عالمی شہرت یافتہ ستارہ اکبر بروج کیساتھ خصوصی انٹرویو

قارئینِ کرام!آج ہم آپکو ایک ایسی بچی کا تعارف کروارہے ہیں اور یہ انٹر ویوخاص طور پر لاہور انٹر نیشنل کے لیے لیاگیاہے۔اس بچی نے کم عمری میں خدادادقابلیت،صلاحیت سے دنیابھرمیں پاکستان کانام فخر سے بلندکر دیاہے۔اس بچی کا نام ستارہ بروج اکبرہے۔یہ ربوہ(چناب نگر)ضلع چنیوٹ کے چھوٹے شہر سے تعلق رکھتی ہے۔جہاں کوئی بڑے تعلیمی ادارے اور سہولتیں نہیں ہیں۔ہمارے ملک کی یہ بڑی بدقسمتی ہے جو بھی اس میدان میں ترقی کرتاہے اس کو مذہب کے نام پر ٹارگٹ کیاجاتاہے۔اس بچی کیساتھ بھی ایساہی ہوا۔اس سے قبل ملالہ یوسف زئی اور پروفیسر عبدالسلام کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہوا۔جس کے باعث ان کو اپنے وطن سے نکلناپڑا۔

عورت کسی بھی قوم کا معمار ہوتی ہے اسی لیے عورت کا تعلیم یافتہ ہونانہایت ضروری ہے تاکہ وہ آئندہ نسلوں کی ٹھیک تربیت کر سکے۔عورت قوم کی ترقی و تنزل کا باعث ہے۔عورت کی جہالت سے قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرناپڑتاہے۔کوئی ملک ،کوئی قوم،کوئی خاندان اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتاجب تک اس کی عورتیں تعلیم یافتہ نہ ہوں۔وہی ملک ترقی کرتے ہیں جو اس حوالے سے بھر پور کردار ادا کرتے ہیں۔متعددقرآنی آیات اور سنت رسولؐ کے احکامات اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتاہیکہـ:

اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کریقینا اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتاہے۔(سورۃالمائدہ آیت نمبر 43)

دیگر آیات میں انسان کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے حالات میں بیرونی دباؤکا شکار ہوئے بغیر ہمیشہ مضبوطی سے عدل پر قائم رہناچاہئے۔اسلام میں مرد اور عورت دونوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:’’تم سے پہلے قومیں اس لیے تباہ ہوگئیں وہ مساوات سے کام نہیں لیتے تھے‘‘۔مزیدفرمایا:’’اے لوگومیں جو تمہاراخالق اور مالک ہوں میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتاخواہ وہ مرد ہو یاعورت کیونکہ تم سب ایک ہی نسل کا حصہ ہواور ایک ہی درخت کی شاخیں‘‘علم کی روشنی پھیلانا،اسکوحاصل کرنااور اس کے لیے جنگ کرناہمارے دین کاحصہ ہے۔بدقسمتی سے ہماراملک ان اصولوں پر عمل پیرانہیں۔اسی لیے دن بدن ہماراتعلیمی معیارگرتاجارہاہے۔

اس ضمن میں معتصب ذہن رکھنے والے مذہبی اور سیاسی حکمرانوں کی طرح سوشل میڈیانے بھی تنگ نظری کامظاہرہ کیاہے اس کووہ مقام اور نمایاں جگہ نہیں دی گئی جو اس کا حق تھاشایدہم ان باتوں کے عادی نہیں رہے۔

ماہنامہ لاہور انٹرنیشنل لندن کے چیف ایڈیٹرمحی الدین عباسی نے ستارہ بروج اکبر سے جو انٹر ویومیں سوالات پوچھے درج ذیل ہیں۔

سوال:    آپ اپنے خاندان کے بارے میں قارئین کو ابتدائی حالاتِ زندگی بتلائیں؟

جواب:    میرے والدصاحب چودھری محمد اکبر بھٹہ اورمیری والدہ بشریٰ اکبرصاحبہ ہیں۔میرے ناناچودھری محمداسلم ناصر ایک لمباعرصہ تک ربوہ کے سکول میں استاد رہے ہیں اور پھرربوہ کے باہرسینئرماسٹرکے عہدہ پرفرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ میں نے اپنے ان بزرگوں سے بہت کچھ سیکھاہے اور انہی کی گود میں پرورش ہوئی۔

میں 10فروری2000ء کو ربوہ میں پیداہوئی۔میری پیدائش کے وقت میری والدہ نے ایک خواب دیکھی جسمیں کہ ایک بہت بڑا انتہائی روشن ستارہ زمین کے قریب آگیاہے۔میری والدہ نے یہ خواب خاندان کی بزرگ آپاطاہرہ صدیقہ کو سنائی۔اس خواب کی بناپرآپاطاہرہ نے میرانام ستارہ بروج اکبر تجویز فرمایا۔اسکے معنی ہیں’’ستاروں کے جُھرمٹ میں سب سے روشن ستارہ‘‘

سوال:    آپکی ابتدائی تعلیم کہاں اور کسطرح ہوئی؟

جواب:   میں نے اپنی ابتدائی دو کلاسیں سکول میں پڑھیں مگر ہمارے سکول کانظام اور طریقہ تعلیم میرے روشن ذہن سے مطابقت نہ رکھتاتھا۔چونکہ میں سوالات بہت کرتی تھی اور کتابی کیڑا بننے کی بجائے علم کی حقیقت جاننے پر بضد رہتی تھی ۔میرے خیال کے مطابق جو کتاب میں ایک ہفتہ میں پڑھ اور سمجھ لیتی ہوں اسکو باربارساراسال کیوںپڑھاجائے۔ اس طرح میری شکایتیں بڑھنے لگیں۔چنانچہ والدہ صاحبہ نے جو خود بھی استاد تھیںاُنہوں نے مجھے گھرپرپڑھاناشروع کر دیا۔ابتدامیں میرے ناناچودھری محمداسلم ناصر صاحب مجھے ڈاکٹر پروفیسر عبدالسلام اور مادام کیوری کی کہانیاں سنایاکرتے اور علم کو انسانیت کے فائدہ میں استعمال کرنے کی ترغیب دیاکرتے تھے۔انہوں نے مجھے ایک اہم نصیحت کی کہ ’’علم کے حصول میں تمھارے سامنے بہت بڑی رکاوٹ انگریزی زبان آئے گی اور اگر تم یہ رکاوٹ عبور کر لو تو تمھارے لیے علم کی بلندیوں کو چھوناآسان ہوجائیگا‘‘اس طرح میں نے یہ نصیحت اپنے پلے باندھ لی اور انگریزی زبان سیکھنے کے علاوہ مجھے انگریزی کے استادسفیر احمدخان صاحب بھی میسر آگئے۔5سال کی عمر میں میں نے انگریزی سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔

سوال:    اسکے بعد کاتعلیمی سفر جس پر چل کر آپ نے اتنے سارے ریکارڈز قائم کیے؟

جواب:   میری ساری تعلیم گھرپر ہی ہوئی اور کم عمری کی وجہ سے بھی پاکستانی نظام تعلیم کی دشواریوں کی وجہ سے کسی امتحان میں شرکت نہیں کرسکتی تھی۔اسکے حل کے لیے آپاطاہرہ صاحبہ سے ذکر کیا۔ان سے راہنمائی کی درخواست کی تو آپ نے فرمایاکہ برٹش کونسل سے رابطہ قائم کریں اور ’’اولیول کا امتحان دینے کے لیے کہا لہٰذامیں نے ایساہی کیا۔او لیول کا امتحان صرف نوسال کی عمر میں پاس کر کے میں نے دنیابھر میں ریکارڈقائم کیا۔’’یہ کم عمری میں پہلاعالمی ایواڈ تھا‘‘۔اگلے سال10سال کی عمر میں بائیالوجی کا اولیول امتحان پاس کر کے’’ایک اور عالمی ایواڈحاصل کیا‘‘۔اس کے اگلے سال انگلش ریاضی اور فزکس کے پیپرز بھی پاس کر لیے اس طرح ’’یہ دنیامیں او لیول پاس کرنے والی سب سے کم عمر طالبہ کا بھی اعزازحاصل کر لیا‘‘بعد ازاں 13سال کی عمر میں Aلیول کا امتحان بھی پاس کر لیا۔(International English Language Testing System)IELTSیہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے یابعض اور وجوہات کے لیے قیام کرنے کے لیے انگریزی زبان کا امتحان پاس کرنالازمی ہوتاہے۔اس کے بغیر ویزہ نہیں دیاجاتااور اسکی دو categoriesہیں۔.1تعلیمی او رغیر تعلیمی دونوں میں طالبِ علموں کو modules4میں اپنی قابلیت ظاہر کرنے کاموقع دیاجاتاہے۔جویہ ہیں۔

1.Listening 2.Reading 3.Writing 4.Speaking

اس امتحان کا کل سکور جسے BANDکہاجاتاہے 9ہوتاہے اور تعلیمی معیار کے لیے کم از کم BAND6.5اور غیر تعلیمی میں اس سے کم بھی قابلِ قبول ہوتاہے۔میں نے یہ امتحان 11سال کی عمر میں پاس کیااورBAND7حاصل کیے۔اس طرح میں نے ـ”The Youngest IELTS canditade In The World”کااعزازحاصل کیا۔علاوہ ازیں 15سال کی عمر میں میں نے اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کی اور BAND8حاصل کیا لیکن میں اس فیصلے سے مطمئن نہیں تھی۔میں نے اس فیصلہ کو چیلنج کیااور پیپرز کی دوبارہ چیکنگ کے لیے درخواست دی جانچ پڑتال کے بعد BAND9/9دیئے گے ۔

سوال:    ستارہ آپ کا آئندہ کا مستقبل کیاہے آپ کیا بنناچاہتی ہیںاور آپ کا رول ماڈل ؟

جواب:   میں عظیم بین الاقوامی فخر پاکستان نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر پروفیسر عبدالسلام کے نقش قدم پر چل کر اپنے وطن پاکستان کے لیے بائیو کیمسٹری کے میدان میں نوبل انعام حاصل کرنے کا عزم رکھتی ہوں۔اپنے وطن عزیزپاکستان کے لیے سائنس کے میدان میں ایک اور کارنامہ انجام دیناچاہتی ہوں۔آجکل میں برطانیہ کی یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہوں اور میری تمام توجہ اسی پر مرکوزہے۔

’’ستارہ بروج کو ملنے والے ایوارڈز کی تفصیل درج ذیل ہے‘‘

1۔مارچ2012ء میں چیرمین سینٹ اور قائم مقام صدر پاکستان سیدنیئرحسین بخاری نے گولڈ میڈل سے نوازا۔

2۔نومبر2012ء میں راجہ پرویز اشرف وزیراعظم پاکستان نے ستارہ اکبرکو گولڈ میڈل سے نوازا۔

3۔نظریہ ء پاکستان کونسل کی طرف سے Out Standing Pakistan Awardملا۔

4.Honorary Shield of Appreciating From Pakistan Ambassador In UAE

5.Certificate Of Appreciation By The British Council

6.Active Citizen Award By The British council

7.Meri Pehchan Pakistan Award By Pakistan Accociation Dubai

8.Youth Ambassador Pakistan Association Dubai

علاوہ ازیںستارہ بروج اکبر نے دنیا کی کم عمر ترین انٹی منی لنڈرنگ اسپیشلسٹ(CAMS)کا بھی اعزاز حاصل کیا۔یہ سر  ٹیفکیٹ اُن لوگوں کو دیاجاتاہے جن کا تعلق بینکنگ سیکڑسے ہوتاہے اور وہ اسپیشلسٹ ہوتے ہیں۔ستارہ بروج نے یہ کورس امریکی ارگنائزیشن آف سرٹیفائڈانٹی منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ سے حاصل کیا۔یہ دنیا کی واحد پاکستانی کم عمر ترین ہے جس نے 17سال کی عمر میں یہ اعزاز حاصل کیاہے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کا مستقبل روشن کرے اورہمارے حکمرانوں کو نیک نیتی پر چلنے کی توفیق دے تا کہ ہمارے ملک کا وقار بلندہواور خوشحال ہوآمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *