لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

موجودہ حکومت آئندہ آنے والے دنوں میں ایک ایسا معاہدہ /ڈیل کرنے کی کوشش کررہی ہےجس سے دونوں بڑی جماعتوں کے لیڈروں کو ریلیف ملنے والا ہے ۔ اس  نئی ڈیل NRO کے تحت سیاسی لیڈروں کے بیرونی اساسے اور عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات پر عمران خان یوٹرن لینے والے ہیں ۔ حکومت اس سے قبل بھی کئی بار ایسا کر چکی ہے ۔  تجزیہ کاروں اور باخبر ذرائع ابلاغ کی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ نواز شریف اینڈ فیملی اور آصف علی زاداری ایند کمپنی کوئی ایسی ڈیل کےلئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے اس سے قبل اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے ساتھ ڈیل / معاہدہ کر وا چکی ہے بطور چیئر مین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ۔ یہ معاہدہ ایسا تھا جس کو کوئی ذی شعور انسان پسند نہیں کرتا ۔ یعنی دودھ کی رکھوالی پر بلی کو بٹھا دینا کہاں کا انصاف ہے ؟ مقولہ ’’ لوٹ کے بدھو گھر کو آئے ‘‘درست ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاکستان میں ایسے واقعات ممکن ہیں اوریہی ہمارا جمہوری نظام ہے۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہوگی ۔ اس لئے کہ پاکستان میں پلی بارگین کا قانون موجود ہے ، جس کے تحت ایسا معاہدہ طے پاسکتا ہے ۔

جہاں تک بات ہے کرپشن کی تو دونوں بڑی جماعتوں نے اپنے دور میں کرپشن کے عالمی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ اگر ہم صرف سندھ کے ایک شعبہ کی بات کریں تو سندھ کے عوام گزشتہ سالوں سے ایک ہی بات سوچ رہے ہیں۔  وہ یہ کہ آخر ترقیاتی بجٹ اور NFCایوراڈ کے سالانہ 3-4کھرب روپے کہاں جاتےہیں ۔ اور  اگر جاتے ہیں تو لوٹ کے بدھو کی طرح گھر واپس کیوں نہیں آتے؟ اس ضمن میں سعودی مثال کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ سعودی شہزادوں نے جو کرپشن کی تھی ۔ ان کے کاغذات ثبوت بھی اسی طرح ترتیب دیئے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک ایک رسید اور ثبوت موجود ہیں ۔ لیکن سعودی ریاست نے کہا ہم جانتے ہیں آپ نے پکا کام کیا ہے لیکن کرپشن تو بہر حال ہوئی ہے ۔لہٰذا تمام کرپشن کی رقم ریاست کو واپس کرو۔ نازو نعم میں پلے ان گرفتار شہزادوں کو ایک 5 اسٹار ہوٹل میں ایک ماہ قید رکھا تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اسی طرح کھربوں ریال حکومت کو مل گئے۔ اور پھر ایک معاہدہ کے بعد ان کو چھوڑ دیا گیا۔ پڑوسی  ملک چین میں تو ایسے عناصر کو گولی سے اڑا  دیا گیا۔ اور ہزاروں کو عمر قید کی سزائیں ہوئیں ۔ موجودہ حکومت کے لئے سعودی فارمولہ زیادہ بہتر، آسان اور مفاہمت والا لگتا ہے ۔سیاسی جوڑ توڑ اور مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری اینڈ کمپنی اس وقت سخت پریشان ہیں  اور اسی طرح نواز شریف فیملی یہ دونوں سعودی فارمولہ ڈیل نہیں چاہتے کچھ اور حل چاہتے ہیں ۔ اس لئے کہ سعودی طرز ڈیل سے ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا ڈر ہے ۔ لیکن پاکستان کے اہم ادارے دہشت گردی سے زیادہ کرپشن کے خلاف کارروائی پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر ان کی توجہ سندھ پر مرکوز ہے۔

اس ضمن میں ایک ہزار جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔  جن کے ذریعے اندازہ ہے کہ ہزاروں ارب روپیہ بیرونی ممالک منتقل کیا گیاہے ۔ جعلی بنک اکاؤنٹس کی کہانی میں حیرت انگیز طور پر کرپشن کے واقعات ہیں ۔ 

اگر صحیح طور پر اس کی انکوائری منظر عام پر آتی ہے تو ہوش اڑا  دے گی۔ علاوہ ازیں ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھے گئے ہیں کہ جب کوئی جماعت دیوار سے لگ جاتی ہے تو وہ معمول سے ہٹ کر اور قانون و آئین سے بالا تر کوئی حل سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔مشرف دور میں نواز شریف کو سزائیں ہوئیں تو سعودی اور لبنانی اثر و رسوخ سے وہ سزاؤں کے باوجود بیرون ملک روانہ ہو گئے ۔ اس بار شریف خاندان کو بلاد عرب سے اور ترکی سے مدد ملنے کی توقع نہیں ہے ۔ قومی  مفاد کے نام پر پہلے بھی سیاسی مفاد قربان ہوتے رہے ہیں ۔ اب بھی یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا ۔

اگر حکومت سعودی طرز ڈیل کے تحت ان لیڈروں سےمعاہدہ کر پاتی ہے تو عمران خان حکومت کوفائدہ ہو گا ورنہ نقصان ۔ چونکہ عوام نے ان کو کرپشن اور احتساب کی بنیاد پر ہی ووٹ دیئے ہیں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *