ساقیٔ کوثر

(ثاقب زیروی صاحب)

صدا بہ لب ہوں فقط رحمت و کرم کیلئے

درِ حضورؐ پہ آیا ہوں شرحِ غم کیلئے

تِری عطا تِری بخشش ہے ماورائے حدود

نہ تُو عرب کیلئے ہے نہ تُو عجم کیلئے

بُتوں کی تنگدلی پر کبھی نظر نہ گئی

مَیں بے قرار رہا وسعتِ حرم کیلئے

جو آستانِ محمدؐ پہ ڈال دے مُجھ کو

ترس رہا ہوں اُس اِک لغزش قدم کیلئے

دعائے نیم شبی کس کی رنگ لائی ہے

ستارے رقص میں ہیں کس کی چشمِ نَم کیلئے

مِلا ہے جیسا بھی، جتنا بھی، مطمئن ہوں میں

مجھے دماغ نہیں فِکر بیش و کم کیلئے

کرم کا ایک سہارا، کرم کی ایک نظر

نہیں ہے زادِ سفر منزل دم کیلئے

بہت ہے بادۂِ یثرب کا ایک پیمانہ

بڑھایا ہاتھ نہ ثاقبؔ نے جامِ جم کیلئے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *