زریں نصائح

تحریر:مدثرہ عباسی لندن

ہمارے ملک کاایک تاریخی واقعہ ہے کہ شاہجہان کی بیوی ممتاز محل نے خواب میں دیکھاکہ وہ مرگئی ہے اور فرشتے اس کی قبر پرایک شاندارعمارت تعمیر کررہے ہیں۔اس نے بیدار ہونے پربادشاہ سے ذکر کیااور بادشاہ نے وعدہ کیاکہ وہ اس کی قبر پرویسی ہی شاندار عمارت بنائے گا۔جب وہ مرگئی توجس قسم کی عمارت کااس نے بادشاہ سے ذکر کیاتھااس قسم کی عمارت تیارکرنے کے لیے بادشاہ نے انجینئروں کوبُلایامگر ہرانجینئر نے یہی کہاکہ اس قسم کی عمارت بننی ناممکن ہے۔آخر ایک انجینئر ایران سے آیااور اس نے کہامیں اس قسم کی عمارت بنانے کے لیے تیار ہوں۔مگر شرط یہ ہے کہ آپ دو لاکھ روپیہ کی تھیلیاں لے کرکشتی میں میرے ساتھ بیٹھ جائیں اور جمناکے دوسرے کنارے چلیں اور مجھے وہ مقام دکھائیں جہاں آپ مقبرہ بناناچاہتے ہیں چنانچہ بادشاہ نے ہزار ہزار روپیہ کی دوسوتھیلیاں بھرواکر ساتھ رکھ لیں اور کشتی میں وہ اور انجینئر سوار ہوگئے۔ابھی تھوڑی دُور ہی کشتی گئی تھی کہ انجینئرنے ایک تھیلی اُٹھائی اور پانی میںیہ کہتے ہوئے ڈبودی کہ بادشاہ سلامت یوں روپیہ خرچ ہوگا۔بادشاہ نے کہاکوئی پرواہ نہیں۔مقبرہ بنناچاہئے پھردوگز کشتی آگے چلی تو اس نے دوسری تھیلی اُٹھاکردریامیں پھینک دی اور کہابادشاہ سلامت یوں روپیہ غرق ہوگا۔بادشاہ نے کہاکوئی پرواہ نہیں مقبرہ بنناچاہیئے۔یہاں تک کہ اسی طرح اس نے دو سو تھیلیاں دریامیں غرق کردیں مگر بادشاہ کے ماتھے پرذرّہ بھی بل نہ آیا۔جب کشتی دوسرے کنارے پرپہنچی تو بغیر وہ جگہ دیکھنے کے جہاں بادشاہ مقبرہ بنواناچاہتاتھاوہ انجینئر کہنے لگابادشاہ سلامت اب مقبرہ بن جائے گا۔وہ کہنے لگاتم نے جگہ تو دیکھی نہیں۔اس نے کہامیں تو صرف آپ کے حوصلہ کاامتحان لیناچاہتاتھااور میں نے دیکھ لیاہے کہ دو لاکھ روپیہ کے غرق ہوجانے کے باوجود آپ کے ماتھے پر بل تک نہیں آیاپس میں سمجھ گیاہوں کہ جوشخص دولاکھ روپیہ اس طرح غرق کراسکتاہے وہ مقبرہ پر کئی کروڑروپیہ بھی خرچ کرسکتاہے۔یہ بھی اسی بات کی مثال ہے کہ دُنیامیں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جوقربانیاں کرتے ہیں۔

(خطباتِ محمود جلد 1صفحہ198)           

ایک دفعہ ایک عیاش بادشاہ ایک بڑے عالم سے ملنے گیاجاکے دیکھاکہ وہ اپنے شاگردوں کودرس دے رہے تھے۔بادشاہ نے کہاکوئی اپنا شاگردمجھے بھی دکھاؤمیں اس کاامتحان لوں۔انہوں نے ایک شاگرد پیش کیا۔بادشاہ نے اس سے بعض سوال پوچھے اس نے نہایت اعلیٰ صورت میں ان سوالوں کاجواب دیا۔یہ سُن کربادشاہ نے جواب دیامَامَاتَ مَنْ خَلَّفَ مِثْلَکَوہ شخص جس نے تیرے جیسا قائم مقام چھوڑا کبھی نہیں مرسکتا۔

حضرت مولوی نورالدین صاحب فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیااور کہنے لگا۔لڑکی کی شادی ہے کچھ مدد کیجئے۔فرماتے مجھے تعجب ہواکہ اسلامی نکاح کے لیے خرچ کی کونسی ضرورت ہے۔جتناخرچ کر کے یہ شخص یہاں آیاہے اس میں نکاح ہوسکتاتھا۔میں نے کہاجتنی رقم رسول کریمﷺنے فاطمہ ؓکے نکاح پرخرچ کی تھی اتنی میں آپ کودے دیتاہوں کچھ دیر چپ رہنے کے بعد وہ کہنے لگاکہ آپ میری ناک کاٹنا چاہتے ہیں۔مولوی صاحب نے فرمایا۔رسول کریمﷺکی ناک نہ کٹی تو تمہاری کیونکر کٹ جائے گی۔

درحقیقت اس طرح ناک نہیں کٹتی ہاں جو سوال کرکے خرچ کرتایاقرض لیکر شادی کرتاہے اس کی ناک خود ہی کٹ جاتی ہے۔  (خطباتِ محمود جلد3صفحہ 160)           

حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحبؓ ایک مثال بیان فرمایاکرتے تھے کہ ایک عورت کے زیوار ت ایک چور لے گیا۔اس نے چور کی شکل دیکھ لی تھی۔ایک دن وہ گلی میں بیٹھی چرخہ کات رہی تھی تو وہ چور گزرا۔عورت نے اس کوکہاذرا میری بات تو سن جاؤ،وہ ڈر کے مارے بھاگاتو اس نے کہامیں تمہیں پکڑواتی نہیں صرف بات سن جاؤ۔جب وہ ٹھہراتو اس نے کہاکہ دیکھوتم سب زیورات لوٹ کرلے گئے تھے،لیکن میرے ہاتھ میں پہلے سے بھی موٹے کڑے ہیں اور تمہاری وہی پہلی لنگوٹی ہے۔

(خطباتِ محمودجلد1صفحہ 451)            

حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ؓفرمایاکرتے تھے کہ کسی گاؤں کے مولوی نے ایک ایسی عورت کانکاح پڑھ دیاجس کاپہلے ہی نکاح ہوچکاتھا۔حضرت مولوی صاحب فرمایاکرتے تھے کہ مجھے یہ سُنکر بہت تعجب ہواکیونکہ میں اس مولوی کوسادہ اور دیندار شخص سمجھتاتھا۔ایک دفعہ اس سے ملاقات ہوئی توحضرت مولوی صاحب نے اس سے پوچھاکہ میں نے اس طرح سُنا ہے اصل بات کیاہے۔اس نے جواب دیاکہ آپ نے غلط نہیں سُنا۔بات تو اسی طرح ہے اور مجھے یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ نکاح پرنکاح پڑھناجائز نہیں ہے اور میں نے اس عورت کے رشتہ داروں کو یہ بات بتابھی دیتھی مگر جب انہوں نے ’’چڑی جِڈا روپیہ میرے اگے رکھ دیتاتے میں ہور کی کردا‘‘۔(جب ان لوگوں نے میرے سامنے چڑیاکے برابرچاندی کاروپیہ رکھ دیاتو میں اور کیاکرتا؟گویاایک روپے کی لالچ میں اس مولوی نے جانتے بوجھتے ناجائز کام کرلیا۔

(خطباتِ محمود جلد5صفحہ 411)           

حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحبؓ سنایاکرتے تھے کہ ایک بڑھیاجو بڑی نیک تھی میں کبھی کبھی اس کے پاس جایاکرتاتھا۔ایک دفعہ میں نے اس سے پوچھاکہ مائی تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو مجھے بتادو میں وہ چیز تمہارے لیے مہیا کرنے کوتیار ہوں۔وہ کہنے لگی۔’’پُترمجھے بڑا آرام ہے کسی چیز کی ضرورت نہیں‘‘۔فرماتے تھے میں نے پھر اصرار کیااور کہا کہ آخر کچھ تو بتائیں مگر وہ ہر بار یہی کہتی کہ مجھے بڑا آرام ہے۔ہر طرح کاسکھ ہے اور کسی قسم کی تکلیف نہیں۔پھرکہنے لگی ہم صرف ماں بیٹا ہیں۔اللہ تعالیٰ صبح وشام دو روٹیاں بھیج دیتاہے۔ایکروٹی میںکھالیتی ہوں ایک میرابیٹا کھالیتاہے پھر ہم اکٹھے ایک چارپائی پرہی سوجاتے ہیں۔ہمارے پاس ایک رضائی ہے۔جب میری ایک طرف ٹھنڈی ہوجاتی ہے تو میں کہتی ہوں بیٹا کروٹ بدل لو اور وہ کروٹ بدل لیتاہے جس سے وہ پہلو بھی گرم ہوجاتاہے تو وہ مجھ سے کہہ دیتاہے کہ ماں اپنی کروٹ بدل لے اور میں کروٹ بدل لیتی ہوں جس سے آرام آجاتاہے۔پس ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے پھر اصرار کیاتو وہ کہنے لگی اگر آپ نے ضرور کچھ دیناہی ہے تو میری صرف اتنی خواہش ہے کہ میری نظر اب بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہوگئی ہے اور پہلاقرآن مجھ سے اچھی طرح پڑھانہیں جاتاکیونکہ اس کے حروف باریک ہیں آپ نے مجھے کچھ دیناہے تو موٹے حرفوں والاقرآن لاکردیدیں تاکہ میں اسے آسانی سے پڑھ سکوں۔توسچی بات یہ ہے کہ ایک مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت قرآن کریم ہے۔

(خطباتِ محمود جلد1صفحہ 250)            

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *