اندھیرے راستے

 

تحریر:  فوزیہ منصور

یوں تو پنکی کی شادی کو دو ہفتے ہو گئے تھے۔مگر چہرے پر خوشیوں کے رنگ نظر آنے کے بجائے فکر اور بے چینی کی گرد جمی ہوئی تھی۔ بچپن میں بہن بھائیوں میں ماں نے اپنی محبت کو تقسیم کیا۔تو اس کے حصے میں فقط جدائی لکھ دی گئی۔جب چھ سات سال کی عمر میں ماں کی نرم گرم گود کی ضرورت تھی تب اسے نانی کے حوالے کر دیا گیا۔تاکہ باقی بچوں کو وقت دیا جا سکے۔گو کہ چند سالوں بعد جب شعور بیدار ھوا تو ماں نے واپس بلا لیا۔ مگر درمیان کے سال خالی کشکول لئے محبت کے گلی کوچوں میں مارے مارے پھرتے رہے۔

 خاموشیوں نے شوخیوں پر ڈیرے ڈال لئے تھے۔ بڑی بہن کی آزاد خیال طبیعت نے وہ گل کھلایا کہ لوگوں کے طعنے دیواریں پھلانگ کر اندر آنے لگے۔ پسند کے لڑکے ساتھ بھاگ جانے کی سزا پنکی کو ذہنی اور جسمانی اذیت دے کر پوری کی جانے لگی۔ شک کی چھڑی ہر لمحے اس کے سر پہ مسلط رہتی۔ اور سزاؤں کے ساتھ اس سے کتابیں چھین کر کچن اور گھر کی ذمہ داری دے دی گئی۔ بہن کے غلط قدم کے طعنے پہلے ہی دل و دماغ میں سوراخ کر چکے تھے۔رہی سہی کسر تعلیم کا شوق جبرا ختم کر کے نکالی گئی۔ ماں باپ نے آنے والے اس رشتے کو نعمت سمجھا اور دنوں میں شادی کر دی

 آج دو ہفتے کی شادی کے بعد بھی وہ کنواری تھی۔وہ مہندی، ڈھولکی، میٹھائی اور بہت سے مہمانوں کی امدورفت کو ہی شادی سمجھتی رہی۔ خاوند ناشتے کے بعد جاتا اور رات گئے تک لوٹتا۔ساس اکثر پڑوسیوں کے چلی جاتییا اپنے کمرے میں جرمنی بیٹھی بیٹی سے لمبے لمبے فون کرتی۔

سسر پنکی سے اپنی خدمت کرواتا۔ کبھی کہتا سر دبا دو کبھی کہتا کمر میں بہت درد ہے پاؤں سے دبا دے، پنکی باپ کو بھی دباتی تھی سسر کو بھی باپ کی طرح دبا دیتی۔ مگر آج اس کی بے چینی میں ڈر اور خوف بھی تھا۔کیونکہ صبح سسر کو چائے دینے گئی تو اس نے کہا میرا ہاتھ بہت درد کر رہا ہے۔ ذرا بیٹھ کر دبا دو۔ وہ خاموشی سے سامنے بیٹھ کر دبانے لگی کہ اسے محسوس ہوا کہ سسر مسلسل اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ سترہ سالہ بچی کو نظروں کی اتنی پہچان کہاں وہ دباتی رہی سسر نے اچانک اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔ پنکی کو بہت گھبراہٹ ہوئی۔ ساس کی آواز نے اس کی مشکل آسان کی۔

 اکثر و بیشتر سسر کی ایسی حرکات سے وہ سخت بے چین رہنے لگی۔مگر جانتی تھی۔ اس کی بات کو کوئی سچ نہیں مانے گا۔وہ روز ان حالات سے بچنے کی ترکیبیں سوچتی۔خاوند میں مردانگی ہوتی تو اسے بھی تحفظ کا احساس ہوتا۔ پنکی روز سوچوں کے سمندر میں غوطے لگا کر خود کو بچانے کے لئے ترکیب ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کرتی۔

 ایک دن پنکی سے چھوٹا ماما ملنے آیا۔جو دوسروں کی نسبت زیادہ خیال کرتا تھا۔ وہ تو کئی دنوں کی بھری بیٹھی تھی۔ماما جی کو دیکھ کر الفاظ اور آنسوؤں کی دوڑ لگ گئی۔نہ لفظ ہارے نہ آنسو تھکے،ہاں ماما جی نے سر پہ ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔ اگلے دن پنکی کے والدین کو راضی کر کے اسے واپس لے آئے۔ شادی سے پہلے کونسی عزت تھی جو اب خلع کے بعد قدر ہونی تھی۔باپ دوسرے شہر کمانے چلا گیا۔ تو پنکی نے کچھ اپنا کچھ گھر کا خرچ چلانے کے لئے سلائی اسکول میں ملازمت کر لی۔ اسی گھر کے سامنے ایک بھلا مانس رکشے والا رہتا تھا جس کے رکشے پہ اکثر پنکی جاب پہ چلی جاتی ہمسایہ ہونے کے ناطے وہ بھی پنکی اور اس کی امی سے پوچھ لیتا کوئی کام تو نہیں۔ اکثر بجلی کے بل جمع کروا دیتا۔ پنکی کی چھوٹی بہن اس سے پہلے بڑی بہن کے کرتوت دیکھ چکی تھی۔

 دل میں شکوک کا لاوا پک رہا تھا۔سو ایک دن منہ کھلا تو سارا گند ماں کے آگے نکال دیا۔پنکی نے اپنے کانوں سے بہن کے خدشات سنے تو وہ سکتے میں آ گئی اسے اپنے ا جلے لباس میں گندگی کی چھینٹیں دکھائی دینے لگیں انھی دنوں افضال کا رشتہ آیا ھوا تھا جو پنکی سے دوگنی عمر کا تھا۔ ماں تو چپ سی ہو گئی۔ پر پنکی بہن کی باتوں سے دلبرداشتہ تھی۔اس نے حیا کی تمام دیواریں پھلانگ کر اس شخص کے سامنے بیٹھ کر رشتے کے لئے ہاں کر دی۔ بہن کے شکوک کی آگ میں اس نے اپنے سارے ارمان جلا دیئے۔ جذبات نے عقل کی ساری شمعیں بجھا دیں۔ اور ایک بار پھر سرخ جوڑے میں وہ مردہ دل میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ جانے کب رات گزری۔ کھڑکی سے آتی روشنی نے اس کے ٹھنڈے وجود میں حرارت پیدا کی اس نے گردن گھوما کے دیکھا۔اس کا ادھیڑ عمر شوہر گہری نیند میں تھا۔اس کے بلند خراٹوں میں پنکی کے کنوارے جذبات ہچکولے کھا رہے تھے۔ کتنے ہی اشک گالوں سے پھسل کر تکیہ بھیگو چکے تھے۔اسے لگا سامنے دیوار پہ لگی گھڑی کی ٹک ٹک اس کا مذاق اڑا رہی ہے۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *