یونان کا دلفریب جزیرہ ’سینتورینی

عمیر حسن

یونان اور ترکی کے درمیان بحیرہ ایجیئن میں واقع جزیرہ سینتورینی اپنی نوعیت کا ایک منفرد جزیرہ مانا جاتاہے۔ مختلف رنگوں سے سجا سینتورینی، جس کی پہاڑی سے سمندر کا نظارہ قابل دید ہوتا ہے جبکہ یہاں کے گھروں کو کچھ اس انداز سے تعمیر کیا گیا ہے کہ لگتا ہے کہ ابھی لڑھک کر گہرے پانیوں میں جاگریں گے۔ یہ درحقیقت دائرے کی شکل میں پھیلے جزائر میں سب سے بڑا جزیرہ ہے، ماضی میں آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ سے یہاں کافی نقصان پہنچا۔

1956ء میں جب طاقتور زلزلوں نے سینتورینی کو ہلایا تو وہاں بڑی تباہی دیکھنے میں آئی۔ نصف سے زائد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھیںجبکہ بقیہ عمارتوں میں سے بڑی تعداد کافی حد تک خراب ہوچکی تھی ان کو اچھی خاصی مرمت کی ضرورت پڑی۔آتش فشاں کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں کے نیچے زمین اتنی پختہ نہیںرہی تھی جوزلزلے میں نقصانات کی بڑی حد تک ذمہ دار ثابت ہوئی۔ اس کے بعددوبارہ بحالی کے کام کا آغاز ہوا اورسینتورینی کی موجودہ شکل سامنے آئی، جس نے سینتورینی کی خوبصورتی کو دوبالا کردیا۔ یہاں سورج کو طلوع اور غروب ہوتے دیکھنا ناقابل فراموش ہوتا ہے۔

گھروں کی تعمیر

سینتورینی کی روایتی تعمیرات بحیرہ ایجیئن میں واقع دیگر جزائر کی طرح ہی ہے، جس میں گھروں کی تعمیر چوکور شکل میں مقامی پتھروں سے کی گئی ہے اور ان پر رنگ و روغن کے لیے چونے اور مختلف آتش فشاں کی خاک کواستعمال کیا گیاہے۔دور سے دیکھنے میں لگتا ہے کہ گویا اس خطے نے سفید چادر اوڑھ رکھی ہے۔یہاں کی منفرد خصوصیت ہپوسکافا (Hypóskapha) کا عام استعمال ہے، یعنی گھروں کی دائیں بائیں یا پھرنیچے کی طرف کھدائی کرکے توسیع کرنا۔ اس مقصد کے لیے پیومائس (Pumice)، جو ایک آتش فشاں پہاڑ سے نکلا ہوا پتھر ہے، کو استعمال کیا گیا ہے۔پیومائس پتھرکے ہوا دارہونے کی منفرد خصوصیت کی وجہ سے سینتورینی میں اس سے بنے گھرسردی میں گرم اور گرمی میں ٹھنڈے رہتے ہیں، جو یہاں رہائش پذیر افراد کے لیے راحت کا باعث ہوتے ہیں۔

تعمیراتی مواد

یونان میں 8 ویں صدی قبل مسیح کے دوران زیادہ سے زیادہ عمارتیں اینٹوں سے تعمیر کی گئیںجبکہ اس سے پہلے لکڑی یا مٹی سے عمارتیں بنانے کارواج تھا۔ سینتورینی کی بات کریں تو یہاں کی عمارتوں کو بنانے اور یونانی فن تعمیر کے بڑے حصوں میں آرکیٹیکٹس کی طرف سے استعمال ہونے والے بلڈنگ مٹیریل میں لکڑی، اینٹیں، چونا پتھر، ماربل، پلاسٹر اور کانسی شامل ہیں۔ لکڑی کو عمارتوں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جاتاتھا اور چھتوں کے لیے بیم میں بھی اس کااستعمال عام تھا۔ اس کے علاوہ سنگ مرمر اور لائم اسٹون کودیواروںاور اونچے حصوں میں لگانے کے علاوہ چھت پر ٹائلیں لگانے کا رواج تھا۔ دھاتوں میں کانسی ایسی چیز تھی جسے سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

ہوٹل کے کمرے سے سیدھاسوئمنگ پول میں

بحیرہ ایجیئن میں واقع جزیرہ سینتورینی میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ہوٹل بھی قائم ہے، جسے فنِ تعمیر کا ایک شاہکار کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ اس ہوٹل کی خاصیت یہ ہے کہ آپ سرنگ نما راستے کے ذریعے کمروں سے براہ راست سوئمنگ پول میں پہنچ سکتے ہیں۔Firostefani کے مقام پرموجود اس ہوٹل کے کمروں کے مکینوں کو باتھ روم میں ایک راستہ نظر آتا ہے جس پر آگے جانے سے اچانک یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ خفیہ سرنگ نما راستہ بیرونی سوئمنگ پول کی جانب آپ کولے جا رہا ہے۔

یہ ایک نادر تجربہ ہوتاہے کہ کُھلے آسمان میں جائے بغیر ہی آپ براہ راست کمرے سے سوئمنگ پول پہنچ جاتے ہیں۔یہ سیاحوں کو ایک ناقابل فراموش احساس دیتا ہے اور وہ اس سے بھرپور طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں۔کمرے کے ساتھ ذاتی سوئمنگ پول میں نہانے کے دوران دیگر سرگرمیاں بھی انجام دی جا سکتی ہیں جن میں مطالعہ وغیرہ شامل ہے۔ کمپلیکس کا ہر کمرہ ایکسٹرا لارج ڈبل بیڈ، گرم ٹب اور بالکونیوں سے آراستہ ہے۔

سیاحتی مقام

اپنی لازوال خوبصورتی کے باعث سینتورینی کو یونان کا ایک مشہور و معروف سیاحتی مقام ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔یہاں عمارتوں کو انتہائی خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا ہے اور گلی کوچے ایسے بنے ہیں کہ آپ کو اجنبیت کااحساس ہی نہیں ہوتا۔ دل کو لبھاتا طرزِ تعمیر اورلہراتی بل کھاتی سڑکیں آپ کا دل موہ لینے کے لیے کافی ہیں۔سینتورینی کے منفرد طرزِ تعمیرنے جہاں اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے وہیں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی کئی مشہور فلموں کے فلمسازوں کو یہاں سین شوٹ کرنے پر مجبور کردیا۔آپ نے خود بھی کئی فلموں میں اس جگہ کو دیکھا ہوگا مگرآپ شاید نام سے نہیں جانتے ہوں گے۔چلیں اس تحریر کے ذریعے آپ کی معلومات میں اگر اضافہ ہوگیا ہے تو گویا ہمارامقصد پورا ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *