برونو سائنس کا شہید

برونو سائنس کا پہلا شہید تھا۔ جس کو صرف اتنی بات کہنے پر جلا دیا گیا تھا کہ ”زمین سورج کے گرد گھومتی ہے”

یہ بات آج ہمیں  بہت معمولی محسوس ہوتی ہو گی مگر آج سے تین تو بیالیس سال پہلے یہ بات ایک خوفناک حد تک خطرناک اور عقائد شکن تھی۔مغرب میں  ایک ہزار سال تک کلیسا کا اقتدار رہا۔اس زمانے میں  نہ صرف انسانی جسم کو زنجیروں  میں  جکڑا گیا بلک اس کی روح کو بھی مسمار کیا گیا۔اس کی سوچ کو قفل لگاے گئے اور یہاں  تک ک بادشاہوں  کے ناموں  کے احکامات تک کلیسا سے جاری ہوتے تھے۔صدیوں  تک انسانی زہن کلیسائی فلسفہ کی حدود میں  قید رہا۔یہ اسی فلسفے کا کمال تھا ک انسان حقیقی دنیا کی بجاے کسی دوسری دنیا میں  مقید رہا۔دانتے نے 1300 عیسوی میں  اس زہن کا نقشہ اپنی کتاب divine comedy میں  پیش کیا ہے۔کلیسا نے لوگوں  کو تعلیم دی ک یہ دنیا اور زندگی جو ہم بسر کرتے ہیں  ایک زنداں  ہے،ایک ایسا قفس ہے جس میں  ہماری روح قید ہو گئی ہے اور ہر لمحہ آزادی کے لئے بے تاب رہتی ہے۔اس دنیا اور اس کی لذتوں  سے نفرت کرنا ہی درست عمل ہے۔ازمنہ وسطی کے زیادہ تر لوگوں  کی سوچ ایسی ہی تھی مگرجیسے روشنی کا کام تاریکی کو دور کرنا ہوتا ہے ویسے ہی کچھ لوگ دنیا کو ان تاریک نظریات سے نجات دلانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں ۔ان میں  سے ایک برونو تھا۔

گیوردانو برونو 1548ء میں  اٹلی میں  پیداہواتھا-1600ء میں  جلا کر قتل کردیا گیا۔ اطالوی فلسفی اورریاضی دان تھا۔ جوانی میں  راہب تھا لیکن روشن خیالی کے باعث کلیسا نے کفر کا الزام لگایا۔ 1576ء میں  جینوا اور پھر پیرس میں  پناہ لی اور فلسفہ کی تعلیم دیتا رہا۔ پھر انگلستان چلا گیا اور سر فلپ سڈنی سے رابطہ قائم کیا۔ فلسفہ اور مابعد الطبیعیات پر غوروفکر کے علاوہ شاعری بھی کی اور طنزیہ و مزاحیہ مضامین لکھے۔ 1591ء میں  وینس آیا۔ جہاں  الحاد کے الزام میں  مذہبی عدالت احتساب کی طرف سے مقدمہ چلایا گیا کچھ عرصے کی قید بامشقت کے بعد معافی مانگنے سے انکار کیا تو زندہ جلا دیا گیا۔

برونو 1558 میں  جب پیدا ہوا تو قدیم و جدید خیالات میں  تصادم برپا تھا اور پرانے عقائد پر سخت تنقید ہو رہی تھی۔یہ تبدیلی کا زمانہ تھا۔برونو سے پہلے کوپر نیکس اپنی تعلیمات دے چکا تھا۔مگر یہ زمانہ نئی سوچ کے لئے موزوں  نہیں  تھا اور ہر طرح کی سفاکی کے لئے دعوت دے رہا تھا۔یہ وہی وقت تھا جب تحریک احیا علوم زوروں  پر جاری تھی۔برونو نے جب اپنے آبائی پیشے سپہ گری کو ترک کر کے راہبانہ زندگی اختیار کی اور اپنے نظریات کو پیش کیا تو اسی وقت ملحد ٹھرا دیا گیا۔پہلے وہ نیپلز سے جان بچا کر بھاگا پھر آوارہ گردی کا مرتکب ہوا۔وہ راہ چلتے مناظروں  اور تقریروں  میں  حصہ لیتا۔لاطینی زبان پر عبور کی وجہ سے لوگ اسے ہر جگہ پسند کرتے۔یورپ کی یونیورسٹیز میں  لیکچر بھی دیتا اور فرانس کے بادشا ہینری سوم کی نظر میں  مقبول بھی تھا۔برونو سر فلپ سڈنی اور اسپنسر کا دوست بھی تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے ک وہ شکسپیر کو بھی جانتا تھا۔برونو نے نظم و نثر میں  بہت کچھ لکھا اور یورپ میں  اسے خاصی شہرت ملی۔آخر کار وہ واپس اٹلی آ گیا اور وینس میں  پناہ لی جو ان دنوں  محفوظ سمجھا جاتا تھا۔برونو کو 23 مئی 1594 کو گرفتار کر لیا گیا۔اسے گرفتار کروانے والا وہی شاگرد تھا جس نے اسے وینس بلایا تھا۔وینس کی انتظامیہ نے برونو کو روم کے حوالے کر دیا جہاں  وہ چھ سال تک قید میں  رہا۔ان چھ سالوں  کے متعلق برونو کے حالات زندگی زیادہ معلوم نہ ہو سکے۔بالاخر اسے سزا موت سنا دی گئی۔سزا موت کا حکم سنتے ہی برونو نے تاریخ ساز الفاظ کہے ”میرے جج موت کی سزا کا حکم سناتے ہوے مجھ سے زیادہ خوف محسوس کر رہے ہیں ”۔برونو کو آٹھ دن توبہ کے لئے دیے گئے مگر توبہ کیسی۔اسے آگ میں  کودنے کا کہا گیا اور برونو آگ میں  کود گیا۔آگ میں  کودنے سے پہلے کسی نے بوسے کے لئے صلیب آگے بڑھائی مگر برونو نے صلیب کو اپنے آگے سے ہٹا دیا۔

ہمارے دانشوروں  کے آئیڈیل تو سقراط، برونو، گیلیلیو اور منصور ہیں  لیکن سچ یہ اتنا ہی بولتے ہیں  کہ جسم و جاں  پر آنچ نہ آئے۔ باتیں  یہ یورپ، نشاۃ ثانیہ، روشن خیالی اور سائنس کی کرتے ہیں  لیکن فتوی لگ جائے تو فورا متقی، پرہیز گار، باشرح مسلمان ہونے کے بیانات داغنا اور معافیاں  مانگنا شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ پاکستانی سماج کو بدلنا چاہتے ہیں  لیکن نہ پٹنے کو تیار ہیں ، نہ پابندِ سلاسل ہونے سے بے خوف ہیں  اور نہ ہی سقراط، برونو اور منصور کی طرح سچائی ان کے نزدیک جان سے افضل ہے۔ یہ مکالمے اور رواداری کے مہذب اور پر امن زریعوں  سے سماجی تبدیلی (انقلاب) کے منافقانہ اور بزدلانہ خواب بیچتے ہیں ۔ ان کی منافقانہ روش نے تعلیم یافتہ عوامی حلقوں  کو بھی بزدل، مفاہمت پرست اور خود غرض بنا دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *