مکافاتِ عمل جیسا کروگےویسا بھروگے

ہم سب کو اپنا جائزہ لیناچاہئے کہ کیا ہم اس بُرائی میں تو شامل نہیں ۔ ہم جس بارے میں بات کر رہے ہیں آیا وہ سچ ہے یا محض جھوٹ ہے۔ اگر کسی میں ایسی بُرائی ہے تو اس عادت کو دور کرنا چاہئے کیونکہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں تو انسان کی شہہ رگ سے بھی قریب ہوں۔ خدا تعالیٰ تو ہمارے ہر عمل سے واقف ہے اور خوب نظررکھنے والاہے۔ ہم سب کو اس بُرائی سے بچائے کیونکہ ایسے لوگ دین ودنیا میں کبھی ترقی نہیں کرتے اور ایک نہ ایک دن ان کی رسی تنگ کردی جاتی ہے ۔ جیساکہ آج کل کے حکمرانوں کے ساتھ ہورہاہے۔ سیاست میں دیکھا گیا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کو ذلیل ورسوا کرنے کے لئے عجیب وغریب حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر آپ دوسرے کے خلاف اپنے اقدام میں کامیاب ہوجائیں تب بھی دوسرے کونقصان پہنچانے کے لئے آپ خود اپنی جان ومال کا بہت سا نقصان کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے آپ خود کو زخمی اور ہلاک کر لیتے ہیں۔ اگر انسان کسی دوسرے کا خیرخواہ نہیں بن سکتا تواپنی ذات کا خیرخواہ تو بنے۔ اس ضمن میں چند حکمرانوں کے واقعات ملاحظہ فرمائیں۔ اس کو ہم اتفاقی عمل نہیں کہہ سکتے یہ مکافات ِعمل ہے اور جیسا کروگے ویسا بھروگے۔

سابق صدر پرویز مشرف پر 25؍ستمبر 2003ء راولپنڈی میں دو خودکش حملے ہوئے جن میں 15افراد ہلاک اور 50کے قریب زخمی ہوئے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم ، والدہ ،عزیزوں اور قوم کی دعاؤں سے میں محفوظ رہا۔ پرویز مشرف نے نواز شریف کے خلاف کئی مقدمات قائم کروائے جس کے نتیجے میں ان کو جیل جانا پڑا۔پھر ایک ڈیل کرکے وہ 10سال کے لئے سعودی عرب چلے گئے۔ پھر جب نواز شریف وزیر اعظم بنے توانہوں نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمات قائم کئے۔مگر پرویز مشرف کے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی البتہ انہوں نے اور ا ن کی سینئر قیادت نے کہا پرویز مشرف کو پھانسی دو اس نے آئین توڑا ہے، نواز شریف اپنا بدلہ لو اس کو ملک سے باہر نہ جانے دو،بہرصورت ان کی تمام تر انتقامی کاروائیاں ہوا میں اُڑگئیں اور وہ باعزت طورپر انہی کی اجازت سے ہوا میں اُڑ گیا۔ کل نواز شریف ملک سے باہر تھے آج پرویز مشرف؟

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھ لیں جب مکافاتِ عمل کی چکی چلی تو انہوں نے عدالت میں کہا کہ آغاز سے ہی میرے ساتھ تو ہین آمیز سلوک کیا گیا ۔ جیل حکام نے آخری ایام میں تو ان کی ساتھ انتہائی اذیت ناک ، ظالمانہ اور ہتک آمیز رویہ اختیار کیا۔ پھر اس کے بعد جنرل صدرضیاء الحق کا انجام بھی سب کو یاد ہے جن کی آج تک قوم توہین اور ہتک کررہی ہے ۔

ایم کیو ایم کے لیڈر الطاف حسین کو دیکھ لیں آج وہ اپنی تصویر تلے تصویر بنے بیٹھیں ہیں۔ کل تک جس کا طوطی بولتا تھا آج اس کا طوطا بھی نہیں بولتا۔ کیا وقت تھا جس کی ایک آواز پرچند منٹوں میں دو کروڑ کا کراچی شہر بند ہوجاتا تھا۔ آج وہ لندن میں ایک کمرہ میں بند ہوگیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف 30سال اقتدار میں رہا اور تین بار وزیر اعظم رہا آج وہ تین بار نااہل قرار دیا گیا۔ ان کی حکومت اور ان کی فیملی نے ایک شاہانہ طرزِزندگی گزاری اپنے دورِ اقتدار میں اپنے دوستوں کو ناجائزطور سے کروڑوں، اربوں روپئے سے نوازا جس سے ملک کا اخلاقی ڈھانچہ تباہ ہوگیا جس کو ٹھیک کرنے کے لئے اعلیٰ عدلیہ کو ضرورت پیش آرہی ہے۔ اب جب وہ نیب کی عدالت اور سپریم کورٹ میں کرپشن کے کیسز میں پیش ہورہے ہیں تو ان کو وہ اپنی توہین سمجھ رہے ہیں۔اقتدار کانشہ بھی دوسرے نشہ کی طرح ہوتا ہے جب انسان ٹوٹ جاتا ہے تو وہ سڑک پرآجاتا ہے ۔ اسی لئے نواز شریف عدلیہ تحریک، ووٹ کوعزت دو، نیب مارشل لاکا کالا قانون ہے،اور ملک میں جمہوریت نہیں ثاقب نثار کا جوڈیشل مارشل لاہے۔ کی باتیں کررہے ہیںاور روڈ پر آگئے ہیں۔ یاد رہے نواز شریف نے ہی ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کاجج اوروفاقی سیکریٹری قانون بنایا اور چیف جسٹس بھی۔ آج یہی ان سب کا احتساب کررہا ہے۔ قوم کو چاہئے بھرپور ساتھ دیں۔یاد رہے قرآن کریم میں لفظ ’’امانت ‘‘لازماً ’’احتساب‘‘کے معنوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور اس پر عمل کرنا سب کا فرض ہے۔ اسی طرح قرآن کریم ہر قسم کی حکومت سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس احساس کو ہمیشہ مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے۔ دعا کریں آئندہ ملک کے لئے جو بھی حکمران آئیں وہ قائد اعظم کے اصولوں پر عمل کرنے والے اور ملک کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر ڈالنے والے ہوں۔ ملک کے مشہور شاعر ثاقب زیروی نے کیا خوب کہا ہے :

پستے ہیں بالآخر وہ اک دن اپنے ہی ستم کی چکی میں

انجام یہی ہوتا آیا ہے فرعون کا ہامانوں کا

محی الدین عباسی

مدیر اعلیٰ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *