خواجہ نوید خود اپنی عدالت میں

1تحریر:ذیشان محمود۔ پاکستان

ٹی وی ون کے معروف پروگرام ’’خواجہ نوید کی عدالت میں ‘‘  کے اینکر پرسن 40سال سے وکالت کے شعبہ سے وابستہ ’’خواجہ نوید احمد‘‘ ایک معروف وکیل ہیں۔B.Com, LLF,  کے بعد بار ایٹ لا Inner temple London سے کیا۔  1974ء میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔دیوانی اور فوجداری مقدمات میں کئی ہائی پروفائل سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور دیگر اہم شخصیات کی وکالت کی۔  اس وقت سب آرڈینیٹ کورٹ، ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ میں وکالت کر رہے ہیں۔ روزنامہ امت کراچی اور روزنامہ جنگ میں کالمز چھپتے رہے۔ کئی ٹی وی پروگرامز میں بطور تجزیہ کار شامل ہوئے۔ ٹی وی پروگرام میں دیکھا ہوا تاثر ذہن پر سوار تھا کہ ایک سخت قسم کی شخصیت کے حامل ہیں۔ یہی تاثر لئے ان کے دفتر پہنچا لیکن بے تکلفانہ ماحول، اور شستہ کی وجہ سے معلوم ہی نہ ہوا کہ انٹرویو کرتے کرتے ڈھائی گھنٹے سے زائد ہو گئے۔

س:   اپنی فیملی کے بارہ میں کچھ بتائیے!

ج:  شادی شدہ ہوں اور شادی کے معاملہ میں کنجوس رہا ہوں کہ ایک ہی کی ہے۔ 1979 میں ارینجڈ میریج ہوئی۔ خدا تعالی نے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں دیں۔

س: آپ کے کیرئر کے اہم اورمشہور کیسز کونسے رہے ہیں؟

ج:  بڑے مشہور لوگوں کے کیسز کئے۔ آصف علی زرداری کا 1990ء کا کیس، نواز شریف طیارہ سازش کیس کی وکلا ٹیم کا ایک ممبر تھا۔ ایم کیو ایم کے بے شمار کیسز کئے اور بلامعاوضہ کئے۔ ایم کیوایم پر جب 1992ء کا آپریشن ہوا ۔ بہت غربت تھی۔ایم کیو ایم والے آ کے کہتے تھے کہ سر اس کی ماں پیاز سے روٹی کھا رہی ہے۔ ہم نے ان کے کیسز بلامعاوضہ کئے۔

کسی سیاسی پارٹی کو اس لئے جوائن نہیں کیا کہ ہمارے پاس ہر سیاسی پارٹی کے کیس تھے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے کسی کلائنٹ کو یہ شبہ یا ذہن میں وہم ہو کہ شاید ہم دوسری پارٹی سے ہیں تو اس کی وجہ سے ان کے کیس پر توجہ نہیں دیں گے۔تو اس وجہ سے میں نے اپنے آپ کو نیوٹرل رکھنے کی کوشش کی۔اور الحمدللہ 40 سال ہوگئے ہیں وکالت میں ابھی تک نیوٹرل چل رہے ہیں۔ اس وجہ سے بڑا نقصان بھی ہوا کہ ذہن بہت زیادہ سیاسی ہے اور بہت سے چانسز مس ہو گئے۔ مثلا ایک زمانہ میں ایم کیوایم کی جانب سے سینیٹر کے ٹکٹ کی کھلی آفر تھی لیکن ہم نے وہ آفر کبھی avail نہیں کی۔ ابھی PTIنے 14 سیٹیں لی ہیں اس میں بھی پیشکش تھی لیکن میں نے کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا۔حالانکہ لوگوں کے الیکشن فارم بھر کے دیتا رہا لیکن کبھی ذہن میں نہیں آیا کہ اپنا فارم بھی بھروں۔

س:  کبھی سیاست میں آنے کی خواہش حسرت تو نہیں بنی؟

ج:  شوق تو ہے جانے کا لیکن دیکھیں شروع میں struggle کا دور تھا۔ وکالت کی، بچے پڑھائے،بڑے کئے، اب ساری چیزوں سے فارغ ہو گئے ہیں۔بچوں کی شادیاں ہوگئی ہیں۔ اب یہی تھا کہ ملک اور قوم کے لئے کچھ کر لیں۔ اور سیاست میں آئے بغیر آپ کچھ کر نہیں سکتے لیکن فلاحی کام ہم کرتے رہتے ہیں۔میں نے وکالت میں 40 سال ایک صدقہ جاریہ رکھا۔ ایک کوٹہ رکھا کہ غریب اور مفلس لوگوں کے کیس فری کرنے ہیں اور ہمیشہ کوٹے سے زیادہ ہی کیا اور قدرت موقع پیدا کر دیتی تھی۔ ایک بار ایک آدمی آیا کہ میرے پر قتل کا مقدمہ ہے میں نے کہا ٹھیک ہے! اس نے کہا کہ میں نے آپ کو وکیل کرنا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے! اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی پیسہ نہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے! وہ چلا گیاا ور میں سوچتا رہا کہ میں نے تو اس پر بھی ٹھیک ہے کہہ دیا ہے۔ میں نے صرف اس لئے ٹھیک ہے کہہ دیا کہ اس کو اپنے پر اتنا اعتماد تھا یا ہم پر یقین تھا کہ وہ جائے گا اور کہے گا کہ میرے پاس پیسا نہیں ہے اور وہ کیس لے لیں گے۔

س: بار ایسوسی ایشنز کے الیکشن میں حصہ لیا؟

ج:  کئی بار ایسوسی ایشنز کا الیکشن لڑنے کا موقع ملا۔ سندھ بار کونسل کا ممبر رہا 5 سال تک انسانی حقوق کمیٹی کا چیئرمین تھا۔ سینیئر وائس پریزیڈنٹ رہا۔2007-08ء صوبہ سندھ کی طرف سے وائس پریزیڈنٹ رہا لیکن اپنی عمر کی وجہ سے سینیئر وائس پریزیڈنٹ تھا۔ پریزیڈننٹ کے الیکشن میں کچھ اختلاف ہو گیا تھا سپریم کورٹ کے 14 ججوں نے پونے دو مہینے تک پریزیڈنٹ مقرر کیا۔ کیونکہ سٹاف کی تنخواہیں دینی تھیں اور دیگر دفتر امور کی وجہ سے۔ وہاں بورڈ پر نام لکھا ہوا ہے۔

 س:  خواجہ نوید کی عدالت میں نہایت مشہور و معروف پروگرام رہا۔ اس کا پسِ منظر کیا تھا۔عوام کا ابتدائی رسپانس کیسا رہا؟

ج:  طاہر خان میرے دوست اور TV ONE کے مالک بھی ہیں۔ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے چینل ملا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ لا پروگرام کریں۔ میں نے کہا کہ ضرور کریں گے آپ بتائیں کیا کرنا ہے۔کافی سوچ و بچار کرتے رہے۔  ARY پر ایک پرگرام تھا جس میں اینکر دو وکلا سے سوالات کرتا تھا کہ اس بارہ میں کیا قانون ہے۔ فلاں دستاویز کیسے تیار کرنی ہے۔ میں نے کہا کہ میں اس بارہ میں بہت سینیئر ہوں کہ میں کسی کو مہمان بلا کر سوالات کروں یا یہ کریں کہ کوئی مجھ سے سوال کرے اور میں جواب دوں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں۔ اٹھتے اٹھتے میں نے کہا کہ آج کل پرائیویٹائزیشن کا زمانہ ہیں کیوں نہ ہم اپنی عدالت لگا لیں۔ ساتھ انہوں نے کہا کہ اس کا نام رکھ لیتے ہیں خواجہ نوید کی عدالت۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ چند روز بعد کچھ لوگ لیپ ٹاپ لئے دفتر آ گئے اور مکمل تیاری کر کے آئے۔

ہم نے ایک کیس پر پروگرام تیار کیا۔ کیس حقیقت پر مبنی ہوتا تھا۔ ہم کیریکٹر تبدیل کر لیتے تھے۔ یہ پروگرام اتنا مشہور ہوا کہ انڈیا کے مشہور چینل سٹار پلس نے اس کو کاپی کیا۔

س:  کہانیوں کے اصل کردار کیوں ٹی وی پر نہیں آئے؟ اس کو ڈراماٹائزڈ کیوں کرنا پڑا؟

ج:  پہلے کوشش کی تھی کہ ان کو لایا جائے۔ لیکن کبھی ایک فریق آ جاتا کبھی دوسرا فریق آ جاتا۔ کبھی کہتے ہم رستے میں ہیں۔ پھر فون بند کر دیتے۔ اس لئے ہم نے اصلی کہانی کو نقلی کرداروں سے کروانا شروع کر دیا۔ اور مزے کی بات کہ اس پروگرام کا سکرپٹ نہیں ہوتا تھا۔ میں ان عورتوں کو کیس بتا دیتا پھر وہ عورتیں کہتی تھیں سر اب آپ چھوڑ دیں ہم خود نپٹ لیں گے۔ اور پھر اتنا نبھاتی تھیں کہ مجھے خاموش کروانا پڑتا تھا۔

س:   اس پروگرام کا آپ کو پروفیشنلی کیا فائدہ ہوا؟

ج:  اس کا پروفیشنلی مجھے نقصان ہوا۔ میں سپریم کورٹ لیول کا بڑا وکیل تھا۔ لوگوں نے مجھے فیملی کیسز کا وکیل سمجھنا شروع کر دیا۔ جو کہ Biginers کے لئے ہوتا ہے۔ اور لوگوں نے NGO سمجھ لیا کہ یہاں مشورہ مفت ہے ۔ لوگ آ جاتے تھے مشورے لینے کے لئے۔ فیملی کیسز زیادہ آنے شروع ہو گئے اور عادت کے مطابق منع بھی نہیں کر سکا۔

س:   اس پروگرام سے کیا تبدیلی پیدا ہوئی؟

ج:  میں اس پروگرامز کے ٹرائلز کے ذریعہ لا میں چینجز بھی لے کر آیا۔ Maintenance کا کیس میں عورت کا کیس داخل ہوتا تھا۔ اور تین تین سال تک فیصلہ نہیں ہوتا تھا کہ عورت اور بچہ کہاں سے کھائے۔ عورت کا باپ کہاں سے لائے۔اس پر یہ ہوا کہ عورت جب maintenance  کا کیس داخل کرتی ہے ساتھ ہی یہapplication بھی داخل کرتی ہے in term maintenance کا آرڈر کیا جائے۔ جوپہلے یا دوسرے دن ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ یہ بات پروگرام میں  ہائی لائیٹ کی۔ بل پیش ہوا اور قانون بن گیا۔ پھر خلع کاکیس مشکل تھا۔ عورت عدالت کے چکر لگاتی تھی۔ خاوند انتقاما کہتا تھا کہ بوڑھا کر دوں گا لیکن طلاق نہیں دوں گا۔ اس بات کو اتنا ہائی لائیٹ کیا کہ اب خلع کا کیس ایسے ہی ہے جیسے ڈاک خانے سے ڈاک ٹکٹ لیتے ہیں۔ یہ بھی ہم نے ہائی لائیٹ کیا۔

پھرہم نے ہائی لائیٹ کیا کہ شوہر رات کو بیوی پر تشدد کرے اور کوئی بچانے والا پاس نہ ہو۔ اس کے لئے عورت 15 پر کال کرے۔ اس کے لئے آن ائیر IG کمال شاہ صاحب کو میسیج دیا اور پھر دفتر سے فون بھی کیا کہ SHO کو ہدایت دیں کہ اگر کوئی عورت رات کو فون کرے تو فورا پولیس کی موبائل بھیجیں اور لیڈی کنسٹیبل ساتھ جائے۔ پہلے ڈومیسٹک وائلنس کا 15 پر کوئی تصور نہیں تھا صرف چوری ڈاکہ کا تصور تھا۔ تو یہ تصور میں نے دیا۔

س:  آپ کے کالمز کتاب آئین جوان مرداں تک کیسے پہنچے؟

میں کالم لکھتاہوں پہلے امت سے شروع کیاپھرجنگ میں آ گیا۔ میرا دوست رفیق افغان ہے اس کو کہا۔ اس نے کالمز کتابی صورت compile کئے اور چھاپ دیئے۔ اب اتنے ہی کالم دوبارہ ہو گئے ہیں۔

کافی عرصہ سے لکھنا بند کیا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نواز شریف کا طیارہ سازش میں وکیل رہا اور کالمز کا ٹرینڈ پانامہ اور نواز شریف کے گرد تھا اور کوئی ٹاپک نہیں تھا۔ اس لئے اپنے کلائنٹ کے خلاف لکھنا نہیں چاہتا تھا اور حق میں لکھتا تو لوگ سمجھتے کہ لفافہ لے لیا ۔ کچھ لوگ عمران خان کی حمایت میں جا رہے تھے۔میں نیوٹرل رہنا چاہ رہا تھا اس لئے وقفہ کر لیا۔

س:   وکالت بطور پیشہ کیسا ہے؟

وکالت ایک معزز پیشہ ہے۔ اس میں خدمت بھی ہے اور پیسا بھی ہے۔ وکیل صفر سے شروع کر کے متمول ہو جاتے ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ وکیل کچھ نہ کچھ روز گھر لے ہی جاتا ہے۔اس میں ترقی کے مواقع بہت زیادہ ہیں اگر ایک آدمی ایمانداری سے کام کرے اور اس کو بہت جلد بہت زیادہ بہت بڑے بڑے کلائنٹ ملنے شروع ہو جاتے ہیں جس سے آمدنی بڑھ جاتی ہے اور شہر میں معروف بھی ہو جاتا ہے۔

س:   میڈیا کی اصطلاح  ’’وکلا گردی‘‘  سے متعلق کیا کہیں گے؟

ج:  جب افتخار چوہدری صاحب کی بحالی کی تحریک چلی تو ا س میں جو نئے وکلا آئے تھے ان میں سے بعض وکلانے طاقت کا بے جا استعمال کیا۔ اس کے بعد میڈیا نے اسے وکلا گردی کے نام سے پکارا جو کہ ہمارے پیشے پر ایک داغ تھا۔ پھر ہماری بار ایسوسی ایشنز نے ایسے ممبران کے خلاف ایکشن لیا اور اب اللہ کا شکر ہے کہ یہ واقعات کم ہیں۔

س:   پاکستان کے کن وکلاء نے آپ کو متاثر کیاہے؟

ج:  میرے اپنے استاد بیرسٹر حسن علی عبد الرحمن تھے جن کے دفتر میں میں نے 5 سال کام کیا۔وہ سندھ مسلم لا کالج کے فاؤنڈر پرنسپل تھے۔ جن وکلا سے میں متاثر ہوں ان میں اعجاز بٹالوی صاحب اور حفیظ پیرزادہ صاحب ہیں۔ینگ لائرز میں سلمان راجہ ، فروغ نسیم، خالد جاوید یہ وکلا عمر میں کم ہیں لیکن بہت نام پیدا کیا ہے۔

س:   کیا عدلیہ واقعی آزادہے؟

ج:  آئینی طور پر عدلیہ ہمیشہ سے آزادہے۔اکّا دکّا کیس ہوتے رہتے ہیں جیسے شوکت عزیز کا کیس ہے۔ اس سے پہلے بھٹو کیس میں بھی ڈاکٹر نسیم حسن شاہ صاحب نے بیان دیا تھا۔ بہر حال اگر کوئی ایسی باتیں مارکیٹ میں آتی ہیں تو ان کے اپنے لوگ کرتے ہیں۔ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اسے آزاد ہی سمجھتے ہیں۔

س:   قانون کی بالا دستی اس وقت کیا معنی رکھتی ہے۔

ج:  عمران خان کے آنے کے بعد اسے مزید تقویت پہنچنی چاہیئے۔قانون کی بالا دستی کا معنی یہ ہے کہ قانون سب کے لئے برابرہے ۔ قانون کی نظر میں جو مجرم ہے وہ مجرم ہے اور جو نہیں ہے وہ نہیں ہے۔یعنی بے گناہ ہے۔ یہ قانون کی بالا دستی ہے۔ اور قانون کی زیر دستی یہ ہے کہ طاقتور جیتتا ہے اور کمزور ہارتا ہے۔

س:   پاکستان کے ادارہ جات کب خود مختار ہوں گے۔

ج:  اللہ کرے وہ خود مختار ہو جائیں اور آزادانہ طور پر اچھا کام کریں ۔ اداروں نے بہت مایوس کیا ہے۔ اداروں کی کارکردگی کی بات ہو رہی ہے مثلا پی آئی اے، سٹیل مل دیکھ لیں۔ بعض لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اداروں کو ہی بدنام کیا ہے۔

س:  چیف جسٹس صاحب سوموٹو نوٹسز لیتے ہیں۔ پچھلے چیف جسٹس صاحبان نے ان کیسز پر کیوں سوموٹو نہیں لئے؟

ج:  سو موٹو لینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے افتخار محمد چوہدری سے ۔ چونکہ ان کی کچھ سیاسی خواہشات تھیں جو کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد پارٹی بنا کر ظاہر بھی کر دیں۔ وہ بطورچیف جسٹس اپنے سیاسی کیرئیر کے لئے ہوم ورک کر رہے تھے یا کہہ لیں کہ ہوم گرانڈ تیار کر رہے تھے۔ اگرچہ انہیں اس کا کچھ فائدہ نہیں ملا۔

س:  توہینِ مذہب کے کیسیز میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟

ج:  جو لوگ عہدے پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ خود کو کسی controversy میں نہیں ڈالنا چاہتے ۔ اس لئے کہ مذہب ہر ایک کا اپنا اپنا عقیدہ ہے۔ اور کوئی ایک عقیدے کے مطابق اگر ایک جج ایکشن لے لیتا ہے تو کسی دوسرے کا کوئی اور عقیدہ ہے تو وہ کہیں گے کہ ہم PRJUDICE یا biasedہو گئے ہیں ۔ لہذامذہبی آزادی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ جہاں تک توہین رسالت کا معاملہ ہے تو اس پر جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے باقاعدہ نوٹس لیا ہے۔  عدالتوں نے باقاعدہ لیا ہے۔ ختم نبوت پر بھی لیتے رہیں ہے۔توہین رسالت پر بھی لیتے رہیں ہیں۔توہین رسالت پر عوام کا پہلے سے ردعمل اس طرح نہیں ہونا چاہیئے۔

سوال: توہین کے قانون کا سہارا لے کر احمدیوں پر ظلم بھی کیا جاتا ہے۔ ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔

ج:  یہ تو بڑی زیادتی ہے۔ ہم اس کو بڑی سختی سے condemn کرتے ہیں اور ہر آدمی کو آزادی ہے چاہے وہ احمدی ہے چاہے وہ کافر ہے۔ شروع میں جب ان کے خلاف amendments آئی تھی تو میں ان کی بہت مدد کرتا رہا ہوں ان کی ضمانتوں کے حصول کے لئے۔ شادی کے کارڈ پر بسم اللہ لکھ دیتے تھے تو مقدمے ہو جاتے تھے۔ ہم نے تو ان کی بہت مدد بھی کی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *