہوئے کہا،’’ سائنس کانگریس میں شامل ہونے والے مقررین کیا بولتےہیں اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی ۔ حکومت نہ تو سائنس کانگریس کا ایجنڈا طے کرتی ہے نہ ہی مقررین کا نام‘‘۔

بھارتی پنجاب یونیورسٹی کے ایک سائنس دان کا دعویٰ بھی منظر عام پر آیا ہے کہ برہما جی نے ڈائنا سور کی کھوج کی تھی اور ویدوں میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جیالوجی محکمہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اشو کھوسلے نے کہا کہ کرہ ارض کے سب سے عظیم سائنس دان برہما جی تھے، وہ ڈائنا سور کے متعلق جانتے تھے۔ برہما جی کو ڈائنا سور کے وجود کے متعلق پوری طرح واقفیت تھی، ویدوں میں اس کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔ اور راج سورس نام ڈائنا سور کی پیداوار ہندوستان میں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وید لکھتے وقت بھگوان برہما اپنی غیر معمولی روحانی طاقت سے واقف تھے، اس کا خلاصہ ویدوں میں بھی ملتا ہے۔ ڈائنا سور لفظ بھی سماج کے ڈائن لفظ سے ہوا ہے جس کا مطلب ہے بھیانک اور یہ بعد میں ڈائن اور سر میں بدل گیا۔آپ کو بتا دیں سارے لفظ اسور سے آئے ہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر ملکی ہمارے ویدوں سے ڈائناسور کے نظریہ کو لے کر گئے اور اس کا بعد میں انہیں قریب 5.6کروڑ سال پہلے رونما ہوئے ڈائنا سور کے بارے میں تحقیقات ہوئیں ۔ گانگریس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پہلی بار قدیم ہندوؤں نے سٹیم سیل پر تحقیق کی تھی ۔ جبکہ سالانہ انڈین سائنس کانگر س کے دوران آئن سٹائن آئزک نیوٹن کے نظریات کو بھی مسترد کیا گیا اور اس میں ہندو دیو مالا پر مبنی نظریات پیش کئے گئے ۔ یہ کانفرنس پہلے بھی ہوتی رہی ہے ۔ لیکن ماہرین نے کہا ہے کہ اس بار حد ہی ہو گئی ہے ۔  اجلاس میں آندھرا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہ اکہ ہندو مقدس کتا ب رامائن میں ایک بادشاہ کا ذکر ملتا ہے جسن کے پاس 24قسموں کے ہوائی جہاز تھے اور وہ انہیں سری لنکاکے ہوائی اڈوں پر اتار کرتے تھے ۔ تامل ناڈو کی ایک یونیورسٹی کے ایک سائنس دان ڈاکٹر کے جے کرشنن نے کہا کہ آئزک نیوٹن اور آئن سٹائن دونوں غلط تھے اور دریافت ہونے والی کشش ثقل کی لہروں کانام ’نریندر مودی لہریں ‘رکھنا چاہئے ۔ انڈین سائنٹیفک کانگریس ایسوسی ایشن نے اس کانفرنس میںپیش کئے جانے والے خیالات پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے ۔ انڈین سائنٹیفک کانگریس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری پریمندوماتھر کے مطابق : ’ہم ان کے خیالات سے متفق نہیں ہیں اور خود کو اس سے الگ رکھتے ہیں ۔ ریاست اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ ونیش سرما نے کہا کہ انڈیا میں قبل از مسیح ٹیسٹ ٹیوب بے بی جیسی کوئی نہ کوئی ٹیکنا لوجی موجود تھی جس کی مثال تیا جی کی مٹی کے گھڑے سے پیدائش ہے ۔ ان کے اس بیان کی وجہ سےان کا سوشل میڈیا پر مسلسل تذکرہ کیا جارہا ہے جبکہ اسیتا کے متعلق بیان کے لئے ونیش شرما کے خلاف ایک مقدمہ درج ہو چکا ہے ۔ درخواست کے مطابق وزیر نے نہ صرف لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ انہوں نے ثقافت ، وراثت اور رسوم کی توہین کی ہے ۔

ان کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو یادو کی بیٹی اور ایوان بالا کی رکن ڈاکٹر میسا بھارتی نے ٹویٹ کر تے ہوئے اسے ’سیتا جی کی توہین‘ قرار دیا اور لکھا : ’’سیتا جی کی توہین پر سنگھی ، بھاجپائی ، سادھوی ، یوگی کو کچھ بھی قابل اعتراض نہیں لگا۔ خواتین کی مخالفت ان کا اصل کردار ہے ۔ اسی لئے’سیتار ام ‘ کے خیرمقدم کرنے والے فقرے سے سیتا کو ہٹا دیا اور ’جے شری رام ‘ کے نعرے میں بدل دیا۔

بی جے پی لیڈر ونیش شرمانے لکھنؤ میں ’یوم ہندی صحافت ‘کے موقعہ پر صحافیوں سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ ’صحافت کی ابتداء مہابھارت دور میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے دعوے کے ثبوت میں معروف رزمیہ ’مہا بھارت ‘ کے واقعے کا ذکر کیا جس میں سنجے نام کے کردار ہستنا پور میں بیٹھے دھرتراشٹر کورکشیتر میں ہونے والی جنگ مہابھارت کا آنکھوں دیکھا حال سنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا : ’ یہ لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں تو اور کیا ہے؟‘دراصل ہندو قوم پرست رہنما اپنے شاندار ماضی کی تصویر کشی کےلئے ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ قدیم ہندوستان سائنس اور ٹیکنالوجی کےمعاملے میں موجودہ دور سے کہیں آگے تھا۔قبل ازیں انسانی وسائل کے نائب وزیر ستیہ پال سنگھ نےدعویٰ کیا تھا کہ نیوٹن سے صدیوں قبل انڈین منتروں میں ’لا آف موشن ‘ کو پیش کیا جا چکا تھا۔ اسی طرح کے نہ جانے کتنے دعوے کئے جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ مور کے آنسو سے مورنی حاملہ ہوتی ہے ۔مورتارک الدنیا ہوتاہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ گائے میں ہزاروں دیوی دیوتا رہتےہیں اور جب  وہ سانس لیتی ہے تو جراثیم مرجاتےہیں ۔ ہندو قوم پرستی کے جذبے کو فروغ دینے کےلئے نہ جانے ایسی کتنی باتیں کہی جا رہی ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *