خاور نعیم ہاشمی ۔چیف ایڈیٹر مساوات کے ساتھ خصوصی انٹرویو

انٹرویو:محی الدین عباسی مدیر اعلیٰ

سوال:   کیا آپ کی فیملی میں کوئی صحافی یا صحافت سے کوئی تعلق تھا جن کو دیکھ کر آپ صحافی بنے؟

جواب:     یہ حقیقت میں پہلی دفعہ آپکو بتارہاہوں لوگ اِس جگہ پہنچ نہیں سکتے کیونکہ ہماری سوچ سطحی ہے۔ میں ابھی سکول میں داخل نہیں ہواتھا

یہ باتیں اب تک مجھے یاد آتی ہیں اُس وقت میرے والد ایکٹنگ کیساتھ پروڈیکشن بھی کرتے تھے۔ اُنکی ایکشن ،ڈریکشن، رائٹنگ، شاعری وغیرہ تھی۔ فلم میں وہ کام کرناذیادہ پسند نہ کرتے تھے خاص طور پر پنجابی فلموں میں تو بالکل نہیں۔اُردو فلم میں کام کرتے تھے پھر انکی شرطیں ہوتی تھیں کہ اپنے ڈائیلاگ میں خود لکھوں گاوغیرہ۔ انہوں نے 100سے زیادہ فلمیں کی ہیں لیکن ایسے ہی جب آپ پروڈیکشن کرتے تھے میرے خیال میں 1959ء کی بات ہوگی ہمارے گھر میں ایک کھاتے والا رجسٹر تھالمباسااُس پر کسی صاحب نے فلم کی کہانی لکھی تھی پوری کہانی اور اُس سکرپٹ پر عنوان لکھاتھا’’مزارِ یار‘‘مجھے یاد ہے کہ آخر میں کوئی ٹریجڈی ہوتی ہے محبوبہ مرجاتی ہے میں نے وہ کہانی اُس وقت پڑھی تھی جب میں ابھی سکول بھی نہیں گیاتھااُس وقت میری عمر 5یا 6سال ہوگی اور مجھے وہ آج بھی یاد ہے۔اسکے بعد میرے والد صاحب کی وفات ہوگئی والد ہ صاحبہ دوسرے مکان میں چلی گئی اور میرابھائی کنگ ایڈورڈ میں MBBSکاطالبعلم تھا وہ ہاسٹل میں ہی رہتاتھا گھر میں میں یامیرے دوست ہوتے تھے یاکوئی مہمان آجاتے تھے ۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے کچھ مہمان آگئے تو مجھے اُوپر جانا پڑا رضائی لینے۔ پہلے زمانہ میں لوگ لکڑی یا لوہے کی پیٹیوں میں اس طرح کی چیزیں رکھا کرتے تھے۔ میں نے جب پیٹی کوکھولا تو اس میں سے مجھے رجسٹر ملاجس پر لکھاتھا کہ فلاں کی شادی پر اتنے خرچ ہوئے فلاں کو اتنے دیئے وغیرہ وغیرہ پہلے زمانہ میں لوگ اسی طرح کا حساب رکھاکرتے تھے ۔اُس رجسٹر میں ایک کاغذ پڑا تھا بڑا ساتہہ لگاہوا۔میںنے اُسکو کھولاتو اُس پر میراسٹار بناتھا اور اس پر میرازائچہ بناہواتھااور اُس کے پیچھے میرے بھائی کا زائچہ بناہوا تھا میں نے اپنا زائچہ دیکھا تو اُس پر لکھا ہواتھا کہ اس بچے کا بڑے ہوکر روزگار لکھنے پڑھنے سے وابستہ ہوگا۔آج مجھے نوکری کرتے ہوئے 48سال ہوگئے ہیں میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اپنے اس کام کے علاوہ ایک روپے کا بھی کوئی کام نہیں کیا میں کرہی نہیں سکتاکوشش بھی کروں تو ممکن ہے کہ نہ ہو۔ میرے بھائی کے زائچہ میں لکھا تھاکہ یہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنے گاوہاں وہ یہ بھی لکھ سکتاتھا کہ اُس کا تعلق میڈیکل کی کسی فیلڈسے ہوگاکیونکہ میڈیکل میںکئی شعبے آتے ہیں تو وہ ڈاکٹر ہی بنااور اس وقت وہ کینڈا میں سرجن کے طور پر کام کررہا ہے۔ پہلے وہ میوہسپتال میں رجسٹرارتھااور اسسٹنٹ پروفیسر بھی تھا۔اس کا ایک کلاس فیلو عاطف کاظمی تھا اُس کے والدڈاکٹر شبیرتھے وہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے اور سکن سپیشلسٹ تھے وہ ریٹائر ہورہے تھے کسی کوان کی جگہ پروفیسر بننا تھاوہ اپنے بیٹے کی کوشش کررہاتھا اور میرا بھائی کہہ رہاتھا کہ میں سینئر ہوں اس لیے میں بنو۔میرابھائی ہائی کورٹ میں چلاگیاوہاں میرے بھائی کے خلاف فیصلہ ہوگیا اس فیصلہ کے بعد وہ دل برداشتہ ہو کرپاکستان چھوڑکر چلاگیا۔

سوال :    وہ زائچہ آپ کے والد صاحب نے خود بنایا تھا یاکسی سے بنوایاتھا؟

جواب:    وہ زائچہ داتادربار صاحب جوگلی جاتی ہے جس میںپھولوں کی دوکانیں ہیں ا س سے تھوڑاساہٹ کر جائیں تو ایک دوسری گلی آتی ہے جو بہت چوڑی ہے وہاں ہمارامساوات کا دفتر تھا۔ 70ء کی بات ہے اس دفتر کی وجہ سے ہمارا وہاں آنا جانا تھا وہاں ایک بوڑھا آدمی ہوتاتھا جو اکثر اوقات زمیں پر آگ جلا کر حقہ بھرا کرتاتھا بہت دبلا پتلہ بوڑھا ساتھا۔ اس نے یہ زائچہ میرے والد صاحب کو بنا کر دیاتھا لیکن میرے دل میں یہ کبھی خیال نہ آیا کہ اس سے پوچھ لوں اور نہ ہی کبھی ہمت پڑی یہ ان کے چہرے کی کیفیت یارعب کی وجہ سے تھا۔وہ بابا جی فوت ہوچکے ہیں اب انکا مزار بنا ہواہے وہاں پر بہت لوگ آتے جاتے ہیں نام میرے ذہن میں نہیں ہے۔ جب میں نے جرنلیزم شروع کیا تو یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں تھرڈائیر میں تھا تقریباً 70,71کازمانہ تھا اوروہ یحيٰ خان کازمانہ تھا جب ایوب خان حکومت چھوڑ کرچلاگیاتھامظاہرے وغیرہ ہورہے تھے ۔ اُس زمانہ میں لاہور کے جتنے کالجز، یونیورسٹیز، وغیرہ تھیں وہاں جتنے  پروگریسوافراد تھے انکو نکال دیاگیاتھا۔ انہی استادوں میں ایک ایریک سپرینٹ صاحب تھے وہ انگریزی زبان کے بڑے استاد سمجھے جاتے تھے اور گورنمنٹ کالج میں بھی لیکچر دیا کرتے تھے۔ ایک منظور احمد صاحب تھے ابھی بھی زندہ ہیں ایک امین مغل صاحب تھے اسطرح کے بڑے نام کے لوگوں نے مل کر اپنا ایک لگ کالج بنالیاجسکانام شاہ حسین کالج رکھا میں بھی وہاں داخل ہوگیا ۔ایک دفعہ میںنے وہاں الیکشن بھی لڑا اور میں جیت گیا تو مجھے کالج نے یونین کے لیے ایک کمرہ دے دیا۔ایک دن میں یونین کے کمرے میں تھا دراز کھول کر کچھ نکال رہاتھا کہ میرے پیچھے پروفیسر مظفر عباس صاحب جو کے ماشاء اللہ اب بھی کافی ایکٹو ہیں وہ آگئے۔ لکھتاتو میں رہتاتھا لیکن کسی کو میرا پتہ نہ تھا کیونکہ جو لکھتا پھاڑ دیتاتھا گھر میں کوئی واقعہ ہوا اس پر لکھ دیا پھر پھاڑ دیا یاکہیں کوئی بات دیکھی اس پر لکھ دیا مظفرعباس صاحب مجھے کہنے لگے کہ خاور تمہارے پاس کوئی افسانہ ،غزل یا کہانی پڑی ہے۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں کوئی رائٹرتونہیں پھر میں نے کہا جی ہاں پڑا ہواہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہمارے باہر ایک بزم ادب کا اجلاس ہورہا ہے جس نے کہانی پڑھنی تھی وہ نہیں ہے نظم والا لڑکا موجود ہے توکہانی پھر آپ پڑھ دو۔ جب تنقیدی مجالس ہوتی ہیں ان میں زبانی پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی لازم ہوتاہے کہ آپ نے جو پڑھنا ہے اس کو لکھ کر لائیں دوسرا یہ کہ اس کی کاپیاں بھی ہوں جو آپ نے تقسیم کرنے ہوتے ہیں جو بعد میں لوگ اس پر بات چیت کرتے ہیں۔ وہاں سے میں نے کچھ کاغذ پکڑے ایسے ہی باہر گیاوہاں 50یا100کے قریب افراد بیٹھے تھے اور اُس پروگرام کو ایریک سپرینٹ صاحب سپروائز کر رہے تھے۔ آپ کاپاکستان کے تعلیم کے شعبہ میں بڑا نام ہے بڑھاپے میں پھر وہ مسلمان ہوگئے تھے اور اس کی وجہ آپ کی مسلمان عورت سے شادی تھی۔ اس کے بعد آپ نے اپنا نام اعجاز سپرینٹ رکھ لیا تھا ۔سٹیج پر آپ کے ساتھ والی کرسی خالی تھی میں وہاں جا کر بیٹھ گیا خود اعتمادی مجھ میں بہت زیادہ تھی میری باری آئی تو میں نے وہ پیپر سیدھے کر کے ایک کہانی پڑھنی شروع کی اور تقریباً10یا15منٹ میں وہ کہانی ختم ہوئی تو اُس پر بات چیت شروع ہوئی کہ رائٹر کیا چاہتا ہے اسکے لکھنے کا کیا مقصد ہے وغیرہ وغیرہ ۔میں بہت خوش ہو اکہ میرے مضمون پر اتنی زیادہ بحث ہوئی اور لوگوں نے میری کہانی کے اتنے پہلو نکالے ہیں ۔ اس کے بعد میں واپس آگیا اگلے دن ہماری کلاس میں امین مغل صاحب ہمیں انگریزی پڑھارہے تھے توچپڑاسی آیا اور کہنے لگاکہ خاور صاحب کو ایرک سپرینٹ صاحب دفتر میں بلاتے ہیں میںدفتر میں گیا اور بڑے ادب سے کھڑے ہو کر کہا کہ سر آپ نے مجھے بلایا تھا کہنے لگے ہاں بھائی ۔ان کی اردو کچھ اچھی نہ تھی کہنے لگے میں تم سے ایک بات پوچھے گا تو تم بُرا تونہیں مناؤگے؟ سچ بولو گے؟ جھوٹ تو نہ بولوگے؟میں نے کہا نہیں سر آپ جو پوچھو گے سچ سچ بولوں گا۔کہنے لگے کل آپ نے فراڈ کیا ہے بہت بڑا فراڈ آپ کے پاس خالی پیپر تھے اور آپ لوگوں کو تأثر دے رہے تھے کہ جیسے آپ پیپر سے دیکھ کر پڑھ رہے ہو یہ تو فراڈ ہے۔ میں نے کہا کہ جناب مجھے لکھنے کا شوق ہے مجھے کہا گیاتو میں نے کر لیا واقعتا میںنے لکھاہوانہیں تھا۔اُسی کالج کے سامنے روزنامہ آزاد کا دفتر تھا ابھی پاکستان ٹوٹا نہیں تھا ٹوٹنے والاتھا۔بھٹو صاحب نے اپنا ذاتی اخبار مساوات کے نام سے نکالا تھااو رایک ہفت نامہ تھا جس کا نام نصرت تھا ۔مجھے ایرک سپرینٹ صاحب نے ایک رقعہ دیا اور کہا کہ جاؤ اور آزاد کے دفتر میں مل کر آؤ۔ آزاد اس وقت شیخ مجیب الرحمان کاتھا وہ عوامی لیگ کاترجمان تھا یہاں اُنکا ایک نمائندہ کھڑاتھا جو الیکشن ہارگیاتھا۔ جب پاکستان ٹوٹا تو وہ اخبار بھی ختم ہوگیا۔تو میں وہ رقعہ لے کر گیا وہ رقعہ رحمان صاحب کے نام تھا انہوںنے پڑھا تو مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہانیاں وغیرہ لکھ لیتے ہومیں نے کہا جی ہاںکہنے لگے ایک کہانی لکھو ۔ ان کے روزنامہ کا ایک صفحہ مخصوص تھا اوپر والا آدھا حصہ خواتین کے لیے جس کا نام ’’ترنجن‘‘تھا اور نیچے والا حصہ بچوں کاتھا جو’’بچے بالے‘‘ کے نام سے تھا۔تو میں نے اُن سے کہا کہ ٹھیک ہے جناب میں لکھ دیتاہوں۔ پھر میں کیری اون ہوٹل چلا گیاوہان کافی رش تھا اور شور بھی بہت تھا اُونچی اُونچی آوازیں آرہی تھیں میں نے کھانے کا آرڈر دیا اور کہانی لکھ دی۔ پھرانکے پاس لے گیا کہانی چھپی تو وہ مجھ سے کہنے لگے کہ آج کے بعد تم بچوں کا اخبار سنبھالو گے بس اُس کے بعد کبھی پیچھے مُٹر کر دیکھنا نہیں ہوا بس آگے آگے چلتے گئے۔ پھر ملک ٹوٹ گیا اور وہ اخبار بند ہوگیالیکن مجھے لکھنے کا نشہ لگ گیا تھا اُس زمانہ میں میں کراچی بھی گیا وہاں اخبار مشرق کا خواتین نکلتاتھا اس میں ولایت علی اصلاحی صاحب ایڈیٹر تھے انکا بیٹا میرا کلاس فیلو تھا ۔اصلاحی صاحب سے بات کی کہ اگر میںکراچی آجاؤں مجھے لکھنے کی ضرورت ہے تو آپ میری کیا مدد کروگے۔ اصلاحی صاحب نے کہا کہ تم آجاؤ اور تم مجھے ہر ہفتہ دو ہفتہ مضمون دیاکرو گے وہ چھپے نہ چھپے تم کو ایڈوانس رقم مل جائے گی50روپے ایک آرٹیکل کے ۔اس طرح میرا جیب خرچ لگ گیا اور میں کراچی چلاگیا ۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہم ڈرگ روڈ سے پیدل ائیر پورٹ جایا کرتے تھے اُس کے سامنے ایک ہوٹل ہوتاتھا 2روپے کی کافی ملا کرتی تھی وہاں ہم جایاہی اس وجہ سے کرتے تھے کہ وہاں کپل ڈانس بھی ہوا کرتاتھا تو 2روپے میں سب کچھ مل جاتاتھا۔ پھر وہاں میری ملازمت بھی ہوگئی وہاں ایک ماہانہ رسالہ نکلتاتھا’’افسانہ‘‘انہوں نے 200روپے ماہانہ مجھے دینے شروع کردیئے میں انکی ایڈیٹنگ کرتاتھااور سلیکشن کرتاتھا کہ کیا چھاپنا ہے اور کیا نہیں ۔پھر میں وہاں سے پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے وقت واپس آگیامیرے والد صاحب نے مجھے فون کیا خود نہیں بلکہ انکے ایک دوست جن کو وہ استاد سمجھتے تھے ایم اسماعیل صاحب انہوں نے فون کیا اور کہا کہ’’کاکامیں اسماعیل بول ریاواں‘‘ میں نے پہچان لیااور پوچھا جی پا جی تووہ کہنے لگے’’تیراپیوبڑا ُداس اے توچھیتی نال واپس آجا‘‘ میں واپس آگیا اور پھر ایک سال تک نوکری ڈھونڈتارہا۔

سوال:    کتنا عرصہ آپ نے وہاں کراچی میں گزارا؟

جواب:     تقریباً 5یا6ماہ پھر واپس آکر نوکری ڈھونڈتارہالیکن نہ ملی ہمارے والد صاحب ان دنوں لکشمی چوک میں ایک ہوٹل ’’کنگ سرکل‘‘ ہے وہاں اُن کی ایک کرسی

 اور ٹیبل مخصوص تھا وہ وہاں ہی بیٹھتے تھے دوپہر کے وقت میں آوارہ گردی کرتے ہوئے وہاں بھی چلاجاتاحال چا ل بھی پوچھ لیتا والد صاحب مجھے کھانا کھلاتے اور پیسے بھی دے دیا کرتے تھے۔ ایک دن میں نے دروازہ کھولاتو دیکھا کہ والد صاحب کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا ہے۔ میں نے سوچا کہ بڑی عجیب بات ہے کہ مجھے نوکری چاہئے میں نے والد صاحب کو کہا بھی تھا یہ جو آدمی انکے سامنے بڑے ادب سے بیٹھا ہے وہ اخبار کاایڈیٹر ہے وہ نذیر ناجی تھا ۔جب وہ چلا گیاتو میں اپنے والد صاحب کے پاس گیا میں نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ مجھے نوکری چاہئے اور یہ جو سامنے بیٹھا تھا مساوات کاایڈیٹرتھا تو میرے والدصاحب کہنے لگے کہ بیٹا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انکو کام نہیں کہتے ۔پھر میں نوکری ڈھونڈنے لگ گیاپھر چند دن بعد میں نے کہا کہ اگر آپ آغا شورش’’چٹان‘‘ کو کہہ دیں وہ او رمیرے والد صاحب مجلس احرار میں ساتھ تھے اور کلاس فیلو بھی رہ چکے تھے اور اس کے علاوہ ’’پیسہ اخبار‘‘میں محلہ دار بھی تھے تو کہنے لگے کہ میں نے آغا شورش کوکہہ دیا ہے تم انکے پاس چلے جانا۔میں اسکے کمرے میں گیا گرمیوں کے دن تھے دھوتی اُس نے پہنی ہوئی تھی اور بولتابھی بہت سخت تھاجیسے کہ کون اے تو، اتھے کی لین آیاایں، کی ناں اے تیرابڑی سخت اور اونچی آواز سے کہتا اگلا ڈر جائے۔ میںنے کہا کہ میں نعیم صاحب کابیٹا ہوں انہوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجاہے کہ آپ نظامی صاحب سے بات کریں تو انہوں نے کہا کہ اچھا میں کروں گا ۔میں اگلے دن پھر چلاگیااور مستقل مزاجی کے ساتھ بلاناغہ جاتاجب جاتا وہ مجھے یہی کہتا’’چل چل ہلے گل نہیں ہوئی کراں گا تے دساں گا‘‘ اسکے باوجود میں روزانہ اسکے پاس چلاجاتا ایک دن میں گیا تو اُس نے مجھے سیدھی گالیاں دینی شروع کردی۔ میں حیران ہوا میںنے پوچھا چاچاجی کیا ہوا ہے توکہنے لگے ’’او تو کمیونسٹ ایں‘‘میں نے کہا وہ کیا ہوتاہے کہنے لگے کہ ’’اوتو سوشلسٹ نہیں ایں؟‘‘ میں نے کہا وہ کیا ہوتاہے کہنے لگے او تو شاہ حسین کالج نہیں پڑدا سیں‘‘میں نے کہا جی ہاں تو کہنے لگے کہ’’فیر سوشلسٹ ای ہویانہ‘‘ کہتا کہ مجھے تو پتہ نہیں چلنا تھا وہ تو میں نے مجید نظامی صاحب سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ لڑکا تو ہے ہی سوشلسٹ تو اس دن میں نے فیصلہ کیا کہ پوری زندگی جتنی مرضی مجبوریاں آجائیں ’’نوائے وقت‘‘ میں نوکری نہیں کرنی۔

پھر 1973ء آگیا ابتدائی مہینے تھے تو ہمارے سید عباس اطہر صاحب جو کہ’’ آزاد‘‘ اخبار میں نیوز ایڈیٹر تھے بعد میں مساوات میں چلے گئے تھے انہوں نے ایک جعلی سُرخی لگائی تھی ادھر ہم اُدھر تم وہ بھی میری موجودگی میں بنی تھی میں وہاں ہی تھا ۔جب یہ فیصلہ ہوامطلب عبداللہ ملک صاحب باتیں کررہے تھے تو ہمارے نثار عثمانی صاحب تھے انکا گھر آزاد اخبار کے ساتھ کھلی جگہ پرہی تھاوہاں ہی وہ رہتے تھے۔ شام کو گفتگو کرتے تھے اور عبداللہ ملک صاحب بھٹو صاحب کی کسی پریس کانفرنس کاذکر کررہتے تھے کہ آج بھٹو صاحب نے یہ کہا ہے۔ نثار عثمانی نے کہا کہ اسکا مطلب تویہ ہواکہ وہاں تم یہاں ہم ۔انہوں نے صرف مطلب ہی اخذ کیا وہاں عباس اطہر صاحب تھے وہ نیوز روم گئے اور وہاں انہوں نے سُرخی لگادی جو تاریخ بن گئی۔ 1973ء میں مساوا ت میںچلاگیا انہوں نے مجھے فلم کے صفحہ کاایڈیٹر بنادیا4صفحات نکالتے تھے۔ ہفتے میں دو دفعہ کالم بھی لکھنا شروع کیا’’فردوسی تائب‘‘ کے نام سے وہاں جوایڈیٹر تھے وہ بڑے لیول کے لوگ تھے شوکت صدیقی تھے میں اُنکے پاس ایک دو گھنٹہ ضرور بیٹھتا وہ سخت تھے۔ میں اکثر لیٹ ہوتاتھا تو راستے سے میں پان بھی لے آتاتھا تاکہ انکوباتوں میں لگائے رکھوں۔ میں نے اُن سے ٹرانسفر کی بات کی تو نہ مانتے تھے کہتے تھے کہ تم یہی کام کرو ۔محبت کا رشتہ ہوگیا تھا ان کے ساتھ لیکن مجھے جانا تھا پھر مان گئے اور کہنے لگے کہ ایک شرط پر کہ تم ہفتے کی ڈائری لکھ کر دیا کرو گے ۔ان کے پیغامات ملتے رہتے میں ڈائری بھیجتا نہ تھا مرضی سے لکھتا مرضی سے کام کرتا انکا حکم نہ مانتا تھا۔ ایک دن اُنہوں نے عباس اطہر صاحب کو فون کیاکہ اس نے وعدہ کیا تھا اب ڈائری نہیں بھیجتا تم اسکو فوری طور پر ہٹا دو تو اس نے کہا کہ یہ بڑی سزا ہے کوئی اور دے دیں۔کہنے لگے تم اسکو واپس کراچی بھیج دو جب تم اسکو کراچی بھیجو گے تو مجھ کو بتادینا جب اسکی ٹرین ملتان پہنچے گی تو راستہ میں اسکو ڈس مس کردیں گے۔ آخری لمحہ تک اچھا تعلق رہا پھر مارشل لاء لگ گیا ۔جنگ اخبا رآیا اس میں دائیں بازو والوںکاقبضہ تھا(جماعت اسلامی )والوں کا اس میں داخل ہواتو وہ مجھے برداشت نہ کرتے لیکن ایک ایک کرکے سب نکل گئے میں وہیں رہا ۔وہاں سب ایڈیٹر کے طور پر کام شروع کیا 2002ء میں جب میں نے چھوڑا اُس وقت میں ایڈیٹر تھا۔

سوال:    یہ کوڑوں والاکیا ماجرہ تھا؟

جواب:    گرمی کادن تھا 13مئی تھی اِس وقت ’’چلڈرن کمپلکس‘‘جو باغ جناح کے پاس ہے وہاں عدالت ہوتی تھی مارشل لاء ایڈمنسٹیٹر کی عدالت ۔وہاں چار

 چار آدمی گرفتاری دیتے تھے ایک گروپ کی شکل میں اور ہم جن چار آدمیوں کو سزا ہوئی تھی انہوں نے اکھٹے ہی گرفتاری دی تھی ۔ہم اندر جارہے تھے تو ناصر زہدی کی ہتھکڑی کے ساتھ میری ہتھکڑی تھی اس نے دیوار کے ساتھ ہتھکڑی مارنی شروع کی۔ میجر طاہر تھا اس نے کہا انکو باہر لے جاؤ اور دوبارہ لاؤ۔دوبارہ لائے تو میں پان کھارہاتھااُس نے کہا یہ پان پھینک کے آؤ جب میں باہر گیا تو میرے دوست جو میرے ساتھ تھے میں نے پوچھا کسی کے پاس پان ہے ایک بندہ کہنے لگا دیکھو میں پورا ڈبہ لے کر آیا ہوں۔ میں نے اُس سے ایک پان لیاپھر اندر چلاگیا باتوں باتوں میں اُس نے اپنی بلٹ جو فوجیوں کی ہوتی ہے اُتار کرٹیبل پر رکھ دی اور سپاہیوں سے کہا کہ انکی ہتھکڑیاں کھول دو اور ہم کرسیوں پر بیٹھ گئے کہنے لگا دیکھو میں بھی پاکستان کاشہری ہوں اور آپ بھی جو مسئلے ہیں ان کو مل بیٹھ کر حل کرتے ہیں ان کوحل ہوناچاہیے ۔میں نے کہا کہ یہ مطالبات کا حل تو ہمارے پاس نہیں ہے ہم تو ایک کارکن ہیں رضاکارانہ طور پر ہم نے گرفتاریاں دی ہیں ہمارے بڑوں نے یہ تحریک چلائی ہے آپ ان سے ہی بات کریں۔ باتوں کے دوران میں نے ان سے یہ کہا کہ جناب 1970ء میں جب میں نے اپنی شعور کی آنکھ کھولی اور اپنے آپ کو بالغ محسوس کیا اورپریکٹیکل لائف میں آیا تو میں نے دیکھاکہ پاکستان کی بہادر فوج نے ملک کے دو ٹکرے کردیئے ہیں۔ اسکے بعد اُس نے ہمیں باہر بھجوادیا سارے چلے گئے ہم وہیں بیٹھے رہے۔ وہ شام کو آٹھ بجے واپس آیا اور اُس نے ارادہ کیا کہ ان کو کوڑے مارے جائیں اور 10:8منٹ پر ہمیں کوڑے مارے گئے اور 8بجے BBCپر یہ خبر چل چکی تھی۔

سوال:    گرفتاری میںآپ کے ساتھ کون کون تھا؟

جواب:    ناصرزہدی صاحب (الفتح )ملتان والے، اقبال جعفری صاحب (سن ) اخبار کراچی والے، میں مساوات میں سب ایڈیٹر تھا اور چوتھے تھے مصود اللہ خان

 صاحب ’’پاکستان ٹائم‘‘والے وہ تھوڑے بوڑھے تھے اور انکی ایک مصنوعی ٹانگ تھی وہ کوڑے لگنے سے بچ گئے تھے۔وہ زمانہ ایسا تھا کھلی گفتگو کرتے تھے اور نہ ہی ڈرتے تھے پھریہ سلسلہ چلتارہا جو 5سال جاری رہا ۔آخری بار میری جب گرفتاری ہوئی اُس وقت میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ملازم تھا پورے لاہور کی ایجنسیاں اور تھانے مجھے ڈھونڈرہے تھے کہ جہاں سے بھی اسے پکڑیں اُسی تھانے میں اسکی گرفتاری ڈال دی جائے ۔بہر حال جب میں پکڑا گیا تو دو وکیل میرے ساتھ تھے۔ ایک میرا ملازم تھا اُنہوں نےاسے گردن سے پکڑا تو اُس نے میرا بتادیا حالانکہ وہ بھی پولیٹیکل ورکر تھاحیدر آباد سے اُسکو میں لے کر آیاتھا۔رسول بخش پلیجو صاحب کاورکر تھااور جیل میں میرے ساتھ تھا پر ڈرگیا۔وہ مجھے پکڑ کر لے گئے اور کہاکہ آپ کے خلاف شیخوپورہ میں پرچہ درج ہواہے۔پھر سات یا  آٹھ ماہ میں شاہی قلعہ اور لال قلعہ میں بند رہا لال قلعہ زیادہ خطرناک تھا شاہی قلعہ میں تو موسم کا حال احوال پتہ چل جاتاتھا لیکن لال قلعہ تو زیرِ زمین تہہ خانے تھے 4×4کا نہ سیدھے کھڑا ہو سکتے تھے نہ ہی لیٹ سکتے تھے۔ انہوں نے سوچا تھا کہ یہ مان جائے گامیں نے بھی سوچا کہ مان جاؤں تو وہ مجھے قلعے سے نکال کر جیل لے جائیں گے۔ اُسی وقت ایک مجسٹریٹ درجہ اول تھاسیف الملوک نام کا۔ اعترافی بیان پولیس یا متعلقہ اداروں کو باہر نکال کر ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ ٹھیک ہےیا انہوں نے مار کر منایا ہے۔ جج نے سب کے سامنے ہی مجھ سے پوچھ لیا اسی وقت میرے ذہن میں خیال آیا کہ اس میں تو 302بھی شامل ہے اور چور ی اور ڈاکے کی دفعات بھی شامل ہے میں نے انکار کردیا تو جج کہنے لگا اس کو لے جاؤ ابھی اس کا دماغ ٹھیک نہیں ہوا۔

سوال:    جو سخت ترین دور آپ نے کاٹا ہے اُس دور میں اور آج کے دور میں کوئی فرق ہے؟

جواب:    یہ نیا دور ہے نئے سماج نے جنم لیا ہے یہ وہ دور نہیں ہے جہاں رشتوں کا احترام، تعلق کا احترام، بڑے چھوٹے کا احترام، سیکھنے کا عمل، تعلیم کا معیار، آج ہر چیز بدل چکی ہے یہ وہ زمانہ نہیں ہے اور یہ وہ پاکستان بھی نہیں ہے۔

سوال:    کیا یہ سب الیکٹرونک میڈیاکی ترقی کی وجہ سے ہواہے؟

جواب:     یاد رکھیں یہ بات جومیں آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جو آپ لاہور انٹرنیشنل رسالہ نکالتے ہیں یہ رسالہ سوسائٹی کو بدل نہیں سکتا۔یہ رسالہ ایک جامدٹھوس

 چیز ہے۔ ٹی وی بھی ایک چیز ہے ایک سوفٹ وئیر ہے اور ایک ہارڈوئیر ، ہارڈ وئیر تو ایک ڈبہ ہو گیا سوفٹ وئیر بھی اصل میں ہارڈوئیر ہی ہے۔ اس میں آپ نے اپنی مرضی کی چیزیں رکھی ہیں تو جو بنیادی چیز ہوتی ہے وہ زمین ہوتی ہے کہ آپ کے زمینی معروضی حالات کیا ہیں ۔آج کے جو زمینی معروضی حالات ہیں اُنکی ذمہ داری کرپٹ حکمران نہیں ہیں کرپٹ عوام ہے اگر عوام کرپٹ نہ ہو ںتو حکمرانوں کی کیاجرأت ہے۔میں پچھلے 8سال سے ایک مشن پر ہوں جو پورا نہیں ہورہا۔میرا سوال یہ ہے کہ آج لوگوں کے گھر کیسے چلتے ہیں اسی بات پر مجھ سے کوئی بحث کر لے کیونکہ اگر کوئی کرے گا تو سوچ میں پڑ جائے گا۔ جیسے افتخار چوہدری سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ میرے پاس نہ کوئی ذاتی گھر ہے نہ گاڑی ہے نہ کوئی بینک بیلنس ہے اور یہ بات اس نے اُس وقت کہی تھی جب وہ او راس کے بیوی بچے دبئی کے مال میں شاپنگ کررہے تھے ۔وہ غلط نہیں کہ رہا تھا اس کو شک بھی ہو گا شبہ بھی ہو گا لیکن وہ اپنی تسلی کے لیے کہہ رہا تھا۔اس کو اپنا بیٹا بھی معصوم نظر آتا ہے۔ اس طرح یہاں پاکستان میں جو گھر چلتے ہیں بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر لڑکیاں چلارہی ہیں وہ گھر کہہ کر کچھ جاتی ہیں اور جاتی کہیں اور ہیں ۔

دیکھو بیوروکریسی ہے اس میں 22گریڈ کے کتنے افسر ہوں گے ایک ہزار تو ہزار کے ہزار تو کرپٹ نہیں ہوں گے دو چار تو ٹھیک ہوں گے۔ فرض کر و ان دو چار کو ہم ڈھونڈلیتے ہیں او ران کے آمنے سامنے بیٹھا دیں تو اگر ایک کہے گا کہ میں اپنی تنخواہ میں ہی گزارا کرتا ہوں تو دوسرا کہے گا کہ جو تمہاری بیٹی ہر دو،تین ماہ بعد نیا فون لیتی ہے وہ کہاں سے آتاہے۔ہم ایک نئے پہلو میں داخل ہوگئے ہیں لیکن ہم مان نہیں رہے۔میرا پچھلاکالم اسی پر تھا کہ عمران خان صاحب کہہ رہے ہیںکہ آپ نے گھبرانا نہیں ڈالر کو دیکھ کر میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے درست ہے دو چار سال بعد اسکا فائدہ ہو گا ڈالر مستحکم ہوگا لیکن دو سال بعد ہماری سوسائٹی کہاں کھڑی ہو گی ۔اسکے اگلے حصے میںمیںنے سویٹ یونین پر بات کی کہ جب ہم جنگ لڑ رہے تھے تو جماعت اسلامی والے کہہ رہے تھے کہ چھوڑوجی انہوں نے تو گشتی خانے بنائے ہوئے ہیں وہاں تو لڑکیاں دو ٹافیوں پر بھی مان جاتی ہیں ایسی باتیں کرتے تھے پھر میںنے وہاں جا کر ازبکستان میں تاشقندوغیرہ میں یہ مناظر دیکھے ہیں میں نے سوال کیا کہ جن لوگوں نے سویٹ یونین کو توڑنے کے دعوے کیے ہیں وہ بتائیں کہ اس پیشے میں پڑنے والی لڑکیاں یہودیوں کی تھیں ؟یہ تو آٹھ ریاستیں ایسی تھیں جہان مسلمان ہیں ۔سیاست کرنا اور چیز ہے اور نتائج اور طرح کے ہیں ۔

سوال:    اپنے تجربہ سے کوئی ایسی بات بتائیں جس سے آج کے طبقہ کو فائدہ ہو؟

جواب:    دیکھیں صحافت کا جو موجودہ نظام ہے وہ مالکانہ ہے اسکی جو بنیادی ذمہ داری ہے وہ مالکان کی ہے۔ مالکان ہی پچھلے20سالوں سے سرکاری افسروں سے کام

کرواررہے تھے سرکاری افسر ایک طرف اپناکام کررہاہے دوسری طرف صحافت کررہاہے۔ یہ جان بوجھ کرکیاگیاہے ہم سوچا کرتے تھے کہ یہ اتنا کرپٹ آدمی ہے تو مالک کو کیوں علم نہیں ہے۔ اس کا ہم نے نتیجہ نکالا وہ یہ کہ سرمایہ دار کوئی بھی ہو اخبار کاہویاکسی اور شعبہ کا سرمایہ دار جب کوئی بندہ چُنتاہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کرپٹ لوگ ہوں کیوں کہ کرپٹ لوگ ذہین بھی ہوتے ہیں اور تیز بھی۔ اس کام کو دو تین دہائیاں لگی ہیں ۔دوسرا المیہ یہ ہے کہ ٹریڈ یونین صحافیو ں کی مالکان کی جیب میں چلی گئی ہے نا تو اب الیکشن ہوتے ہیں بلکہ جعلی کام کر کے بندے چن لیے جاتے ہیںبس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *