درس القرآن

1اَوْفُوا الْکَیْلَ  وَ لَا  تَکُوْنُوْا  مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ۔ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ۔ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ۔ وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیْنَ۔ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ۔ وَ مَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ  مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ۔ فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ۔(الشّعرآء: 182 تا 188)

(اے لوگو) پیمانہ پورا (بھر کر) دیا کرو اور (دوسروں کو) نقصان پہنچانے والے مت بنو۔ اور سیدھی ڈنڈی سے تولا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں (ان کے حق سے) کم نہ دیا کرو، اور ملک میں ہرگز   فساد نہ کیا کرو(۱)۔ اور جس نے تم کو اور تم سے پہلی مخلوقات کو پیدا کیا ہے اس کا تقویٰ اختیار کرو۔ (اس پر اس کی قوم نے) کہا تو ایسا (شخص) ہے جسے غذادی جاتی ہے(۲ )۔ اور تو صرف ہماری طرح کا ایک انسان ہے اور ہم یقینا تجھے کاذب سمجھتے ہیں۔ پس اگر تو سچا ہے تو ہم پر کوئی باد ل ٹکڑا گرا (۳ )۔

تفسیر:

(۱)عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب کسی فعل کے بعد اس کے مطابق معنی حال کو لایا جائے تو اس کے معنے زور دینے کے ہوتے ہیں اور اُردو میں اس کا ترجمہ ’’ہرگز‘‘ یا ’’بالکل‘‘ سے کیا جائے گا۔ کیونکہ لفظی ترجمہ بے معنے ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہو گا کہ زمین میں فساد کرتے ہوئے سخت فساد نہ کیا کرو۔ اور ظاہر ہے کہ یہ معنے درست نہیں لیکن جب ہرگز اور بالکل سے اس کا ترجمہ کیا جائے تو صحیح ترجمہ ہو جائے گا اور یوں بنے گا کہ ملک میں بالکل یا ہرگز فساد نہ کیا کرو۔ (۲)یعنی حضرت شعیب علیہ السلام پر بھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی جیسا کہ دوسری آیتوں سے ثابت ہے اور اسی طرح کئی دوسرے انبیاء پر وہی الزام لگایا گیا، جو حضرت مرزا صاحب کے دشمنوں نے آپ پر لگایا تھا کہ آپ کو انگریز روپیہ دے کر کام کرواتے تھے ورنہ دل سے وہ اپنے عقائد کے قائل نہ تھے۔ حضرت شعیب ؑ  کو اُن کے دشمنوں نے یہی کہا ہے کہ تجھ کو کوئی شخص یا جماعت روپیہ دے دے کر ان باتوں پر اُکسا رہی ہے ورنہ تُو دل سے اِن باتوں کو نہیں مانتا۔ (۳)  سَمَآئِ کے معنے عربی زبان میں بادل کے بھی ہیں اور آسمان کے بھی۔ آج کل ہندو پاکستان میں اس قسم کے عذاب کثرت سے آرہے ہیں اور بارشیں ہیں کہ تھمتی ہی نہیں۔ (تفسیرِ صغیر صفحہ 479)

حدیث : عہد شکنی کی سزا

آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں بہت غریب ہوں، غربت سے تنگ آگیا ہوں۔میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے رزق میں برکت ڈالے اور مجھے اپنے فضل سے بہت مال و دولت عطا فرمائے۔ اس نے یہ اظہار کیا کہ اگر خدا مجھے دے گا تو میں اس طرح بڑھ بڑھ کے اسکی راہ میں قربانیاں دوں گا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کے لئے دعا کی اور اس کے مال میں ایسی برکت پڑی کہ کثرت کے ساتھ اسکی بھیڑ بکریاں اور مال مویشی بڑھنے لگے۔ جب آنحضرت ﷺکے نمائندے اس سے زکوٰۃ لینے گئے تو اس نے جواب میں کہا کہ کسی کا مال دیکھ کر تم زکوٰۃ لینے کے لئے آ جاتے ہو لیکن یہ پتہ نہیں کہ کوئی کس محنت سے کماتا ہے اور یونہی مفت میں مال ہاتھ نہیں آ جاتا۔ غرضیکہ اسی طرح اس نے بڑھ بڑھ کر باتیں بنائیں اور وہ نمائندے اس سے بغیر کچھ وصول کئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کی آپؐ کو اطلاع دی۔ یہ سن کر آنحضرت  ﷺنے یہ حکم صادر فرمایا کہ آئندہ اس سے کبھی خدا کے نام پر کوئی مال نہیں لیا جائے گا۔  روایات میں آتا ہے کہ دیر کے بعد اسے احساس ہوا کہ میں اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا ہوں۔ وہ آیا اور آنحضرت ﷺ سے معافی مانگی کہ میں اب سب کچھ دینے کے لئے تیار ہوں مگر آپؐ نے فرمایا کہ کبھی ایسا نہ ہو گا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺکے وصال کے بعد پھر وہ حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا رسول اللہ ﷺ کا تو وصال ہو چکا ہے میں مال پیش کرنا چاہتا ہوں قبول کیا جائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ جس کے مال کو محمد رسول اللہ ﷺ ردّ فرما چکے ہیں ابوبکر بن ابی قحافہ کون ہوتا ہے اسکو قبول کرنے والا۔ پھر وہ حضرت عمرؓکی خدمت میں حاضر ہوا اور آ کے یہی پیشکش کی۔ انہوں نے بھی یہی کہا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *