تھک گئی ہوں

(امۃ الباری ناصر)

یہ گہرے  گہرے سے  زخم  لفظوں کے 

سہتے سہتے میں تھک گئی ہوں

ہوئی ہیں کرچیں کچھ اتنی دل کی کہ

چنتے چنتے میں تھک گئی ہوں

کبھی ہوں تسکیں کبھی کھلونا

کبھی ہوں خدمت کبھی تماشا

جو کام کرنے کو دل نہ چاہے

وہ کرتے کرتے میں تھک گئی ہوں

بہت کٹھن ہے مشین بننا

خود اپنی خواہش سے کچھ نہ کرنا

کسی کی مرضی پہ اور اشاروں پہ

چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں

ہمیشہ تج کے خوشی کو اپنی

کیے ہیں سب کی خوشی کے ساماں

یوں نوحہ اپنی ہر اک تمنا پہ

کرتے کرتے میں تھک گئی ہوں

جنہیں بنایا خدا نے انساں

نہ جانے کیوں وہ خدا بنے ہیں

اب آگے ایسے انا پرستوں کے

جھکتے جھکتے میں تھک گئی ہوں

عجیب دنیا ہے میری

نہ کوئی میرا نہ میں کسی کی

اداس سوچوں کی تنہا وادی میں

رہتے رہتے میں تھک گئی ہوں

جو خود غرض ہیں وہ چاہتے ہیں

کسی کو ٹھوکر پہ اپنی رکھنا

جنازہ عزت کا اپنی ہر وقت

پڑھتے پڑھتے میں تھک گئی ہوں

میں تم سے مل کر بہت ہی خوش ہوں

تمہی ہو دنیا میں سب سے پیارے

جو بات دل سے نہیں نکلتی

وہ کہتے کہتے میں تھک گئی ہوں

خدا جو اپنے تئیں بنا ہے

میں جانتی ہوں خدا نہیں ہے

مگر اسی کے تمام حکموں پہ

چلتے چلتے میں تھک گئی ہوں

جو سانس لینے کی ہے اجازت

تو یہ بھی گویا ہے اک عنایت

یوں  چپکے  چپکے   خود اپنی حالت پہ

روتے روتے میں تھک گئی ہوں

ہزاروں پہرے ہزاروں بندھن

خیال و فکر و شعور پر ہیں

ہوں پرشکستہ  اور ایک  زنداں میں 

اڑتے اڑتے میں تھک گئی ہوں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *