بانی ء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح

تحریر:محی الدین عباسی 

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران

اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان

25دسمبرقائد اعظم محمد علی جناح کا142واں یوم پیدائش ہے۔آپ کی پیدائش کادن قومی سطح پر منایاجاتاہے۔اور اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔اور ان کے نقشِ قدم پر چلتی ہیں۔ایسے لوگ دنیا میں باربار پیدانہیں ہوتے۔ ہمیں ان کی قدر اور نعمتِ خداوندی سمجھ کرقبول کرناچاہیے۔ قائداعظم 25دسمبر 1876ء کو وزیر مینشن کراچی میں پیدا ہوئے اور 1948ء کو کراچی میں ہی وفات پائی۔ابتدائی تعلیم 1882ء تک کراچی میں اور 1886ء سے 1891ء تک بمبئی میں حاصل کی پھر 1891ء کو واپس آگئے اور 1892ء میں انگلستان کاسفر کیا۔93اور 94کے درمیانی عرصے میں جرنلزم میں لگاؤپیداہوااسی عرصے میں لارڈ مارلے سے بھی کچھ اثر قبول کیااور ساتھ ہی دادا بھائی نوروجی سے بھی متاثر ہوئے 1896ء میں کراچی واپس آئے۔1897ء میں بمبئی پہنچے۔ 1900ء تک وہاں وکالت کرتے رہے۔ 1900ء میں عارضی طور پر ریسیڈنسی مجسٹریٹ بنے۔ 1908ء میں سیاست میں قدم رکھاجو اس سال کانگریس کاپہلا اجلاس ہواتھا۔اسی سال وہ دادابھائی نوروجی کے سیکریٹری بنے اور کانگریس میں شامل ہوئے۔1910ء میں امپیریللیجسلیٹوکونسل کے لیے چنے گئے۔1912ء میں انہوں نے مسلم لیگ کے اجلاس میں شرکت کی اگرچہ وہ مسلم لیگ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔1913ء میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل کے لیے وہ پھر منتخب ہوئے وہاں انہوں نے کریمینل لاء تر میمی بل پر تقریر کی۔مسلمان وقف ویلڈنگ بل پیش کیااس پر تقریر کی اور وائسرائے نے اسے منظور کرلیا۔اسی سال ان کے گوکھلے سے روابط بڑھے دونوں مل کر انگلستان گئے وہاں قائداعظم نے لندن انڈین ایسوسی ایشن کے اجتماع میں تقریر کی۔اسی سال انہوں نے کراچی میں کانگریس کے جلسہ میں تقریر کی اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے 1918ء میں رتن بائی سے شادی ہوئی ذمہ دار حکومت کے مطالبہ والے منشور پر دستخط کئے پھر لارڈولنگٹن کے خلاف ایک مظاہرہ ہوا جسکی قیادت کی۔اس کارنامہ پر بمبئی کاجناح ہال بنا1919ء میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل سے استعفیٰ دیااوراسی دوران گھر میں بیٹی پیداہوئی۔آپ ایک سچے دیانتدار،محنتی، قانون پسند اور مخلص انسان تھے۔آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر اور پاکستانی سیاستدان تھے۔آپکی قیادت نے ایک آئینی طریق پر مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست پاکستان کے نام سے حاصل کی۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کے بعد حکومتِ برطانیہ سے حاصل ہوئی۔ہندوستان کی بیشتر مسلم تنظیمیں اور گروپ از قسمِ علمائے دیو بند،جمعیت علمائے ہند، جماعت اسلامی، مجلس احرار، خاکسار تحریک ان کے بھرپور مخالف رہے۔صرف جماعت احمدیہ وہ مذہبی جماعت تھی جو اس تحریک میں شامل رہی۔1896ء میں انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔پھر 1913ء میں مسلم لیگ اختیار کی۔اور 1916ء میں اس کے صدر منتخب ہوئے۔اس وقت تک آپ ہندومسلم اتحاد کے حامی تھے۔اور اس وقت برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم تھا۔آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان کانگریس سے اختلافات کی وجہ سے آپ نے کانگریس چھوڑدی اور مسلم لیگ کی قیادت میں شامل رہے۔آپ نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے مشہور چودہ نکات پیش کئے پھرمسلمان لیڈروں کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہو کر انڈیا چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے۔قائداعظم نے پہلی گول میز کانفریس کے بعد اصلاح احوال سے سخت مایوس ہو کر انڈیا چھوڑاتھا۔پھر کئی مسلمان لیڈروں جن میں خاص طور پر انکے پرانے ساتھی

راہنماجماعت احمدیہ نے کوششیں کی کہ وہ واپس انڈیا آئیں اور بھر پور فعال کردار اداکریں۔1933ء میں انکی واپسی اور دوبارہ مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کی غرض سے جماعت احمدیہ کے سربراہ نے اپنے لندن کے مشنری امام عبدالرحیم درد صاحب کو یہ کام سپرد کیاکہ وہ قائداعظم کو واپس انڈیا مسلمانوں کی قیادت کے لیے تیار کریں اور انہیں کہیں کہ ہماری جماعت آپ کے ساتھ بھرپور تعاون کے لیے اور ہر قسم کی قربانی کے لیے تیارہے۔جس پر امام عبدالرحیم درد صاحب قائداعظم سے مارچ 1933ء میں انکے دفتر واقع Kings benck walkمیں ملے اور تفصیلی ملاقات کی جو 4گھنٹے تک جاری رہی۔آپ نے جناح سے کہاکہ مسلمانوں کی راہنمائی کرنے والااور کوئی نہیں ہے۔آپ ہی ڈوبتی ہوئی کشتی کو پارلگاسکتے ہیں۔اگر ایسانہ ہوا تو یہ قوم کے ساتھ بے وفائی ہوگی۔چنانچہ اس تفصیلی گفتگو کے بعدقائداعظم مسجد فضل لندن تشریف لائے اور وہاں باقاعدہ ایک تقریب منعقدہوئی یہ عید الاضحی کے موقع پر 16اپریل 1933ء کوہوئی جو ایک بڑی تقریب تھی اس میں 200سے زائد شخصیات مدعو تھیں۔جن میں Sir Edvard Maclagen,Mr Pathic Lawrence,Sir Danisen raas,Prof H.A Arkabشامل تھے۔جبکہ صدارت Sir Stewart Sandamanنے کی۔قائداعظم نے اپنی تقریر کاآغاز ان الفاظ سے کیا:

The eloquent persuation of the imam left me with no escape

ترجمہ:امام (عبدالرحیم)کی فصیح وبلیغ ترغیب نے میرے لیے بچنے کی کوئی راہ نہیں چھوڑی۔

قائداعظم کی یہ تقریر جس کا موضوع Future of the Indiaتھا۔برطانوی اور ہندستانی پریس کی خاص توجہ کامرکز بنی اور چوٹی کے اخبارات میں اس کی اشاعت ہوئی۔ جیسا کہ سنڈے ٹائمز لندن 9اپریل 1933۔(مزید بحوالہ انسائیکلوپیڈیا قائداعظم از زاہد حسین انجم ہندوستان صفحہ 780) جولائی 1933ء میں اس تقریر کے بعد نواب زادہ لیاقت علی خان اور انکی بیگم صاحبہ قائداعظم سے ملنے لندن آئے اور ان سے واپس آنے کی درخواست کی اور ان دونوں شخصیات لیاقت علی خان اور امام عبدالرحیم درد صاحب کی وجہ سے وہ واپس لوٹے۔ اور پھر قومی سیاست میں اپنا بھر پور کردار اداکیا۔انہیں کوششوں کے باعث پاکستان 14اگست 1947ء کو معرض وجود میں آیا۔پاکستان کی پہلی کابینہ وزیراعظم لیاقت علی خان کی سربراہی میں قائم ہوئی اور یہ مختصر وزارت تھی جن میں ابراہیم اسماعیل چندری گڑھ:ٹریڈ اینڈسٹری۔ ملک غلام محمد :خزانہ۔ سردار عبدالرب نشتر:ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن ۔راجہ غضنفر علی خان:فوڈاینڈ ایگریکلچر۔جگندرناتھ منڈل: لاء اینڈلیبر۔فضل الرحمان انٹیرئیر اینڈ انفارمیشن اینڈ ایجوکیشن۔اور پہلی نیشنل اسمبلی کے سپیکر جگن ناتھ تھے۔اس کے علاوہ دو مسیحی فرقے سے تعلق رکھنے والی شخصیات ایک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر کارنیلیس اور فارن آفس میں ایس ایم برق کونامزد کیاگیا۔برق صاحب نے جب کسی وجہ سے اپنا استعفیٰ قائداعظم کو پیش کیاتو آپ نے نامنظور فرمایااور انہیں فارن آفس میں انڈکٹ کیا۔قائداعظم نے بلانسل وتفریق مشہور قانون دان، سیاستدان چوہدری محمد ظفراللہ خان کو اعلیٰ مراتب پر فائز کیایعنی پاکستان کاپہلاوزیر خارجہ بنایااور اس تحریک میں قائداعظم نے ان سے بھرپور کام لیا۔یہ ان کے قابل اعتماد ساتھی تھے،اور انہیں ہر وقت اپنے ساتھ رکھا۔قائداعظم آزادی کے بعد پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔آپکی انتھک محنت وکاوشوں کی وجہ سے آپ کو بابائے قوم کے نام سے منسوب کیاجاتاہے۔1939ء میں ہندوستان کی مرکزی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا،’’میں اپنی اور اپنی پارٹی کی طرف سے آنریبل سرمحمد ظفراللہ خان کو ہدیہ ء تبرک پیش کرناچاہتاہوں وہ مسلمان ہیں اور یوں کہناچاہیے کہ گویااپنے بیٹے کی تعریف کررہاہوں ‘‘(بحوالہ قومی جدوجہد از ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی صفحہ218) جولائی 1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آنے سے پہلے پنجاب باؤنڈری کمیشن میں مسلم لیگ کاکیس لڑنے کے لیے قائداعظم کی نگاہِ انتخاب ظفراللہ خان صاحب پر پڑی ۔اس تقرری کے بارے میں مشہور صحافی سرمحمد شفیع (م۔ش)نے کہا:قائداعظم نے چوہدری ظفراللہ خان کو مسلم لیگ کاکیس پیش کرنے کے لیے نامزد کیاتاکہ پارٹیشن کمیٹی(باؤری کمیشن)کے سامنے پیش ہو۔قائداعظم معمولی انسان نہیں تھے وہ تاثرات کی بناپر لوگوں کے متعلق رائے قائم کرنے کے عادی نہ تھے بلکہ تجربہ کی کسوٹی پر لوگوں کو پرکھاکرتے تھے انہوں نے بہت سوچ کے بعد ظفر اللہ خان کو مسلم لیگ کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا تھا(بحوالہ نوائے وقت لاہور میگزین6مارچ1992)اس ضمن میں ایک صحافی منیر احمد منیر لکھتے ہیں:جب ظفر اللہ خان باؤنڈری کمیشن کاکیس پیش کر چکے تو قائداعظم نے انہیں شام کے کھانے کی دعوت دی اور انہیں معانقہ کاشرف بخشا جو قائداعظم کی طرف سے کرہء ارض پر بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا۔اس کے بعد قائد نے کہا چوہدری ظفراللہ میں تم سے بہت خوش ہوں اور تمہارا ممنون بھی جو کام تمہارے سپرد کیاگیاتھاتم نے اسے اعلیٰ قابلیت اور نہایت احسن طریق سے سر انجام دیا۔(بحوالہ کالم روزنامہ خبریں لاہور7جون2003)

قائداعظم نے وزیراعظم لیاقت علی سے مشورے کے بعدایک استقبالیہ تقریب منعقد کی جو 25دسمبر قائداعظم کی پیدائش کے دن رکھی گئی اس تقریب میں قائداعظم نے چوہدری ظفراللہ خان صاحب سے پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کاحلف لیا۔انہوں نے 1948ء سے 1954ء تک بحیثیت وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کے فرائض سرانجام دیئے۔ذیل میں کچھ حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں جن کی رُو سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگاکہ وہ کس قسم کانظام یانظریہ کے حامی تھے۔15دسمبر1947ء کراچی میں آل انڈیا مسلم کونسل کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایاپاکستان اسلامی نظریات پر مبنی ایک مسلم ریاست ہوگی اور یہ کوئی پاپائیت نہیں ہو گی اگر قائداعظم کی سوچ اسلامی طرز حکومت تھی تو وہ حقیقی اسلامی تعلیمات،قرآن وسنت کی روشنی میںآنحضرت  ﷺکے آخری خطبہ حجۃالوداع کے اصول مساوات پر مبنی اور میثاق مدینہ تھا۔آپ نے پشاور کے اسلامیہ کالج میں 1938ء کو طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ایسے ہی خیالات کااظہار کیاتھا۔ان کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھاجو آج کل کے مولویوں کا 72فرقوں والا نظام ہے اور جو آج ترقی کرکے پاکستان میں طالبنائزیشن بن چکاہے قائداعظم کاوہ عظیم خطاب جوآپ نے 11اور 14اگست 1947ء کو فرمایا دیکھ لیں جس میں صاف طو ر پرآپ کی ذہنی وعلمی سوچ سیکولر جمہوری ہونے کاثبوت ہے جس میں آپ نے کہاتھاکہ ہر مذہب اور فرقے کو مساوی حقوق حاصل ہونگے اور یہ سب کاپاکستان ہے تمام لوگ آزادی سے اپنے اظہار خیال کیساتھ رہ سکتے ہیں۔آپ نے اس کے عملی ثبوت کے طور پر پاکستان کی پہلی اسمبلی کے سپیکر جگن ناتھ اور وزیر قانون جگندھر ناتھ منڈل کو مقرر کیاتھااور اسی طرح مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس مسٹر کارنیلیسن اور فارن آفس میں ایس ایم برق کونامزد کیاان کے چیف سیکیوریٹی افسر پارسی تھے۔قائداعظم نے دہلی میں تیئسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھاکہ مسلمان گروہوں اور فرقوں کی نہیں اپنے اندر اسلام اور قوم کی محبت پیداکریں کیونکہ ان برائیوں نے مسلمانوں کو دوسوبرس سے کمزور کررکھاہے مزید برآں یہ فرمایاکہ جس ملک کی آج ہم بنیاد رکھنے جارہے ہیں اس میں ذات پات ،نسل و مذہب کی بناء پر کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیاجائے گا اور ہم سب ریاست میں برابر کے شہری ہیں۔آخر میںپاکستان کے حکمرانوں کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹانے کے لیے اور منفی سوچ رکھنے والوں کے لیے قائد اعظم کایہ خطاب اہم ہے جو 9جون1947ء کو نئی دہلی کے امپریل ہوٹل میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 445مندوب جو قائداعظم کے استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے ان لوگوں نے جب قائداعظم کو شہنشاہ پاکستان کے القاب سے ان کا استقبال کیاتو قائداعظم نے اس کو ناپسند فرمایااور کہا کہ اس کو ہرگز نہ دہرایاجائے ’’میں تو پاکستان کاسپاہی ہوں شہنشاہ نہیں‘‘یہ میرے قائد کا جملہ آج کے حکمران جو اپنے آپ کو مسلم لیگی ہونے کادعویٰ کرتے ہیں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اے قائد تجھ پر لاکھوں سلام ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *