میں کون ہوں

سعدیہ تسنیم سحر(جرمنی)

 

اشارتاََ  تھی جو  شامل  گناہ ِ  آدم  میں

وضاحتاََ  میں سزائیں بھگت رہی ہوں ابھی

میں کون ہوں؟ جیسا سوال سامنے ہو تو غور کرنے والا ہر شخص سوچ پر مجبور ہو جاتا ہے -واقعی آخر میں کون ہوں؟ –

اللہ تعالیٰ نے ٹھیک اور غلط کی پہچان میرے اندر رکھ کر مجھے زمین پر اتارا تو ایک مخصوص علاقہ میرے لیے مقرر کردیا -اس میں کھاؤ،کماؤ، پیو ،کھیلو ،کودو -ایک راز کی بات بھی بتائوں کہ ہر جگہ کچھ مخصوص تحفے بھی رکھے ہیں     -اور اسی طرح کچھ سزائیں بھی ہیں     – یہ غلطی کی تو ریڈ کارڈ اور یہ درست ہٹ لگا تو اتنے بونس -فلاں  بونس صرف کھیل کے میدان میں ہی ملیں گے اور فلاں فلاں بونس ایسے ہیں     کہ جب تم کھیل ختم کرکے آؤ گی تو اس وقت بھی تمھارے لیے ویلڈ(Valid) ہوں گے اور اگر فلاں کام کر لو گی تو اس کے نتیجے میں ریڈ کارڈ ختم بھی ہو سکتا ہے۔ اب آگے تمھاری مرضی ہے کہ کس طرح اپنے اس وقت کو استعمال کرتی ہو اور اپنے لیے صرف وہ بونس خریدتی ہو جو کھیل کے میدان میںہی کام آ سکتے ہیں     یا وہ جو بعد میںبھی کام دیں گے -ریڈ کارڈ زیادہ تو نہیں     لیتی اور ییلو کارڈ کے نظر آنے پر اپنی غلطی درست کرتی ہو یا نہیں    – اور ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ جب چاہو میرے سے بات کر کے راہنمائی لے سکتی ہو –  یہ سارے اصول قواعد کہیں     میں بھول نہ جاؤں ،اس کے لیے اس نے مجھے ایک کتاب بھی ساتھ دی ہے- جس کے 30 باب ہیں     اور ہر باب میں سوچنے اور غور کرنے سے بہت کچھ نظر آتا ہے –  مجھے اس نے جہاں اتارا ہے وہ میدان بہت وسیع ہے پہلے ہاف میں ،میں بہن اور بیٹی تھی – ماں کے دکھ اپنے اندر اتارنا، بھائی کے مقابلے میںہمیشہ کمتر رہنا۔ پھر خاموشی سے باپ کی عزت پر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک نئی جگہ پر کچھ نئے پھول بوٹے اُگانے چلی گئی۔ ہجرت تو ہجرت ہی ہوتی ہے- پورے لگے لگائے پودے کو نئے سرے سے مضبوطی سے زمین میںلگانے کے لیے کیا کچھ ہوا کیاکچھ سہا، تو یہ ایک الگ باب ہے- یہاں سے کھیل کا دوسرا حصہ شروع ہوا بحثیت بیوی اور بہو کے اس میں، میں باورچی ،دھوبن، مہترانی اور بعض اوقات بھکاری بھی بنی -کھیل کے اگلے حصے میں جو جگہ میرے کھیلنے کے لیے ملی وہ ماں کی تھی- اب میرے حوالے مزید  میرے جیسی کچھ کلیاںاور کچھ پھول مجھے دئیے گئے میں دائی بنی -مسیحا بنی- استانی بنی- کھیل کھلانے والی بنی -اوردلچسپ بات یہ کہ کھیل کے پہلے حصوں میں ملنے والی میری تمام ڈیوٹیاں بھی میرے ساتھ ساتھ تھیں – عمر کے اس حصے میں جب سارے کارڈز، بونس میرے اللہ کے پاس لکھے پڑے ہیں      مجھے خوشی صرف یہ ہے کہ میں نے ہر روپ میں اپنا دل ڈال دیا تھا ہر کام نیک نیتی سے کیا- آپ مجھے پہچان تو گئے ہوں گے ،میںایک عورت ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *