آغا شورش کاشمیری (مدیر ہفت نامہ ’’چٹان‘‘)کے قلم سے

شہابِ ثاقب

کئی برس کی بات ہے۔ اس وقت کے گورنر خواجہ ناظم الدین کی صدارت میں ’’انجمن حمایت اسلام‘‘کاسالانہ اجلاس ہورہاتھا ثاقب زیروی کانام پکاراگیا۔کہ وہ اپناکلام سنائیں گے۔

نام شناساضرور تھا لیکن معروف نہیں تھا۔دیکھا کہ ایک نوجوان ’’فاعلاتن فاعلاتن،فعلن‘‘کی رفتار سے اٹھااور مائیکروفون کے سامنے کھڑاہوگیا۔چہرے پر حسن مطلع کے طور پرخشحشی ڈاڑی تھی۔رنگ چٹانہ تھا۔گندم کے اس دانے کی طرح جس کے کھانے سے ہمارے جداامجد حضرت آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے تھے۔سینہ تشبیب کی طرح تھا۔آنکھوں پر اس وقت چشمہ لگاہواتھا۔جس سے یہ کہنامشکل تھاکہ ان میں ’’مستی شراب کی سی ہے‘‘یادوزہرکے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے۔وضع قطع مشرقی تھی۔پہلے تو کچھ جچانہیں۔لیکن جب اس نے مطلع اٹھایااور اس میں اپنی آوازِ خوش کارس گھولاتو صدر سے لے کرسنتری تک کے کان کھڑے ہوئے۔

لاہور والے شاذ ہی کسی کو خاطر میں لاتے ہیں۔یعنی خطابت وشعر کے مسئلہ میںان کاایمان بڑا پختہ ہے۔ثاقب نے دیکھتی آنکھوں خواص وعوام کو لوٹ لیا۔اب اجلاس ان کے ہاتھ میںتھا۔خواجہ صاحب بھی مسند پر بیٹھے جھوم رہے تھے اور عوام بھی لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔اس قسم کی ستائش خدا کی دین ہوتی ہے۔فیِ الجملہ ثاقب صاحب محفل پرچھاگئے۔اس کے بعد مشاعروں سے ان کاتعلق قافیہ اور ردیف کاساہوگیا۔ اُنگلیاں سرواٹھاتے ہیں کہ وہ آتے ہیں

اس زمانے میں ثاقب روزنامہ ’’انقلاب‘‘ کے مدیر مخابرات تھے۔چٹان وانقلاب کے دفتر کی یکجائی کے باعث ان سے میل ملاقات ہوئی۔مگر ان کی شخصیت اُس وقت ابھری جب وہ  ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کے مدیر ومالک کی حیثیت سے سامنے آئے۔اور ان کی متوازن تحریروں کانقشہ جمنے لگا۔واقعہ یہ ہے کہ وہ جس پائے کے شاعر ہیں اسی مرتبہ کے ادیب بھی ہیں نقادبھی ہیں اور صحافی بھی۔سب سے بڑی بات جو انہیں عزیز بناتی ہے وہ ان کی مشرقیت واسلامیت ہے وہ ان دونوں کواس حدتک عزیز رکھتے ہیں کہ ان کے کلام وبیان میں یہ دونوں وصف اس طرح پھٹے پڑتے ہیں۔جیسے بہارمیں کونپلوں کاسہاگ نکھر کر پھول ہوجاتاہے۔

شہابِ ثاقب ۔ان کی غزلوں اور نظموں کامجموعہ ہے۔تقطیع ۸/۲۲×۱۸ ضخامت160صفحات۔ ناشر پاکستان کواپریٹو بُک سوسائٹی۔کراچی ۳کاعمدہ کاغذ اور سرورق پُر معنی۔شروع میں مولاناعبدالمجید سالک کے قلم سے تعارف ہے۔جو غالباًان کی آخری تحریرہے۔مولاناسالک ثاقب کے استاد ہیں۔ظاہر ہے ایسے مسلم الثبوت استاد کے قلم سے زبان وبیان کاجوفیض انہیں پہنچ سکتاتھااس سے انہوں نے کماحقہ فائدہ اٹھایا۔

ثاقب زبان کے معاملہ میںکہیں ٹھوکر نہیں کھاتے اور شعر کہنے میں ہمیشہ لوازم شعری کو ملحوظ رکھتے ہیں اس باب میں جو چیز انہیں معاصروں سے ممتاز کرتی ہے وہ عروض وبحور سے شغف اور نزاکت زبان وسلامت زبان سے انہماک ہے۔شہاب ِثاقب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس عہد کے نوجوان شعر اء کی طرح ثاقب حمد ونعت سے گریز نہیں کرتے اور نہ اس متاع گرانمایہ کے ماضی موہوم کاورثہ سمجھ کر طاق نسیاں رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے مجموعہ کاآغاز رب اکبر کی حمد سے کیاہے۔پھر اس کے بعد سرورِ کائنات (فداہ اُمی وابی) کی شانِ اقدس میں نعتیں کہی ہیں۔

جس میں ذوق وشوق اور سوزوگداز اس بھر پور انداز میں ہے کہ ہر شعر سے حضور ی کاجذبہ پیداہوتاہے۔’’زہراب‘‘ کے زیرعنوان غزلیں اور ’’تقاضے‘‘ کے زیر عنوان نظمیں دی گئی ہیں۔ان دونوں حصوں کابانکپن یہ ہے کہ شاعر کسی مرحلہ یاکسی موڑ میں بھی بہکانہیں۔سالک صاحب مرحوم کے الفاظ میں اس کی خوبی کاخلاصہ یہ ہے کہ نوجوان ہونے کے باوجود ثاقب کے ہاں نفسی بے راہ روی یافکری آوارگی کاشائبہ نہیں۔وہ ایک بندھے ٹکے اسلوب کے شاعر ہیں۔نتیجہ ان کی فکر میں جدت ہے۔ابتذال نہیں۔دین اور حمیت دین ہے۔ملائیت نہیں۔اسی طرح عشق ہے فسق نہیں۔اگر اسی شعر اور غنائیت کے ساتھ ثاقب ترقی پسندوں کی صف میں ہوتے تو اب تک ان پر کئی مقالے اور کتابچے تحریر ہوچکے ہوتے۔ لیکن ان صفوں میں ان سے اس لیے صرف نظر کیاگیاکہ وہ ان کی قدروں کے ہمنوانہیں۔

اور جن قدروں کے وہ داعی ہیں وہ دنیاسے زیادہ عاقبت کی چیز ہیں۔

الغرض۔’’شہابِ ثاقب ‘‘ ایک ایسامجموعہ اشعار ہے۔جوادبی شرافت کی ہر محفل میں بارپاسکتاہے۔اور ہرقاری اس کے مطالعہ سے ذہنی مسرت حاصل کرتاہے۔‘‘

(ہفتہ وار’’چٹان‘‘مورخہ 5دسمبر1960ء و ہفتہ وار’’لاہور‘‘مورخہ 12،دسمبر 1960)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *