سائنس ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت پیش کرتی ہے

مدثرہ عباسی

کائنات کے متعلق سائنس کا علم کافی ترقی کر چکا ہے اور وسیع ہو چکا ہے تخلیق کائنات کے متعلق نظریات کی تصدیق ہو چکی ہے اور اب یہ مسلمہ حقائق کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں  جبکہ کچھ اور نظریات  پر بھی ابھی تحقیق جاری ہے۔ یہ نظریہ کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اب سائنسی حلقوں  میں  ایک حقیقت کے طورپر تسلیم کیا جا چکا ہے۔

اللہ تعالیٰ خود قرآن پاک میں  فرماتا ہے:

أَفِیْ اللّہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْض۔۔۔۔۔۔(سورۃابراہیم11)

ترجمہ: کیا اللہ تعالیٰ کے بارے میں  شک ہے جو آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔

نزول قرآن کے وقت کائنات کی ساخت اور اجرام فلکی کے متحرک  یا جامد ہونے کے متعلق انسانی تصور بہت مبہم اور قدیم تھا۔مگر اب یہ حالت نہیں  ہے۔ سب سے پہلے ایڈون ہبل نے 1920 ء کی دہائی میں  یہ انکشاف کیا تھا مگر اس سے بھی تیرہ سو سال قبل قرآن پاک اس آیت میں  اس کا ذکر واضح طور پر فرما چکا ہے:

وَالسَّمَاء  بَنَیْنَاہَا بِأَیْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاریت48)

ترجمہ: اور ہم نے آسمان کو ایک خاص قدرت سے بنایا اور یقیناََ ہم ہی وسعت دینے والے ہیں ۔

یاد رہے کہ ایسی کائنات کا تصور جو مسلسل پھیلتی چلی جارہی ہو صرف قرآن کریم میں  ہی مذکور ہے۔ سائنسدانوں  کے نزدیک یہ دریافت کہ کائنات مسلسل پھلتی چلی جارہی ہے خاص اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے انہیں  کائنات کی تخلیق کو سمجھنے میں  مدد ملتی ہے۔ نیز یہ دریافت تخلیق ِکائنات کی مرحلہ وار اس طرح وضاحت کرتی ہے جو بگ بینگ کے نظریہ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے خود خدا تعالیٰ قرآن کریم میں  اس سے بھی آ گے بڑھ کر کائنات کے آغاز، انجام اور پھر ایک اور آغاز کے مکمل دور کو بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں  کائنات کی پیدائش کے پہلے کا جو نقشہ پیش کرتا ہے وہ ہوبہو بگ بینگ کے نظریہ کے مطابق ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں :

أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء  کُلَّ شَیْْء ٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُون

ترجمہ: انہوں  نے دیکھا نہیں  جنہوں  نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین دونوں  مضبوطی سے بند تھے  پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر الگ کر دیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ تو کیا وہ ایمان نہیں  لائیں  گے۔ (سورہ الانبیاء 21)

اس میں  حکمت یہ ہے کہ مذکورہ بالا راز سے پردہ غیر مسلموں  نے اٹھانا تھا مقصد یہ تھا کہ اس طرح یہ امر ہستی باری تعالیٰ کا اور قرآن پاک کی صداقت کا  ایک زندہ نشان بن کر ان کے سامنے آ جائے۔

واحد ہے لا شریک ہے اور لازوال ہے       سب موت  کا  شکار  ہیں  اس کو فنا نہیں

اس آیت کے دو الفاظ یعنی ِ”رتقاََ”  (بند کیا گیا )  اور  ”فَتَقنَا ” (ہم نے اسے پھاڑ کر الگ کر دیا)    میں  بنیادی پیغام پوشیدہ ہے۔ مستند اردو لغات میں ”  رتقاََ ” کے دو مطالب بیان کئے گئے ہیں  اور دونوں  مطالب ہی اس مو ضوع سے متعلق ہیں ۔ ایک معانی ‘یکجا ہو جانے کے ہیں  ‘  اور دوسرے معانی  ‘کامل تاریکی ‘ کے ہیں ۔ دونوں  کو ملا کر بعینہ ایک بلیک ہول کا نقشہ ابھرتا ہے۔

سورج سے تقریباََ پندرہ گنا بڑے ستارے جب اپنا دور حیات ختم کر چکتے ہیں  تو ان سے بلیک ہول کے بننے کا آغاز ہوتا ہے ۔ ان ستاروں  کی کشش ثقل کی شدت کی وجہ سے مادہ مزید سکڑ کر سپر نووا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس مرحلہ پر مادہ کے بنیادی ذرات مثلاََ مالیکیول، ایٹم وغیرہ پس کر ایک عجیب قسم کی توانائی میں  تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ زمان و مکان کے اس لمحہ کو ایونٹ ہورائزن یا واقعاتی افق کا نام دیا گیا ہے  اس کی اندرونی کشش ثقل  اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے حتٰی کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں  جا سکتی اور واپس جذب ہو جاتی ہے۔ جسکے نتیجہ میں  مکمل تاریکی پیدا ہو جاتی ہے اس وجہ سے اسے بلیک ہول کہا جاتا ہے۔ ان حقائق سے ذہن خود بخود ہستی ء باری تعالیٰ کی طرف جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک کے کلام میں  لفظ ‘رتقاََ’ ہے جس کا مطلب مکمل تاریکی ہے اور اس کو اصطلاحاََ  ’’سنگولیرٹی ‘‘ کہا جاتا ہے جو واقعاتی افق سے بھی آگے کہیں  دور واقع ہوتی ہے۔

یہ وہ ہے  مفتاح کہ جس سے آسماں  کے در کھلیں

یہ وہ آئینہ ہے کہ جس سے دیکھ لیں  روئے نگار

ان نظریات کے مطابق یہ کائنات ایک ایسی وحدت سے جاری ہوئی جس میں  مقید مادہ اچانک  ایک زبردست دھماکہ سے پھٹ کر بکھرنا شروع ہو گیا اور اس طریق پر واقعاتی افق کے ذریعہ ایک نئی کائنات کا آغاز ہؤا جس مرحلہ پر بلیک ہول کی حد سے روشنی پھوٹنا شروع ہوئی اسے وائٹ ہول کہا  جاتا ہے۔ ان دونوں  میں  سے ایک نظریہ کے مطابق یہ کائنات ہمیشہ پھیلتی چلی جائے گی جبکہ دوسرے نظریہ کے مطابق ایک مرحلہ پر پہنچ کر کائنات کا پھیلاؤ رک جائے گا اورکشش ثقل اسے اندر کی طرف  کھینچنا شروع کر دے گی۔ آخرکار تمام مادہ واپس کھینچ لیا جائے گا اور غالباََ ایک اور عظیم الشان ‘بلیک ہول’ جنم لے گا۔ یوں  معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم میں  مؤخر الذکر نظریہ کی تائید کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ واضح اعلان کرتا ہے کہ کائنات سنگولیرٹی یا اکائی سے شروع ہوئی تھی اور اسی پر اس کا اختتام ہو گا۔ خدا تعالیٰ کی واحدانیت، تمام کائنات کی تخلیق اور تخلیق کا پھر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کا بیان اس آیت سے بہتر نہیں  ہو سکتا

‘اِنا للّٰہ ِ و اِنا الیہ ِ راجعون ‘

ہم یقیناََ  اللہ کے ہیں  اور ہم یقیناََ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ (سورہ البقرہ 175)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *