درس القرآن

فَبَعَثَ اللہ ُ  غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِِ  لِیُرِیَہ کَیفَ یُوَارِیْ سَوْئَ ۃَ اَخِیْہِ ط قَالَ یَوَیْلَتَی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ھٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَ ارِیَ سَوْئَ ۃَ اَخِیْ  فَاَصْبَحَ مِنَ النَّدِمِیْنَ (31) مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیٓ اِسْرَآئِیْلَ اَنَّہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاط وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَلَقَدْ جَآئَ تھُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ (32)

ترجمہ:پھر اللہ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کو (پنجوں سے ) کھود رہا تھا تا کہ وہ ( یعنی اللہ) اسے سمجھا دے کہ کس طرح وہ اپنے بھائی کی لاش کو ڈھانپ دے۔ وہ بول اٹھا وائے حسرت! کیا میں اس بات سے بھی عاجز آگیا کہ اس کوے جیسا ہی ہوجاتا اور اپنے بھائی کی لاش ڈھانپ دیتا ۔ پس وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔(31)  اسی بنا پر ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرض کر دیا کہ جس نے بھی کسی ایسے نفس کو قتل کیا جس نے کسی دوسرے کی جان نہ لی ہو یا زمین میں فساد نہ پھیلایا ہو تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔اور جس نے اسے زندہ رکھا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کر دیا اور یقینا ان کے پاس ہمارے رسول کھلے کھلے نشانات لے کر آچکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان میں سے کثیر لوگ زمین میں حد سے تجاوز کر تے ہیں۔(32)

تفسیر:

 سورۃ المائدہ آیت 32:33 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔  فَبَعَثَ اللہُ غُرَاباً: کوے میں تین صفتیں عجیب ہیں۔ کوے کو کسی نے جماع کرتے کم دیکھا ہے۔ ایک ٹکڑا بھی کھانے کا مل جائے۔ اڑ کر اوروں کو اطلاع ضرور کرے گا۔ کہ یہاں کچھ ملنا ہے۔ کسی کوے کو صدمہ پہنچے سب وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ اسی واسطے شور و غل کو ہماری زبان پنجابی میں ’’ کاواں رولی‘‘ کہتے ہیں۔ ہم نے ایک بڑے شکاری سے پوچھا۔ کبھی کسی کوے کی لاش تم نے جنگل میں دیکھی ہے۔ تو اس نے کہا۔ نہیں۔ اس سے تین باتیں نکلیں۔ شرم و حیاء بھی کوئی چیز ہے۔ نیک برتاؤ کرنا چاہیے اور ہمدردی۔ مردے کی لاش کو دبانے کی فکر ۔ یہ قصہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ابراہیم بھی ایک آدم تھا( اسے ابو الانبیاء کہتے ہیں) اس کے دو بیٹے تھے اسحق اور اسمعیل۔ مدینہ کے یہود جو بنو اسحاق تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ اسمعیل کی اولاد کو قتل کرنا چاہا۔ سوانہیں بتایا گیا کی دیکھو اس سے پہلے ایک بھائی نے دوسرے بھائی کوقتل کر کے کیا لیا۔ سوا اسکے کہ خاسرو نادم ہوا۔ اور انہیں سمجھایا کہ مِن اَجلَ ذٰلِکَ صرف اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو پہلے سے یہ حکم دے رکھا ہے کہ مَن قَتَلَ نَفساً جو ایسے عظیم الشان نفس کو قتل کرے گا وہ گویا سارے جہاں کے قتل کا مرتکب ہوگا۔

ٍٍٍ                                                                                                (حوالہ حقائق الفرقان جلد دوئم صفحہ 98)

حدیث:

رسول کریم ﷺ کی معاشرت اپنے اہل خانہ اور صحابہ کرام کے ساتھ رافت و رحمت کے آئینہ دار تھی۔ فرمایا ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اہل خانہ کیلئے بہتر ہو۔ اور میں تم میں سب سے بڑھ کر اپنے اہل کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہو‘‘                                                      کتاب ابن ماجہ9کتاب النکاح باب50     

گھر میں بے تکلفی سے خوش خوش رہتے ۔ کبھی بیویوں کو کہانیاں اور قصے بھی سناتے۔ اہل خانہ سے حد درجہ کی نرمی اور اکرام کا سلوک فرماتے۔

                                                                                                کتاب بخاری 70 کتاب النکاح باب82

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *