چلو کافر ہو جائیں

(شامی ادیب‘محمد البوادی’کی فکر انگیز تحریر)

ترجمہ:محمدشاہدخان ۔دوحہ قطر

میں  چاہتا ہوں  کہ ہمارا ملک سوریاکافر ملکوں  کی طرح ہو جائے۔اس پر ایک شیخ الاسلام نے فرمایا:ہماری پسماندگی کاسبب کتاب و سنت سے دوری ہے۔ تو محمد البودی نے یوں  اس کا جواب دیا’تو ہم لوگ ہمیشہ طوطے کی طرح ایک ہی رٹ لگائے رہتے ہو کہ ہما ری پسماندگی کا سبب اسلام سے دوری ہے!میں  پوچھتا ہوں  کیا جاپان،امریکہ،چین،روس اور یورپ کی ترقی کا راز شریعت اسلامیہ کی پیروی ہے؟

شیح محترم:ہماری پسماندگی کی اصل وجہ وہ ‘پسماندہ اسلام’ہے جو ہمارے علماء اور مشائخ کے تنگ وتاریک ذہنوں کی پیداوار ہے اور یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں  جس کو سمجھنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہو۔

ہم مسلمانوں  کو دیکھیے

ہم میں  سے جو علم حاصل کرنا چاہتا ہے وہ کافروں  کے ملک جاتاہے۔

جو باعزت زندگی گزارنا چاہتا ہے وہ کافروں  کے ملک جاتاہے۔

جو اپنی دولت کی حفاظت کرنا چاہتا ہے وہ کافروں  کے مصادر کا سہارالیتا ہے۔

لاکھوں  بھاگنے والوں  میں  سے کوئی بھی اسلام اور ہدایت کی سرزمینوں  میں  پناہ نہیں  لیتا اور نہ وہ ‘سرزمینِ وحی’سعودی عرب جاتاہے نہ اسلامی نیوکلیر ملک پاکستان جاتاہے نہ دولت وثروت سے مالامال ممالک خلیج کارخ کرتاہے اور نہ ہی کنانہ کی سرزمین مصر میں پناہ لیتاہے بلکہ وہ کفار کے ملکوں  میں  پناہ گزیں  ہوتا ہے۔

جب رحمت اسلام سے بھاگنے والے مسلمان ساحل کفار کے سامنے ڈوب رہے ہوتے ہیں  تو وہی کفار ان کی جان بچاتے ہیں  انھیں  پناہ دیتے ہیں  انھیں  کھانا اوردوا دیتے ہیں ۔اس کے برعکس مفتیانِ دین ان کے قتل ، ان کی زرعی زمینوں  کی تباہی اور ان پر پانی کی پابندی کے فتوے صادر کرتے ہیں ۔

یہ گاڑی جس پر تم سواری کرتے ہو ،یہ کمپیوٹر جس کو تم استعمال کرتے ہو اور یہ موبائل فون جس سے تم ایک پل بھی جدا نہیں  ہو پاتے ہو یہ سب کافر ملکون کا تیار شدہ ہے۔یہ دوائیں  جو تم پیتے ہو یہ کافر ملکوں  سے تیار ہو کر آتی ہیں ۔یہ ہوائی جہاز ،یہ توپ ،یہ بندوقیں  ،یہ ریوالوریہ سب کافر ملکوں  کی ہی پیداوار ہیں ۔کافروں  کے ملک میں  صرف اختلاف رائے  یاطریقہ کار کے اختلاف کی بنا پر قتل کے فتوے تلاش نہیں  کیے جاتے اور ایک تم ہو کہ انسانوں  کے قتل اور عورتوں  کی عصمت دری کے فتوے دیتے پھرتے ہو۔اگر کوئی انسان ایک دوسرے طریق پر عمل پیرا ہے تو کافر ملکوں  میں  اس کے قتل کا حکم صادر نہیں  کیا جاتااور نہ تبدیلی مذہب کی وجہ سے اس کا قتل کیا جاتاہے۔لیکن علمائِ اسلام آپ لوگ،آپ لوگ تو پوری انسانیت یہاں  تک کہ مسلمانوں  کے تئیں  بھی یہی پسندیدہ مشغلہ ہے۔کافروں  ملک میں  کسی شہری کو اس لیے نذرزندان نہیں  کیا جاتاکہ وہ مخالف ہے یا کسی دوسری رائے کا حامل ہے جبکہ اکثر مسلمان ملکوں  میں  یہی سب ہوتاہے۔

کافروں  کے ملک میں  جھوٹا،چوراور بد کردار انسان اپنی داڑھی اور تسبیح کی آڑ میں  اپنے آپ کو نہیں  چھپاتا،جب کہ تمہارے ملکوں  میں  زیادہ تر لوگ یہی کرتے ہیں ۔اس لیے اے علماء و مشائخ میں  تم لوگوں  سے کہوں  گا تم اپنی پسماندگی ،اپناوحشی پن اور اپنا فتویٰ اپنے پاس رکھو۔میں  ایک شامی ہوں  اور میں  چاہتا ہوں  کہ ملک بھی کافروں  کے ملکوں  کی طرح ہو جائے اور میں  یہ بات یوں  ہی نہیں  کہ رہا ہوں  بلکہ میں  اللہ،اس کے فرشتوں  ،آسمانی کتابوں  ،اس کے رسولوں  اور یوم آخرت پر ایمان رکھتاہوں ،قرآن میں  غوروفکر کرتاہوں  اور اللہ کی طرف حکمت سے بلاتاہوں برخلاف ان علماء کے جنہوں  نے اسلام کو ڈراونااور گھناؤنابنادیا ہے اور وہ امت اسلامیہ اور انسانیت کی بیخ کنی کر رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *