آسٹریلیا کی گلابی جھیلیں

تحریر:ڈاکٹرطارق احمدمرزا۔آسٹریلیا

شاعروں کو محبوب کی آنکھیں بڑی بڑی سی اوردل کش سی دکھائی دیں تووہ  انہیں جھیل قراردے کر ان میں ڈوب جانے کی تمنا میں مچلنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن اگر یہ جھیل سے بڑی  اور گہری آنکھیں کچھ زیادہ ہی بڑی دکھائی دینے لگ جائیں تو محبوب کو اپنی یہ آنکھیں ڈاکٹروں کو دکھانے کا مشورہ دیاجاتاہے جوبعد ازمعائنہ انہیں تھائرائڈ ہارمون کا ٹیسٹ اور کھوپڑی کاسی ٹی سکین کروانے کی ہدایت کردیتے ہیں۔

اسی طرح سے محبوب کی آنکھیں گلابی ہونے لگیں تو شاعروں کوان میں اترتا ہلکا ہلکا سا نشہ اورتھکاتھکا سا خمارپتہ نہیں کہاں سے دکھائی دے جاتا ہے چاہے محبوب نے شراب چکھی تو کیا دیکھی بھی نہ ہو  ،لیکن اگر آنکھوں کی یہ کیفیت چارپانچ ایام سے بڑھ جائے اور ان کا گلابی پن لالی میں بدلنے کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے تیزابی پانی بہنا اوران میں شدیدخارش بھی شروع ہوجائے اور صرف یہی نہیں بلکہ آنکھوں کی یہ لالی اور خارش محبوب کے والدین اور اس کے بڑے بھائی کی آنکھوں میں بھی منتقل ہونا شروع ہوجائے تومحبوب شاعر کے خیال یا اس کی غزل میں نہیں بلکہ پورے ٹبرسمیت ڈاکٹر کے ویٹنگ روم میں بیٹھانظرآتا ہے !۔  

آمدم برسرمطلب، انسانی آنکھیں جھیل جیسی گہری ،بڑی اوراور گلابی ہوں توشاعروں  یاطبیبوں کو اطلاع  دی جاتی ہے لیکن جب سچ مچ کی جھیلیں،یعنی کہ زمین پہ پائی جانے پانی سے بھری ارضیاتی جھیلیں، اگرگلابی رنگ کی نظرآئیں تو کس کو اطلاع کی جاتی ہے؟۔شاید کوئی قاری کہہ اٹھے کہ پھرکسی کو اطلاع نہیںکی جاتی بلکہ آنکھوں کے معالج سے رابطہ کیاجاتاہے لیکن یہ بات درست نہیں۔

اگر زمین پہ پائی جانے والی کوئی جھیل گلابی رنگ کی نظرآئے تواس کی اطلاع کسی اور کو نہیں صرف سیاحوںاور سائنسدانوں کو کی جاتی ہے۔جیسا کہ آسٹریلیا میں ہوا۔ آسٹریلیا اگر ایک طرف سفید ریت کے حامل سمندری ساحلوں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے تو دوسری طرف اپنی گلابی جھیلوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔قدرتی طورپرپائی جانے والی گلابی رنگ کی یہ جھیلیں زیادہ ترمغربی آسٹریلیا میں پائی جاتی ہیں۔ہرسال کثیرتعدادمیں دنیا بھر،خصوصاً چین سے بڑی تعداد میں سیاح انہیں دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ ان گلابی جھیلوں کو پنک ببل گم جھیلیں یاسٹرابری ملکStrawberry Milk Lakes کی جھیلیں بھی کہاتاہے۔لیکن واضح رہے کہ ان کا پانی انتہائی مضرصحت بلکہ سم قاتل کادرجہ رکھتاہے ۔

سمندر کے نیلگوں پانی ،سفید ساحلی ریت اور گہرے سبزجنگلات کے قرب میں واقع یہ گلابی جھیلیں  بلند مقام یا فضا سے دیکھنے پر ایک عجیب نظارہ پیش کرتی ہیں جسے دیکھ کر انسان زمان ومکان ہی نہیں خود اپنے آپ کوبھی فراموش کربیٹھتاہے۔

جھیلوں کی یہ گلابی رنگت ،مختلف موسموں ،حتیٰ کہ دن کے مختلف اوقات میں اپنے شیڈبدلتی رہتی ہے۔کبھی بالکل ہلکی سفیدی مائل گلابی تو کبھی بھڑکیلی آتشی گلابی نظرآتی ہے۔کافی عرصہ سے سائنسدانوں کا خیال تھ اکہ ان جھیلوں کا یہ گلابی رنگ ان میں پائے جانے والے نمکیات کی وجہ سے گلابی ہوجاتا ہے۔بعد میں یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ اس رنگ کی وجہ ایک خاص قسم کی کائی   Algae  ہے لیکن حال ہی میں ماہرین حیاتیات نے یہ پتہ لگایا ہے کہ ان جھیلوں کا گلابی رنگ کائی کے علاوہ ایک خاص قسم کے جرثومہ(بیکٹیریا) کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے جو سخت کھارے اور نمکین پانی میں پلتابڑھتااورنشونماپاتا ہے۔

اس جرثومہ کانام Salinibacter Ruber  رکھ دیا گیا ہے۔گلابی جھیلوں میں کائی سے کہیں زیادہ تعدادمیں یہی جرثومہ موجود ہوتا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ جرثومہ گلابی رنگ کاایک خاص کیمیائی مادہ Baterioruberin   پیدا کرتا ہے جو اس جرثومہ کے لئے سورج کی روشنی کاارتکازکرکے اس کی بقاکے لئے انرجی جمع کرتااور تقویت پہنچاتا ہے۔

کھارے اور کڑوے نمکین ترین پانی میں نشونما پانے والے اس بیکٹیریا کا شمارجراثیم کے اس گروہ سے ہے جنہیں  Extremophile  یعنی انتہاپسندکہا جاتا ہے۔واضح رہے کہ یہ انتہاپسند بیکٹیریاشدت پسندضرور ہوتے ہیں لیکن تشددپسندیادہشت گرد ہر گزنہیں ہوتے جیساکہ  ہم آئے روزاخبارات وغیرہ میں پڑھتے رہتے  ہیں  !۔

زمین پہ ان انتہاپسندبیکٹیریا کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔کچھ حرارت پسند ہوتے ہیں اور220 درجہ سنٹی گریڈ تک درجہ حرارت مزے سے برداشت کر لیتے ہیں۔عموماًلاوااگلتے یاابلتے آتش فشاں پہاڑوں کے قرب وجوارمیں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح سے کچھ  ایسے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ایٹمی تابکاری یعنی  radiation   Ionicکوپسندکرتے ہیں۔ان کو چھوٹے موٹے ایٹم بم بھی پٹاخے یا پھلجھڑیاں لگتی ہیں۔اسی طرح سے کچھ بیکٹیریاوزن یادباؤ پسند ہوتے ہیں ۔عمیق ترین سمندر کی تہہ سے بھی ڈیڑھ دوہزارفٹ نیچے پائی جانے والی ہزاروں لاکھوں ٹن وزنی چٹانوں کے اندر،جہاں نہ ہوا پہنچ سکتی ہے نہ نمی،نہ روشنی نہ کچھ اور ،وہاں یہ بیکٹیریازندہ سلامت دریافت کئے جاچکے ہیں۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ خداپتھر کے اندرکیڑے کو بھی رزق فراہم کرتا ہے تو یہ بالکل سچ ہے۔

بات کہیں سے کہیں نکل گئی ہے لیکن قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ زمین پہ پائے جانے والے ان انوکھے سخت جان بیکٹیریا کی دریافت کے بعد سے سائنسدانوں نے (جنہیں آسٹروبیالوجسٹ کہاجاتا ہے )نے اس پراجیکٹ  پہ کام کرنا شروع کیا ہے کہ اسی قسم کے سخت جان بیکٹیریا چاند،مریخ ،شہابیوں اور دیگر سیاروں یا ستاروں میں بھی ضرورزندہ سلامت موجودہونگے جہاں بقول استاد مام دین کے جتھے منجی نہ بوا،جتھے دانہ نہ پانی ،جتھے ہوا نہ بتی موجود ہوتی ہے۔

بات ہو رہی تھی آسٹریلیاکی گلابی جھیلوں کی، تو انصاف کا تقاضاپوراکرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کرتا چلوں کہ گلابی جھیلیں صرف آسٹریلیا میں ہی نہیں بلکہ کینیڈا اور افریقہ میں بھی دریافت ہو چکی ہیں۔

قارئین میں سے جو احباب قدرت کی ان شہکارگلابی جھیلوں کو آسٹریلیا،کینیڈا یا افریقہ آکردیکھنے کی استطاعت یا فرصت نہیں رکھتے ،فکر نہ کریں۔کسی دن منہ اندھیرے کچی نیند اٹھ کر ہاتھ منہ دھوکر آئینہ میں اپنی آنکھوں کو تودیکھ سکتے ہیں ناں۔بس یونہی لگتی ہیں آسٹریلیا کی یہ گلابی جھیلیں !۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *