درس القرآن

یَوْمَ نَدْعُو کُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِہِمْ فَمَنْ أُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِیْنِہِ فَأُوْلَـئِکَیَقْرَؤُونَ کِتَابَہُمْ وَلاَ یُظْلَمُونَ فَتِیْلاًO وَمَن کَانَ فِیْ ہَـذِہِأَعْمَی فَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ أَعْمَی وَأَضَلُّ سَبِیْلاO    

سورۃ بنی اسرائیل آیت :71-72

      حدیث

وہ دن یاد کرو جب ہم ہر قوم کو اُس کے امام کے حوالے سے بلائیں گے۔ جس کو اُس کااعمال نامہ اُس کے دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا تویہی وہ لوگ ہوں گے جو اپنااعمال نامہ پڑھیں گے اور وہ ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کئے جائیں گے۔اور جواِسی دنیامیں اندھاہووہ آخرت میں بھی اندھا ہوگااور راہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بھٹکاہوا۔

یہاں اَعْمٰی سے مراد یہ نہیں کہ ظاہری آنکھ سے جو اندھا ہووہ قیامت کے دن بھی اندھا ہی ہوگابلکہ ظاہری آنکھیں رکھنے والے جو بصیرت سے محروم ہیں وہ قیامت کے دن بھی بصیرت سے محروم ہوں گے۔

احادیثِ نبویہ میں آخری زمانہ کی جو علامات بیان کی گئی ہیں ان میں ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں نام کے سوااسلام کاکچھ باقی نہیں رہے گا۔قرآن مجید کے صرف الفاظ باقی رہ جائیںگے۔(اس کا علم وعرفان اور انقلاب انگیز اثرات باقی نہیں رہیںگے)اس زمانہ کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی مگر ہدایت نام کی کوئی چیز ان میںباقی نہیں رہے گی۔(مشکوۃ کتاب العلم الفصل الثالث)ان کے علماء آسمان کے نیچے پائی جانے والی مخلوق میں سے بدترین ہوں گے۔ان سے ہی فتنے اُٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔  آنحضرت  ﷺ نے آخری زمانہ کے علماء کی جو تعریف بیان فرمائی ہے اس سے پتہ چلتاہے کہ بعض ایسے علماء بھی ہوسکتے ہیں جو بظاہر عالم ہوں۔لوگ ان کوعالم سمجھتے ہوں،وہ مسجدوں اور مدرسوں پر قابض ہوں مگر ان کاعلم سے کوئی واسطہ نہ ہوبلکہ فتنہ انگیزی ہی ان کا شغل ہواور وہ جہاں جائیں وہاں فسادو افتراق کا باعث بنتے ہوں۔

مذکورہ بالاخبر سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ پاکستان میں جو آئے دن ہنگامے ہوتے رہتے ہیں،جلوس ہڑتال،لوٹ مار،قتل وآتش زنی وغیرہ کے جوواقعات سننے میں آتے ہیںاور جن سے حکومت کاکروڑوں کانقصان ہوجاتاہے۔اور دنیامیں بھی مسلمان نشانہ تضحیک بن کر رہ جاتے ہیں۔وہ ایسے ہی علماء کاکام ہوتاہے۔بعض لوگ جولاعلمییاکسی اور وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی آخری زمانے کی علامات پوری طرح ظاہرنہیں ہوئیں۔ان کے لیے مندرجہ بالاحدیث میںیہ واضح رہنمائی پائی جاتی ہے۔مبارک وہ جو آنحضرت  ﷺکی بیان فرمودہ صداقتوں کو سمجھیں،مانیں اور ان کی برکات سے فائدہ اُٹھائیں۔

نکتہ معرفت

ظاہر کو باطن اورباطن کو ظاہر سے ایک تعلق ہے۔رسولِ کریمﷺ کے حضور آدمی آئے۔ایک نے دیکھا کہ نبی کریمﷺ کے پاس ایک جگہ ہے۔وہ توجرأت کر کے وہاں چلاگیا۔دوسرے کو شرم آئی۔وہ آگے نہ ہوا۔سب سے پیچھے بیٹھ گیا۔تیسرے نے دیکھا کہ جگہ نہیں ہے۔اس نے اجتہاد کیا کہ میرابیٹھنافضول ہے۔چلاگیا۔نبی کریمﷺ کو وحی ہوئی کہ جس نے شرم کی اسکے گناہوں کی پکڑ میں اللہ بھی شرم کریگا۔جوچلاگیاوہ بدنصیب ہے۔نبی وراستباز کی صحبت میں بیٹھ رہنے سے بہت فائدہ حاصل ہوتاہے۔خواہ کچھ نہ سُنے محض بیٹھنا بھی ان انوار وبرکات سے حصّہ دلاتاہے۔

میں اپنے بچوں کو بھی قرآن شریف سنایا کرتا ہوں۔اب کوئییہ نہ جانے۔کیا سمجھتے ہیں کیونکہ اس کا اثر کچھ نہ کچھ ضرور ہوتاہے۔ایک عورت بیمار تھی وہ اس حالت ِمرض میں جرمن بولتی تھی۔لوگ حیران تھے۔مگر آخر معلوم ہواکہ چھوٹی عمر میں کسی پادری کی زبان سے جرمنی زبان کا لیکچر سُنتی تھی۔اس نہانی اثر کی وجہ سے مرض میں جرمنی بولتی تھی۔نبی کریمﷺ نے پیدا ہوتے ہی اذان سنانے کا حکم دیاہے۔یہ لغو نہیں بلکہ اس کا اثر آئندہ عمر پر پڑتاہے۔  (حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ321

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *