انٹرویو صارم برنی (بانی صارم برنی ٹرسٹ )

روحان اے طاہر              

(نمائندہ لاہور انٹرنیشنل)     

 

پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق بیداری کی غرض سے محترم صارم برنی نے 1990ء میں صارم برنی ٹرسٹ کا قیام کیا ۔ صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ نیشنل و انٹر نیشنل مظلوم افراد کی وجہ سے ایک غیر منافع بخش اعتماد کا نام ہے  یہ اعتماد لسانی، مذہبی ، قومی ، علاقائی فرق کے بغیر کام کرتا ہے ۔اس ٹرسٹ کی خاص بات یہ ہے کہ ان کا مقصد ہر کمیونٹی کے لوگوں ، اور ہر شعبہ ہائے زندگی میںخلوص نیت و دل سے انسانیت کی مدد کرنا ہے ۔ گم شدہ بچوں ، بے گناہ قیدیوں ، بچیوں کی دیکھ بھال ، انکی شادیاں کروانا غرض یہ کہ ہر مستحق کی مدد کرنا ہے ۔صارم برنی صاحب کے ساتھ’’ لاہور انٹر نیشنل‘‘ کی جانب سے ایک وفد نے خصوصی گفتگو کی جو ہدیہ قارئین ہے ۔

سوال :  سب سے پہلے تو میںیہ جاننا چاہتا ہوں کہ صارم برنی ٹرسٹ کا آغاز کب کیا گیا؟  اور اس کے مقاصد کیا تھے نیز کس مشن کے تحت آپ کام کرنا چاہتے تھے ؟

جواب :  صارم برنی ٹرسٹ کا آغاز 1990ء سے کیا گیا ، مقصد بس یہی تھا کہ کچھ کام کریں لیکن اُمیدیہ نہیں تھی اپنی دنیا ہی اس کو بنا لیں گے ، کچھ چیزیں ہوتی ہیں جن کے بارہ میں انسان سوچتا ہے کہ میں نے غلط قدم اٹھا یا ہے یا پچھتاتا ہے ، لیکنیہ وہ کام ہے جس پہ مجھے بڑی خوشی ہے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا اور اللہ نے مجھے یہاں تک پہنچا دیا ہے ۔ اب میری کوشش اور خواہش یہی ہے کہ اسی کام میں میری زندگی گزرے کیوں کہ اپنے لئے تو سبھی جیتے ہیں ، لیکن پاکستان کے اندر جو حالات ہیں ان میں اگر آپ کسی کے لئے جینا شروع کر دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے اچھی کوئی چیز نہیں ہو سکتی اور بدلے میں آپ کو کچھ ملے یا نہ ملے بلکہ کسی قسم کے بدلے کی سوچ ہونی بھی نہیں چاہیے  صرف ایک ہی بدلے کی سوچ ہونی چاہیے کہ اس کا اجر اللہ تعالی دے گا۔ اللہ ہماری غلطیوں اور گناہوں کو اس سے دھوئے گا اور ہمارے لئے اس سے اچھے راستے بنا دے گا  بس اسی سوچ سے آپ ایک دوسرے کے کام آئیں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہترین زندگی گزرتی ہے ۔

اور جہاں تک مشن کی بات ہے تو بچیاں ہیں جنہیں گھر سے نکال دیا جاتا ہے ، شوہر مار پیٹ کے انہیں گھر سے نکال دیتے ہیں ، بوڑھی عورتیں ہیں ، بوڑھے مرد ہیں ، چھوٹے بچے ، معصوم بچے ، لاوارث بچے اور یتیم بچے ، انہیں شیلٹر ہوم دینا ، انکی امداد کرنا ، انسانیت کے لئے لڑنا ، لوگوں کے مسائل کے لئے لڑنا لو گوں کے حق کے لئے لڑنا اور الحمد اللہ بہت زیادہ اللہ تعالی کی طرف سے مدد ملتی ہے کہ اس قدر ہم انسانیت کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ آغاز میں ہم لوگوں سے رابطہ کرتے تھے لیکن اب لوگ خود آتے ہیں اور خود رابطہ کرتے ہیں ۔

سوا ل:  جن بچوں ، عورتوں یا مستحق افراد تک آپ کی رسائی نہ ہو ، ایسے افراد کے لئے آپکا کیا لائحہ عمل ہے ؟

جواب :   میری رسائی نہیں ہوتی میںیہ بات تو مانتا ہی نہیں ہوں ۔ اس لئے کہ میرا ذاتی موبائل نمبر بھی ہر شخص کے پاس موجود ہے ، میرے پاس آکے ملیں ، میں ضرور ملوں گا ۔ ایک ایک چیز پر جواب دیتا ہوں ، چاہے وہ واٹس ایپ ہو، میسج ہو، کال ہو ، ای میل ہو ۔ آغاز میں تو بہت سارے لوگ میرے ساتھ تھے لیکن اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں رہا اور آغاز میں جو مشکلات پیش آئی ہیں میرے خیال سے میں اس منزل تک پہنچا ہی ان مشکلات کی وجہ سے ہوں ۔ مشکلات میں شیئر نہیں کرتا ۔ مشکلات سے گھبرانے والوں کا یقین پھر اللہ پر نہیں ہوتا ۔ جس کا یقین اللہ پر ہوتاہے اسے گھبرانا نہیں چاہیے۔ مشکلات آتی ہی آپکو بہتری کی طرف لانے کے لئے ہیں ۔

سوال:  اس فائونڈیشن میں آپ کی بیوی تو آپ کے ساتھ ہر کام میں پیش پیش نظر آتی ہیں ، کیا بچے یا کوئی اور بھی فیملی ممبر آپ کے ساتھ اس کام میں مدد کرتا ہے؟

جواب:  نہیں!  فیملی سے صرف میری مسز ہیں اور کوئی بھی نہیں ہے اور وہ بھی اس لیئے کہ بہت زیادہ خواتین کاکام ہوتا ہے تو ایک عورت کا ہونا اور اپنے گھر کی عورت کا ہونا بہت ضروری ہے ۔

سوال:  آپ کے ہا ں شیلٹرز ہوم میں پرورش پانے والے بچوں کا آئندہ مستقبل کیا ہوتا ہے؟ کیا آپ کوئی کام دلواتے ہیں ؟ یا پرورش کے بعد وہ اسی ادارے کے لئے کام کرتے ہیں؟

جواب :  مستقبل کی بات کریں تو ہمارے ہاں بہت عجیب سا تصور ہے کہ باتیں سبھی کرتے ہیں لیکن ساتھ دینے کو کوئی تیار نہیں ہوتا ، مستقبل تو میں نے نہیں دینا ، ایک منزل پر لا کر کھڑا کر دینا ہے ، مستقبل دینے کیلئے تو آپ لوگوں کو آگے بڑھنا چاہیے کہ آپ اسے نوکریدیں ، آپ اس کی بھلائی کے راستے کریں ، لیکن جہا ںپتہ چلتا ہے کہ یہ ادارے کا بچہ ہے تو انکار کر دیتے ہیں کہ اس کا تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے ۔ ہم تو بہت جدو جہد کر کے منزل تک پہنچاتے ہیں لیکن ہمارے لئے بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے جب ایسے حالات پیش آتے ہیں ۔ ایک ہمارے ہاں کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم بچے کو کسی فیملی کی سر پرستی میں دے دیں تاکہ وہ اس کی پرورش کریں ، اور ساتھ ہم نگرانی بھی کرتے ہیں  اور اللہ کا شکر ہے کہ چند بچوں کے علاوہ 98% رزلٹ مثبت آتا ہے کیونکہ ہم بہت زیادہ محنت کرتے ہیں ۔

سوال:  جیسا کہ آپ نے بتایا 1990ء سے آپ نے اس کام کا آغاز کیا ، تو اب تک آپ کتنی بچیوں کی شادیاں کروا چکے ہیں ؟ کبھی کوئی ایسا واقعہ کہ شادی کامیاب نہیں ہوئی تو اس صورت میں بچیاں کہاں جاتی ہیں ؟ اور آپ پھر ان کے لئے کیا کرتے ہیں ؟

جواب :  جب ماں باپ شادیاں کرواتے ہیں اورنہیں چل پاتیں تو ہم بھی اسی حیثیت سے کرواتے ہیں ۔ اور بچیاں واپس ہمارے پاس ہی آتی ہیں ۔ پھر بعض کی ہم صلح بھی کرواتے ہیںیا کوئی اور راستہ بھی دیتے ہیں ۔ زندگی میں تو ہر چیز ہوتی ہے ۔ بعض دفعہ داماداس کے باپ کو بھیغلط مل جاتا ہے جس کی صرف ایک بیٹی ہوتی ہو ، میری تو یہاں سینکڑوں بیٹیاں ہیں ۔ جانچ پڑتال کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات غلط داماد مل جاتا اور بعض اوقات ہماری بیٹی میں بھی مسئلہ ہوسکتا ہے ، کیونکہ شوہر کیسا ہے یہ ایک بیوی جانتی ہے اور بیوی کیسی ہے یہ ایک شوہر ہیجانتا ہے ۔ ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔

سوال :  پاکستان میں آپ کے کتنے شیلٹر ز ہوم کام کر رہے ہیں ؟

جواب:  پاکستان میں شیلٹرز ہوم ہم نے بہت کم رکھے ہیں ۔کراچی میں ہیں۔ بچوں والی خواتین کو ہم اپنے بجٹ کے مطابق رینٹ پر گھر کا انتظام کر دیتے ہیں ۔ شیلٹرز کی تعداد کم اس لئے بھی ہے کہ جہاں بچوں اور لڑکیوں کے معاملات ہوتے ہیں وہاں ہم اسے کسی کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے ۔ دور دراز کے بچے بچیاں بھییہاں کراچی آتے ہیں

 

سوال:  ہمارے ملک پاکستان میں فرقہ واریت ایک بہت بڑ ی بیماری ہے ، آپ کو کس قدر ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟ مُلّائوں کے فتوے ، آپ ان دشواریوں کا سامنا کیسے کر تے ہیں ؟

جواب:   پہلے تو یہ کہ میرے پاس ایسی کوئی پا بندی نہیں ہے ، فتوے دیتے رہیں ، میں نے اپنا کام کرنا ہے ۔ میں نے انکے فتوں کو ترجیح نہیں دینی جو فتوے دیتا ہے وہ اگر اپنے گریبان میں جھانک لے تو فتوے دینا ہی چھوڑ دے۔ فتوے دینے والا بھی تو کوئی ہونا چاہیے ۔ پھر اس کا فتوی بھی مان لو ں گا ۔

میںان کو مشکلات مانتا ہی نہیں ہوں ، یہ تو ہمارے راستے بہتر کرتے ہیں ۔ ان کی جو باتیں ہیںیہ ہمارے راستے بہتر کرتی ہیں ۔ میں ان کو مشکلات کیونکر کہوں گا ، اور میرے پا س ریکارڈ میں غیر مسلم لوگ بھی موجود ہیں وہ سب انسان ہیں اور میں انسانیت کے لئے کام کرتا ہوں ۔ میرا کہیں بھی فرقہ ، مذہب ، قومیت اس سے تعلق نہیں ہے ۔ میں ہر کسی کے لئے بیٹھا ہوں۔کیوں کہ جس رسول ﷺ کے ہم ماننے والے ہیں انہوں نے ہمیںیہی سکھا یا ہے ، یہ اور بات ہے کہ اس رسول کا نام لے کر آج ہم انسانوں کو مار رہے ہیں ، یا جانیں لے رہے ہیںیا ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ وہ ایک الگ بات ہے۔ انکی سوچ ہوگی ، میری سوچ الگ ہے ۔ میں نے پہلے کہا کہ میں فتوے بھی وہ مانتا ہوں جو فتوے دینا والا بھی کوئی شخص ہو ۔ مفتی بن کر فتوی دے دینے سے فتوی نہیں ہوتا۔ یہاں پر آنے والوں سے فارم فل کروایا جاتا ہے لیکن کسی قسم کا بھی لسانی، مذہبی ، یا فرقہ پرستی والا کوئی نظام نہیں ہے ۔ہر فرقہ ، ہر مذہب ، ہر زبان کے لئے ہم کس کس طرح کھڑے ہوئے ہیں ، اور کھڑے ہوتے ہیںیہ سب بھی میرے پاس ریکارڈ میں موجود ہے ۔ ہر کسی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں چاہے وہ کسی بھی کمیونٹی کا ہو ، مجرم کو سزا دلواتے ہیں اور اسکی منزل تک پہنچاتے ہیں ۔

سوال :  آغاز میں آپ نے بے گناہ قیدیوں کو رہا کروانے کا کام بھی کیا ، تو خیال کس طرح پیدا ہوا؟

جواب :  پاکستان کی اگر بات کی جائے تو میں آپکو چیف جسٹس صاحب کی مثال دیتا ہوں کہ آج ہر انسان کییہ کوشش ہے کہ وہ اپنا کام لے کر ان کے پاس چلا جائے ، وہ یہ نہیں کر سکتے ، نہ یہ ان کا کام ہے ۔ لوگوں کو ایک کرن نظر آئی  ، لوگو ں نے جب بہتری کے لئے مجھے کام کرتے دیکھا تو پھر میں نے لوگو ں سے را بطے نہیں کئے ، لوگ خود مجھ سے رابطہ کرتے تھے اور اس میں پھر قیدی بھی ہیں ، باہر کے لوگ بھی ہیں ، پاکستان کے لوگ بھی ہیں ، آغاز میں گم شدہ بچے ، قیدی ، خواتین کو شیلٹرز ہوم دینا ، یہ تو شروع سے ہمارے کام ہیں۔

سوال:  ہمارے معاشرے میں بچوں کی پرورش کا ادارہ بہت حساس ادارہ کہلاتا ہے ، خصوصاً بچیوں کی پرورش کا، تو کیا اس حوالہ سے بھی مشکلات پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟

 جواب :   بہت پریشانیاں جھیلنی پڑتی ہیں ، لیکن ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔  جو بچے اور بچیاں خود آپ کے پاس آتے ہیں ، انہیں آپ کس قانون کے تحت یہاں پر پناہ دیتے ہیں ؟ جبکہ ان کے ماں باپ بھی موجود ہوتے ہیں ؟  ہم تو قانون کے مطابق تمام چیزیں لے کر چلتے ہیں ، بچہ ہو یا بچی تو وہ اپنی مرضی کا مالک ہے ، اسے آپ روک نہیں سکتے ، تو کوئی ہمارا کیا کرے گا ہماری پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ معاملات کو نمٹا دیا جائے ، عمر کی حد 18سال ہوتی ہے ، لیکن اس کے بغیر بھی ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ وقت اور حالات دیکھے جاتے ہیں ۔ اُ س کی عزت اگر وہاں محفوظ نہیں ہے ، اُ س کی جان اگر وہاں محفوض نہیں ہے تو پھر اس کے لئے کوئی عمر کی حد نہیں ہوتی ۔ لیکن اگر سب کچھ نارمل ہے تو پھر 18سال عمر کی حد کا قانون لاگو ہوتا ہے ۔

سوال :  ادارے کی فنڈنگ کیا بیرون ممالک سے بھی ہوتی ہے ؟یا کیا صرف پاکستانی عوام ہی فنڈنگ کرتی ہے ؟

جواب :  ادارے کو جنرل پبلک فنڈنگ کر تی ہے ، باہر کے ممالک میں مقیم عوام فنڈنگ کرتے ہیں ۔ کوئیNGO’sـوغیرہ فنڈنگ نہیں کرتیں ۔ یہاں پر لوگ خود دیتے ہیں ۔ جیسے لوگ کام کے لئے آتے ہیں ویسے ہی لوگ فنڈنگ کے لئے بھی آتے ہیں ۔ ہماری کوئی مہمیں نہیں چلتیں ۔

 سوال:فائونڈیشنز پر عام طور پر اعتراضات کئے جاتے ہیں کہ ذاتی مفادات شامل ہیں ، ٹیکس سے بچنے اور عوام کا پیسہ کھانے کیلئے بنائی جاتی ہیں ۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے ؟ اور کیا آپ کو بھی ایسے اعتراضات کا سامنا رہا ہے ؟

جواب :  کہنے والوں کو میں نے کبھی تر جیح ہی نہیں دی ۔ اگر کوئی کہتا ہے تو میں اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں کہ کہیں میرے سے ایسا کام تو نہیں ہوا ، تو میں اسے بہتر کر لوں ، تو میں اسے مزید بہتر کر لیتا ہوں ۔ میں تو اچھا سمجھتا ہوں ۔ میں ایسی باتوں کا برا نہیں مانتا اور ہونے کو بہت سارے لوگ ہیں ، ادارے ہیں ، لیکن وہ صرف اداروں کا ہی کام تھوڑی ہے ، اور بھی بہت سارے لوگ یہ کام کر رہے ہیں ۔ جو چیز بری ہے وہ سب کے لئے بری ہے ، صرف اداروں کے لئے تھوڑی ہے ،اور جو چیز اچھی ہے وہ سب کے لئے اچھی ہے ۔

 سوال:  عوام کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں ۔

جواب :  عوام کو میںیہ کہنا چاہوں گا کہ ـ’’میںیہ سمجھتا ہوں کہ میں اگر اپنے باپ کو خود بدنام کروں گا تو مجھ پر او ر میرے باپ پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا ۔ جب آپ اپنے حکمرانوں کو خود بدنام کریں گے ، رسوا کریں گے ، ہر گلی میں چور چور کے نعرے لگائیں گے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم ایمان دار کہلائیں گے ۔ یا ہمارا بھلا ہوگا ۔ آپ اپنی سوچوں کو بدلیں ۔ اور بات یہ ہے کہ کیا آپ خود کو اتنا ایمان دار سمجھتے ہیں ؟ اور اگرآپ سمجھتے ہیں تو جس کو آپ چور کہہ رہے ہیں وہ بھی تو اپنے آپ کو ایمان دار کہہ رہا ہوگا ۔ بجلی، پا نی ، گیس ہم چوری کرتے ہیں ، جہاں ہاتھ لگ جائے ہم چوری کرتے ہیں ۔ لیکن چور حکمرانوں کو کہتے ہیں ۔ آپ کسی کو کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں ‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *