پروفیسر کرامت راج

مجھے نویدِ وِصال دیکر حیا  کے  پردوں  میں جا چُھپے ہو

مگریہ سُن لو اَے جانِ جاناں مری نگاہوں میں آ بسے ہو

تمہیں حقیقت کا روپ دیکر چُرایا سپنوں سے  میں نے ایسے

کہ اَب تصور سے تم نکل کر نہ جاسکو گے نہ جا سکے ہو

ہمیں بچھڑنیکا غم نہیں ہے بِنا  تُمہارے  بھی جی سکیں گے

جو  بات  مجھ  کو    پتا  نہیں  ہے  وہ   بات  کیسے بتا رہے ہو

ہمِیں  قتیلِ  رہِ وفا  ہیں ہمِیں  شہیدِ  رہِ  خُدا ہیں

ہمارے طور و طریق ہیںیہ ہمیں کیا  اِن  سے  ڈرا رہے ہو

نہ پرکھوخودکو کِسی طرح سے ناڈھونڈو خود کوبھی این وآں میں

ہزاروں لوگوں کے درمیاں بھی  ہمیشہ  تُم  تو سِوا رہے ہو

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *