صاحبزادی فائزہ احمد

راہِ طلب میں پھول نہیں بس,خار بھی تھامنے پڑتے ہیں

دیپ خوشی کے خود نہیں جلتے روش کرنے پڑتے ہیں

ایثار سے رشتے چلتے ہیں سب بندھن اس سے بنتے ہیں

دوست یوں ہی بن نہیں جاتے کاج بھی کرنے پڑتے ہیں

ساتھی اصل میں وہ ہے جو مشکل میں بھی ساتھ جلے

دعویٰ الفت خالی نہیں کچھ,زخم بھی بھرنے پڑتے ہیں

سچ کا ساتھ نبھاننے میں سر دھڑ کی بازی لگتی ہے

سب دنیا چھٹ جاتی ہے ایسے اپنے بھی دھوکا کرتے ہیں

اک محبت ہی فقط غم نہین اور بھی دکھ ہیں زمانے میں

ہر سمت الم بکھرے ہوے ہیں جو روگ دل کا بنتے ہیں

جنگ نے دنیا کو دیا ہی کیا ہے سوائے خون خرابے کے

سادہ ہم لوگ بہت ہیں یونہی بھڑکانے سے جو لڑتے ہیں

پروانے ہی بس جلتے نہیں ہے شمع بھی جل جاتی ہے

پریت میں اتنا درد بھرا ہے معشوق بھی اس میں مرتے ہیں

بندے سب لاچار ہیں کیا دیں گے کسی کو کیا لیں گے

مالک دنیا بس ایک خدا ہیں ہم بندوں سے کیوں ڈرتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *