میں آپ کاہوں

ثاقب زیروی

دنیا کو نہ محبوب نہ مطوب ہوا ہوں

میں آپؐ کا ہوں آپؐ سے منسوب ہوا ہوں

کل تک مِرے سائے سے لرز جاتاتھاسُورج

آج اپنے ہی سائے سے میں مرعوب ہواہوں

کل تک مِرا دامن تھا فرشتوں کی جبینیں

آج اپنی نگاہوں میں ہی معیوب ہوا ہوں

ہر رنگ میں پہچانتا ہوں اُن کی تجلّی

یُوں ہوش میں رہتے ہوئے مجذوب ہوا ہوں

کِس شہر میں ہیں اُنکے تلطف کی ہوائیں

میں دیدہ حالات کا معتوب ہوا ہوں

توفیق بھی دے، ظرف بھی دے، تابِ نظر بھی

کیوں اپنی تجلی ہی سے محجوب ہوا ہوں

پھر میرے خیالوں کی مسیحائی کو آجا

میں دارِ خیالات پہ مصلوب ہوا ہوں

ہے عشق مجھے شاہدِؐلولاک سے ثاقبؔ

کیوں ظلمتِ ایّام کو مرغوب ہوا ہوں

 

 

فرست ہے کسے جو سوچ سکے  منظر ان افسانوں کا

کیوں خواب طرب سب خواب ہوئے کیوں خون ہوا ارمانوں کا

تاریخ کے سینے میں اب تک ہیں دفن وہ سارے ہنگامے

انسان کے ہاتھوں دنیا میں کیا حال ہوا انسانوں کا

(شاعرِلاہور)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *