قائد اعظم ثانی کون؟

محمد فاتح ملک

ہمارے ملک پاکستان میں سیاست سے مراد صرف گند، منافقت، جھوٹ اور رشوت خوری کو سمجھ لیا گیا ہے۔ جب بھی سیاست یا سیاستدان پر کوئی فلم بنتی ہے تو اس میں سیاست کو ایک فضول چیز کے طور پر دیکھایا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی ایک مسیحا کو بطور ہیرو بھی دکھایا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستا ن میں جب بھی سیاست میں کوئی نیک کام کرے تو اس کو قائد اعظم کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ دوسری طرف ہمارے ملک میں مشہور ہونے کے لئے ہر سیاستدان اپنے آپ کو قائد اعظم کا سیاسی جانشین ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، نواز شریف  سب نے اپنے آپ کو قائد اعظم ثانی ہی کہلوایا۔ اب یہ طوق عمران خان نے پہن لیا ہے۔ لیکن کیا کبھی کسی بھی سیاست دان نے سوچا ہے کہ محمد علی جناح کو کس نے قائد اعظم بنایا تھا؟ کیا انہوں نے کبھی اخباروں میں اپنے ’’قائد اعظم‘‘ ہونے کے اشتہار شائع کئے تھے؟ کیا انہوں نے گلی محلوں میں اپنے ’’قائد اعظم‘‘ ہونے کے پوسٹر لگوائے تھے؟ کیا ان کے ’’خوشامدیوں‘‘ اور ’’درباریوں‘‘ نے ان کے ’’قائد اعظم‘‘  ہونے کے نعرے لگوائے تھے؟ یا پھر عوام کو زبردستی یہ منوایا گیا تھا کہ وہ ’’قائد اعظم‘‘ ہیں    ؟ نہیں    ۔ ان میں سے کسی چیز نے انہیں     قائداعظم نہیں     بنایا تھا۔ محمد علی جناح کو قائد اعظم ان کے عمل نے بنایا تھا۔ محمد علی جناح کو قائد اعظم ان کے قول و فعل میں مطابقت نے بنایا تھا۔ محمد علی جناح کو عوام نے ان کی عوامی خدمت کی وجہ سے اپنے شوق سے قائد اعظم کا خطاب دیا تھا۔

ہمارے پاکستان کے آج کل کے سیاستدانوں کی طرح اپنے آپ کو ’’خادم اعلی‘‘ ’’قائد عوام‘‘ ’’کپتان‘‘ یا کوئی اور ٹائٹل اپنانے سے کوئی قائد اعظم ثانی نہیں     بن سکتا۔ اگر قائد اعظم ثانی بننا ہے تو سب سے پہلے منافقت کو ختم کرنا ہوگا۔ یہ نہیں     ہو سکتا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر ووٹ لے لو اور پھر اقتدار میں آکر ہر وہ کام کرو جس کا تعلق دوغلی پالیسی کرپشن اور اقربا پروری سے ہو۔ اور جب اقتدار چھن جائے تو پھر سازش اور نیکی و پارسائی کا درس دیا جائے۔

قائد اعظم ثانی بننے کے لئے سچ کا کھل کر اظہار کرنا ضروری ہے۔ یہ نہیں     کہ ڈر کر الزام ’’خلائی مخلوق‘‘ پر لگا دیا جائے۔

قائد اعظم ثانی بننے کے لئیاپنے آرام کو ملک و قوم کی خدمت کے لئے قربان کرنا پڑتا ہے نہ کہ لندن، امریکہ، دبئی اور سوٹزرلینڈ پر فدا ہونے  کے لئے۔

قائد اعظم ثانی بننے کے لئے اپنا ہر فیصلہ اور قانون،  عوام اور ملک کے فائدے کے لئے بنانا پڑتا ہے نہ عزیزو اقارب کی کرپشن چھپانے اور ان کو نوازنے کے لئے۔

قائد اعظم ثانی بننے کے لئے ہندو، عیسائی جیسی اقلیتوں کو بھی میرٹ پر عہدے دینے پڑتے ہیں     اور ان کو بھی ملک کا شہری سمجھ کر حقوق کی حفاظت کرنی پڑتی ہے نہ کہ ان سے امتیازی سلوک کر کے ہجرت پر مجبور کیا جاتا ہے۔

قائد اعظم ثانی بننے کے لئے سرکاری عہدوں اور سرکاری خزانے کو امانت سمجھ کر اسکی  حفاظت کرنا پڑتی ہے نہ کہ اس کا بے دریغ استعمال۔

قائد اعظم ثانی بننے کے لئے اصولوں اور نظریات کی سیاست کرنی پڑتی ہے نہ کہ منافقت اور مفاد پرستی اور خوشامد کی۔

قائد اعظم ثانی بننے کے لئے سچ اور حقیقت کا ساتھ دینا پڑتا ہے اور اس بات کی پرواہ نہیں     کرنی پڑتی کہ کوئی آپ کو ’’کافر اعظم‘‘ کہہ رہا ہے یا کچھ اور۔

اگر پاکستان میں کوئی سیاستدان واقعۃً اپنے آپ کو قائد اعظم کا سیاسی جانشین سمجھتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ و ہ قائد اعظم جتنا مقام حاصل کرے تو اس کو پاکستان کی نا گفتہ بہ حالت کومثالی حالت بنانا پڑے گا۔ پاکستان کو مصائب کے گرداب سے نکالنا پڑے گا نہ کہ مزید مسائل میں دھکیلنا۔ ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے نکال کر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرناہوگا۔ اور یہ سب تب ہی ممکن ہے قائد اعظم والی سیاست کی جائے۔ نہ کہ قائد اعظم کا نام لے کر دھوکے کی سیاست۔ اگر پاکستان کا کوئی بھی سیاست دان یہ کر لے گا تو پھر اس کو اشتہاروں اور سوشل میڈیا کا سہارا لے کر اپنے آپ کو قائد اعظم ثانی کا خود ساختہ سرٹیفکیٹ نہیں     دینا پڑے گا۔ بلکہ عوام خود ہی قائد اعظم بنا دیں گے بلکہ قائد اعظم سے بھی بڑا رتبہ دے دیں گے۔ اور تاریخ میں آپ کے نام کے پوسٹر اور اشتہار لگیں گے۔ لوگ اپنے آپ کو آپ کا ثانی قرار دیں گے۔ لیکن شرط کام کام اور کام ہے!

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *