ذرا بچ کے (ملا کی قلابازیاں)

 

 

قرآن کریم کی سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔

وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکَابِرَ مُجَرِمِیْہَا لِیَمْکُرُواْ فِیْہَا وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُون

ترجمہ! اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کے سرغنے بنائے کہ وہ اس میں مکروفریب سے کام لیتے رہیں      اور وہ اپنی جانوں کے سوا کسی سے مکر نہیں       کرتے اور وہ شعور نہیں       رکھتے۔

ماضی میں اور آج کے دور میں ہم دیکھتے آئے ہیں       کہ قیادت مذہبی ہو یاسیاسی انکے مکروفریب ،چالبازیاں،انکی سازشیںاور انکی مفاد پرست پالیساںہمیشہ انکے خلاف پڑتی آئی ہیں      ۔آئیے پہلے ہم قرآن کریم کی روشنی میں ایسے لوگوں کا موازنہ کرتے ہیں     پھر انکے ماضی کے متعلق ان ملّاؤں کی ظاہر وباطن ،مکروفریب اور سیاسی چالاکیوں سے پردہ اُٹھاتے ہیں    ۔مولانافضل الرّحمان کی سیاسی تاریخ ہمیں کیابتلاتی ہے۔

سورۃ البقرہ آیت 16کی تفسیر میں بیان ہے کہ منافقوں کے جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہوتاہے دل میں کھوٹ ہوتی ہے اور ظاہر میں ہاں میں ہاں ملاتے ہیں    ۔مومنوں کی تحقیر واہانت اور تخفیف کرتے ہیں    ۔آخر اللہ تعالیٰ انکی تحقیر،اہانت اور تکفیر کرتاہے اور کرتارہے گااور ہلاک کردے گااور ان کے عیوب ونقائص کی اطلاع دیتارہے گااس لیے کہ دنیامیں ان کی ہنسی ہواور رسوائی ہو۔

آج کے اس موجودہ زمانہ کاحال دیکھ کر یہ باتیں سچ ثابت ہورہی ہیں    ۔دیکھیںمنافق طبع ایسے ملّاحضرات ہیں     جو زبان سے تو کہتے ہیں     کہ ہم ہی مومن اور مسلمان ہیں     لیکن انکی حرکات،ظاہروباطن اور عقائد انکے اعمال کے مطابقت نہیں    ۔ایسے ہی لوگوںکے متعلق قرآن فرماتاہے۔فَمَارَبِحَتْ تِجَارَتُھُمبڑے تاجرہونگے مگر دینی ہدایت نہ لیں گے نہ دینی نفع اُٹھائیں گے۔’’ضالین‘‘سے مرادیہ وہ لوگ ہوتے ہیں     جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہوتاہے۔

دیکھیں آج یہی ملّابڑے تاجربڑی بڑی جائیدادوں کے مالک ہیں    ۔ مولانافضل الرّحمان سے متعلق تاریخی واقعات جیسے کہ انکے دادامحترم صوبیدار عبدالخیل صدیق نے1100قبائیلوں کا قتلِ عام کرنے پر ملکہ وکٹوریہ سے ملٹری کراس کاایوارڈحاصل کیا۔مولانافضل الرّحمان کابیٹا ڈاکٹراسدمحمود جواب قومی اسمبلی کا ممبر بناہے یہ اور اسکا بھائی عطاالرّحمان 9ارب مالیت کا ایک ٹوئرسٹ ریزورٹ کا مالک ہے جو کہ افریقہ کے ملک فجی میں ہے۔اسکو منسٹری آف ٹوریزم کا ریٹائرڈجوائنٹ سیکرٹری فضل محمود چلارہاہے۔اس سیرگاہ میں ناجائزطور پر تمام سہولیات موجودہیں    ۔

اب مولانافضل الرّحمان کے بچپن کاواقعہ ملاحظہ فرمائیں۔مشہور صحافی ڈاکٹر اجمل نیازی(روزنامہ نوائے وقت 9فروری2012)میں لکھتے ہیں     کہ مجھے سینئرصحافی اوریامقبول جان نے یہ واقعہ سنایاجو خود انہوں نے مولاناعبدالستار خان نیازی سے سناتھا۔مولاناعبدالستار نیازی مفتی محمود سے ملنے انکے گھر گے توایک نوجوان لڑکاباربار کمرے میں داخل ہوتااور مفتی محمود اسے بھگادیتے مولانانیازی نے پوچھ ہی لیاکہ مفتی صاحب یہ لڑکاکون ہے انہوں نے فرمایا۔یہ میرابیٹافضل الرّحمان ہے اور یہ پیسے لیکر میرے خلاف مخبری کرتاہے ۔کل کایہی بچہ آج جوڑتوڑکابے تاج بادشاہ بن گیااور آج یہ صدر اور وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہاہے۔لیکن جس بُری طرح اس نے الیکشن میں شکست کھائی ہے امیدہے دوبارہ الیکشن نہیں     لڑیں گے۔یہ موصوف پچھلی حکومتوں میں بڑے مز ے لوٹتے آئے ہیں     ۔پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہ موصوف انگریزی سے نابلدہیں     لیکن پھر بھی 10سال سے زائد یہ فارن کمیٹی اورکشمیر کمیٹی کے صدر رہے انکے انگریزی کے استاد اُس دور میں سینیٹرمشاہدحسین تھے۔میں اس واقعہ کا چشم دیدگواہ ہوں میرے ایک دوست کراچی کے بزنس مین تھے کراچی میکلورڈروڈپر خالی پلاٹ کی لیز کروانے کے لیے ان سے 1کروڑکا سوداہوابے نظیر بھٹو کادورتھااور آصف علی زرداری صاحب نے کراچی میں اہم پلاٹوں کی لیز منسوخ کروائی ہوئی تھی۔مولاناموصوف نے تین روز میں یہ کام کروانے کا وعدہ کیااور 1کروڑ میں معاہدہ طے پایالیکن کام نہ ہوسکاچونکہ آصف زرداری صاحب نے بے نظیر صاحبہ کو منع کیاہواتھافائل مولاناسے لیکر زرداری صاحب کو دی گئی 2کروڑکا سوداطے پایااگلے روز انکاکام ہوگیااسی دور میں مولاناموصوف مولاناڈیزل کے نام سے مشہور ہوئے اس طرح ہے کہ افغانستان میں پیٹرول لے جانے کا پرمٹ مولانانے بے نظیر صاحبہ سے حاصل کیا تھاجسکی وجہ سے خواجہ آصف جو کہ ’’ن‘‘لیگ سے تعلق رکھتے ہیں     انہوں نے اُ س وقت کی قومی اسمبلی میں آواز لگائی کہ’’مولاناڈیزل‘‘جس پر آج تک یہ تمغہ انکے گلے کا ہار بناہواہے۔علاوہ ازیں موصوف نے سرحد حکومت سے مشرف دور میں 12سو ایکڑاراضی بھی اپنے نام کروائی 2014ء انڈیا میں جمیعت علماء ہند کانگریس کے جلسہ سے بھی خطاب کر چکے ہیں     وہاں حکومتی سیکریٹ ایجنسی سے ملاقاتیں بھی کرچکے ہیں    ۔نواز لیگ دور میں اکثرافغانستان کے دوروں پر رہتے تھے۔ان کا دوروں کا مقصد طالبان اوردیگر کالعدم تنظیموں سے ملاقاتیں تھیں ۔2013ء میں امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود ماراگیاتو مولانافضل الرّحمان نے حکیم اللہ کو شہیدقراردیااوریہ الفاظ کہے کہ اگر امریکی ڈرون حملے میں کتّا بھی ماراجائے وہ بھی شہیدہی کہلائے گا۔مولاناموصوف کو اتنی بھی عقل نہیں     شہادت جیسے مقدس لفظ کو کُتے کیساتھ استعمال کرناجائزہے؟مولاناصاحب نے پاکستانی فوج اور عوام کی 55ہزار سے زائدشہادتوں کو فراموش کیا جو انہوں نے وطن عزیز کی حفاظت کرتے ہوئے دیں ۔مولاناموصوف سے کوئی پوچھے یہ کون سا اسلام ہے جہاں کُتوں کو شہید کا درجہ دیاجاتاہے اور پھول جیسے بچوں کو کُتوں کی طرح ماراجاتاہے؟

پچھلے دنوں مولاناموصوف کے 14اگست آزادی پاکستان کے حوالے سے بیان سامنے آیاکہ ہم آج 14اگست کو یوم آزادی نہیں     منائیں گے۔ایساہی بیان انکے والد محترم مفتی محمود نے قومی اسمبلی میں کہہ دیاتھاکہ خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں    ۔تاریخ ہمیں یہ بتلاتی ہے جب کسی کے بارے میں رائے قائم کرنی ہوتو اسکے پچھلے ریکارڈ کی چھان بین کرلیاکریں۔دیکھیں ان مندرجہ بالادو اقعات سے انکی حب الوطنی،سوچ ونظریہ اور مسلک کاپتا چلتاہے۔علاوہ ازیں انکی ابتدائی جماعت جن کے ساتھ وہ برصغیر میں پاکستان مخالف اور قائداعظم کے خلاف کھڑے تھے یعنی جمعیت علمائے ہند۔اس جماعت کو تاریخ کا نگریس مولویوں کی جماعت کہاجاتاہے۔یہ جماعت ہندوں کے ساتھ اور اسلام کے خلاف تھی۔انہوں نے ہی کہاتھاقائداعظم کافرِاعظم اور پاکستان پلیدستان ہے اور جس نے بھی ووٹ مسلم لیگ کو ڈالاوہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔یہ فتویٰ دارالعلوم دیوبندکاہے۔ایسے لوگوں کوسزائیںکیوں نہیں     ملتیں اعلیٰ عدلیہ نوٹس کیوں نہیں     لیتی جبکہ انکے خلاف اتنازیادہ مواد اور ثبوت موجود ہے ان پر مقدمات قائم ہونے چاہیے یہ جرات اور انصاف کون کرے گاکوئی مرد آہن ہی ہوگاجوان پر ہاتھ ڈالے۔متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانافضل الرّحمان کے جشنِ آزادی نہ منانے کے اعلان اور ریاستی اداروں پر سخت تنقید سے یہ سوال پیداہوتاہے کہ آیا فضل الرّحمان نے اپنے والد مفتی محمود اور اس وقت کے دیوبند مکتبہ فکر کی نمائندہ جماعت جمعیت علمائے ہندکے پاکستان مخالف مؤقف کو تسلیم کرلیاہے؟یاوہ پہلے سے ہی پاکستان مخالف نظریے کے حامی تھے۔یاد رہے کہ جمعیت علمائے ہند کا قیام 1919ء میں عمل میں آیا تھااور یہ کانگریس کی حامی اور مسلم لیگ کی مخالف تھی اور قائداعظم اورپاکستان کے قیام کی کھل کر مخالفت کی تھی۔مفتی محمود اور انکاخاندان تو باقاعدہ کانگریس کے سرگرم رکن گاندھی کے ساتھی تھے۔بعد ازاں علامہ شبیر عثمانی نے 1945ء میں جمعیت علمائے ہند کے مقابلے میں جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رکھی۔قیام پاکستان کے بعد مفتی محمود جمعیت علمائے اسلام میں شامل ہوگے اور 1970ء میں اس کے صدر منتخب ہوئے۔یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتیں اپنانقطہ نظرواضح اور دو ٹوک پیش کریں تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ مولانافضل الرحمان کا انفرادی مؤقف ہے یا انہیں     جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کی حمائت حاصل ہے اور جو آج الیکشن کی وجہ سے دیگر جماعتیں تعاون کررہی ہیں    ان پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

مولاناموصوف کا یہ رویہ انکے الیکشن میں ہارجانے کے باعث ہے چونکہ یہ ہر وقت حکومت کے مزے لوٹتے رہے ہیں     جس شخص نے انکو شکست دی اُس نے پہلے ہی یہ کہاتھا کہ یہ میرامشن ہے کہ مولاناکو اس اسمبلی سے باہر رکھوں گاتاکہ اسمبلی ایسے لوگوں سے پاک ہو۔دوسری طرف مولاناموصوف کو بھی علم تھاعمران خان ہمارے قابو میں نہیں     آئے گااور انکی حکومت میں پتہ نہیں     ہم کہاں ہوں گے۔اب تو ان سے حکومتی تمام مراعات واپس لے لی گئی ہیں     اسطرح انکا مستقبل تاریک ہوتاجارہاہے۔ان کی تمام تر قلابازیاں دم توڑرہی ہیں     ۔اب تو انکو اپنے 20سالوں کا حساب بھی دیناہوگااور نیب کا سامنابھی کرناہوگااچھے بُرے لوگ ہر معاشرے اور ہرطبقے میں ہوتے ہیں     لیکن ان جیسے ملّاؤں کی وجہ سے اسلام اور پاکستان کو ہر وقت خطرہ محسوس ہوتاہے ۔قانونِ قدرت ہے جو انسان کرتاہے اُسکو حساب اسی دنیامیں دیناہوتاہے۔

اک نہ اک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے

چل نہیں     سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے

بس ہم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں اور اُسی سے مددمانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے ان بدکردار،فسادی ملّاؤں کے درمیان حق کے ساتھ جلد فیصلہ فرما۔(آمین)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *