قادیانیوں (احمدیوں)سے انسان ہونے کا حق واپس لے لیں!

تحریر: محمد فاتح ملک

ابھی دو ماہ قبل فرانس کی ٹیم نے فٹبال کا ورلڈکپ جیتا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ صرف فرانس کے رہنے والے اس کی خوشی مناتے لیکن فرانس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے بھی خوشی منائی اور خوب منائی کیونکہ اس ٹیم میں 5 مسلمان کھلاڑی شامل تھے۔ پاکستان سمیت بہت سے اسلامی ممالک میں فرانس کے ساتھ خوشی منائے گئی اور میڈیا میں اس کو خوب اچھا لا گیا۔

جب برطانیہ میں مسلمان پارلیمنٹیرین اور ہاوس آف لارڈز میں مسلمان نمائندے منتخب ہوئے تو پاکستان میں اس کی گونج بھی خوب سنی گئی۔ بلکہ جب برطانیہ میں مسلمان  مئیر منتخب ہوئے تو بھی اس کو خوب سراہا گیا۔ جب ہندوستان کے بہترین اداکارکا ایوارڈ مسلمان لیتے ہیں تو بھی پاکستان کے مسلمانوں کا مذہبی جوش دیکھنے والا ہوتا ہے بلکہ ہندوستان میں کھیل کے میدانوں میں مسلمان کھلاڑیوں کو بھی خوب داد تحسین دی جاتی ہے کہ  ایک ہندو ملک میں اقلیتی مسلمان ہی کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔

امریکہ کی فوج میں پہلی مسلمان خاتون کے آفسر بننے کو بھی مسلمانوں کی کامیابی اور کارکردگی گردانہ جاتا ہے۔

لیکن ٹھہریےیہی کام اگر پاکستان میں ہو جائیتو  قیامت برپا ہو جاتی ہے۔ یہاں اگر اقلیت سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اپنے علم، عمل اور ذہانت سے آگے آجائے تو 97 فیصد مسلمانوں کے ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ان کا ’’اسلام‘‘ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اقلیت سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اپنی محنت اور صلاحتیوں کے بل بوتے  پر اوپر آ جائے تو پاکستان کے اکثریتی مسلمانوں کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ 21 کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کا ایمان اتنا کمزور ہے کہ ایک شخص 21 کروڑ کا ایمان خراب کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔ یعنی 0.00001 فیصد کی حیثیت رکھنے والا شخص  97 فیصد ’’پکے اور کھرے‘‘ مسلمانوں کا ایمان خراب کر سکتا ہے۔  پہلے ڈاکٹر عبد السلام جیسے شخص کو، جس کو ساری دنیا ہیرو مانتی ہے ہمارے ’’پکے اور کھرے‘‘ مسلمانوں کے ایمان کی وجہ سے ملک سے باہر رہنا پڑا اور اس کو ’’غدار‘‘ قرار دینا پڑا۔ پھر اب ایک ماہر معاشیات عاطف میاں کو وزیر اعظم کی ایڈوازری کمیٹی میں شامل کرنے پر واویلا مچایا جا رہا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ ایک شخص جس کی خدمات عرب مسلمان ممالک، انڈونیشیا، ملائیشا ، ترکی جیسے مسلمان ملک لیتے ہیں اس کی خدمات پاکستان کیوں نہیں لے سکتا؟ کیا ترکی، ملائیشیا، انڈونیشیا کے مسلمان ختم  نبوت پر ایمان نہیں لاتے؟ یا پھر عرب ممالک ختم نبوت کے منکر ہیں جو اس قادیانی کی خدمات لیتے ہیں؟یا ان کروڑوں مسلمانوں میں ’’اسلامی غیرت‘‘ نہیں جو ایک قادیانی کو پیسے دے کر مشورے لیتے ہیں۔ یا شاید اس وقت دیڑھ ارب کی مسلمان آبادی میں صرف پاکستانی مسلمان ہی اسلام کے ہمدرد ہیں باقی تو برائے نام مسلمان ہیں۔ سبحان اللہ! دبئی، قطر سمیت عرب ممالک میں جب عیسائی آرکیٹیکٹ  سے اپنے ملک کی تعمیرات کرواتے ہیں تب وہ لاکھوں پادرییاد نہیں آتے جو دن رات رسول کریمﷺ کو گالیاں دیتے ہیں؟ وہ کارٹونسٹ یاد نہیں آتے جو ہر سال کارٹون بنا کر توہین رسالت کرتے ہیں؟

کیوں پاکستان کے ’’پکے مسلمان‘‘ عرب ممالک اور دوسرے اسلامی ممالک کو مطلع نہیں کرتے کہ قادیانیوں کی خدمات لینا حرام اور شریعت کے خلاف ہے؟ آخر وہ بھی مسلمان ہیں اور اسی نبی اکرم ﷺ کو ماننے والے ہیں ان کو بھی تو معلوم ہونا چاہئے کہ عاطف میاں کی خدمات لینا سرکار دوعالم ﷺ سے غداری کے مترادف ہے۔

اب آئے اپنے ملک پاکستان کی طرف۔ یہاں آپ کو روز کرپشن اور ڈاکے، زنا، چوری، قتل و غارت کے واقعات ملیں گے لیکن ذرہ ’’سند یافتہ مسلمان‘‘ یہ بتائیں گے کہ ان میں کتنے لوگ اقلیت سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں اور کتنے ’’پکے مسلمان‘‘ ہوتے ہیں؟ شاید بتانے سے پہلے ہر پاکستانی شرم سے ڈوب جائے۔ جب ہمارے ملک کے ’’کھرے اور پکے‘‘ مسلمان عیسائی ملکوں(اس میں سر فہرست وہ عیسائی ممالک ہیں جو آئے روز توہین رسالت کے مرتکب ہوتے ہیں) میں جاتے ہیں تو اس وقت ان ملکوں میں رہنے کے لئے، ان کییونیورسٹوں میں پڑھنے کے لئے بھیک مانگتے ہوئے سرکار دو عالم سے غداری نہیں کرتے؟ یایہ غداری صرف پاکستان میں رہ کر قادیانیوں سے میل ملاپ میں ہی ہے؟ جب انہی عیسائی ملکوں میں جا کر دوسرے درجہ کی شہریت لینے کے لئے پاپڑ بیلتے اور اسلامی نہیں، ان کے بنائے ہوئے غیر اسلامی قانون کی پاسداری کا حلف اٹھاتے ہیں اس وقت ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کے دعوے کہاں جاتے ہیں؟ تھوڑی سی شرم اور تھوڑی سی حیا ہوتی ہے۔

ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ عاطف میاں نے شریعت نہیں پڑھانی۔ اس نے صرف معاشیات پرمشورہ دینا ہے۔ اس کو مشیریا وزیر نہیں بنایا گیا کہ اس کو فیصلہ صادر کرنے کا حق مل رہا ہو۔ بلکہ 18 رکنی ٹیم میں صرف ایک ممبر عاطف میاں ہے۔ اس پر بھی سارے مسلمانوں کو خطرہ ہے۔(ویسےیہ بات الگ ہے کہ پاکستان میں بیسیوں بنکوں میں سود کی تجارت اور سودی لین دین ہوتا ہے اور ان بنکوں میں کام کرنے والے اور ان کو چلانے والے  معاشیات کے ماہر قادیانی نہیں بلکہ اس ملک کے ’’نابغہ روزگار مسلمان‘‘ شہری ہی ہیں۔ بلکہ اس ’’مملکت خداداد‘‘ کا ہر فرد جو قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور اس ملک کا ہر ادارہ جو مقروض ہے اس کے پیچھے ’’پارلیمنٹ کے سند یافتہ مسلمان‘‘ ماہر معاشیات کی ہی ’’شب و روز‘‘ کی محنت اور اعلیٰ علمی قابلیتیں پنہاں ہیں)۔ یا منافقت تیرا ہی سہارا!!

اگر پاکستان میں قادیانیوں کو ہر طرح کی سرکاری نوکریوں سے دور رکھنا ہے، کیونکہ کسی بھی سرکاری نوکری میں اگر کوئی قادیانی کام کرے تو یہ اسلام اور رسول اللہ ﷺ سے غداری ہے،  تو میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں ایک بار پھر 1974 کی طرح اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے اور قادیانیوں(کیونکہ احمدی تو اپنے آپ کو احمدی بھی نہیں کہہ سکتے ان پر تو یہ بھی ’’فرض‘‘ ہے کہ آپ کے عطا کردہ لقب قادیانی کو استعمال کریں نہ کہ اپنے لئے وہ نام رکھیں جو انہوں نے اپنے لئے خود چنا ہے) پر ہر قسم کی سرکاری نوکری پر پابندی لگا  دی جائے کم از کم یہ منافقت تو ختم ہو۔ قادیانیوں کو بھی معلوم ہو کہ اب یہ پاکستان کا ’’مقدس از شریعت‘‘ قانون قادیانیوں کو نوکری کی اجازت نہیں دیتا۔اس لئے نہ آئندہ اس کی کوشش کریں نا یہ شور مچائیں کہ یہ نوکریاں ’’ہمارا قانونی حق‘‘ ہے۔  بلکہ میں تو کہتا  ہوں کہ قادیانیوں سے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ انسان ہونے کا حق بھی چھین لیا جائے۔ ان کو بتا دیا جائے کہ جب تک تم قادیانی ہو تمہیں انسانی حقوق حاصل ہی نہیں۔ تم جتنا مرضی پڑھ لکھ جاو، جتنی مرضی تمہاری قابلیت ہو لیکن تم جب تک تم قادیانی ہو تم پاکستان میں انسانی حقوق لینے کے حق دار نہیں۔ یہ ایسی اسلام کی خدمت ہو گی کہ پھر قادیانیت صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائے گی۔ ہاں لیکنیہ ضرور یاد رکھیے گا کہ یورپ، امریکہ اور ہندوستان کے ممالک جب مسلمانوں کے خلاف ایسا سلوک کریںیا پھر ایسا قانون بنائیں تب سیخ پا ہونے اور شور مچانے کی کوئی ضرورت نہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *