عورت کے حق میں “عوامی شعور”

تحریر :ابن قدسی

ہمارے معاشرے میں رہنے کے لیے سٹرک اوراس پر احتجاج بنیادی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ہر کوئی اپنے حقوق کے مطالبے لیے سٹرک کا رخ کرتا ہے۔کبھی مال روڈ تو کبھی فیض آباد۔مذہب ہو یا سیاست ہرایک مسئلہ کاایک ہی حل۔کبھی کبھار تو یہ سمجھ نہیں لگتی کون کس سے اور کس لیے احتجاج کر رہا ہے۔بعد میں پتا چلتا ہے کوئی سازش تھی لیکن اس سازش کو بے نقاب کرنا اور اصل مقاصد سامنے لانا کسی اور دھرنے پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

بہرحال پچھلے دنوں ایک ایسا احتجاج خبروں میں آیا جس کی کسی لحاظ سے بھی سمجھ نہیں آئی۔ڈیڑھ سو کے قریب خواتین کے گروپ نے سائیکلنگ کی۔ان خواتین نے“میرا جسم میری مرضی” کے علاوہ “ہمارا معاشرہ ہماری سڑکیں”،“عورت راج آکے رہے گا”وغیرہ تحریروں پر مبنی پلے کارڈز آویزاں کر رکھے تھے۔


مظاہرے میں شرکت کرنے والی سماج کارکن لبنی غنی کا کہنا تھا

“یہ ناقابل یقین ہے کہ کس طرح کچھ معمولی الفاظ نے بہت سے لوگوں کو پاگل کر دیا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے احتجاج کا مقصد پورا ہو رہا ہے اور لوگوں تک ہمارا پیغام پہنچ رہا ہے۔ہم نے کم از کم ایک بحث کا آغاز کر دیا ہے جس کے نتیجے میں عوامی شعور میں اضافہ ہوگا۔”

سماجی کارکن کے بیان سے ہی پتا چلتا ہے کہ کچھ پتا نہیں چلتا آخر اس احتجاج کا مقصد کیا تھا۔جس معاشرے کے مذہب نے عورت کو بہت بلند مقام دیا ہے اس کی عورت یوں سڑکوں پر بے توقیر ہو عجیب لگتا ہے۔وہ معاشرے جن کے مذاہب عورت کو کوئی مقام ومرتبہ نہ دیں وہ سڑکوں پر نکل کر اپنا حق مانگیں تو سمجھ بھی آتا ہے کیونکہ ان کی راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں لیکن جس مذہب نے عورت کو اعلیٰ اور ارفع بنایا ہو اس کی عورت کا بے معنی اور بے فائدہ نعرے لے کر“عوامی شعور”میں اضافہ کرنا سمجھ سے بالا ہے۔

اسلام نے عورت کی عزت وتوقیر کو ہر لحاظ سے بڑھایا ہے اوراسے باقاعدہ تحفظ دیا ہے۔ عورت باعزت اور باوقاررہتی ہے جب اسے چار پہلوئوں سے تحفظ مل جاتا ہے۔بچی ہوتی ہے تو باپ کی شکل میں ایک شفیق اور پیار کرنے والا وجود ہاتھ سرپر رکھ کر اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ بڑی ہوتی ہے تو غیرت مند بھائی بہن کا محافظ بن جاتاہے۔جب جوان ہوتی ہے تو بڑی آن شان کے ساتھ باپ اور بھائی اس کو رخصت کرتے ہیں اور پھر ایک تیسرا مرد محافظ کی شکل میں عورت کے تحفظ کا ذمہ دار بن جاتا ہے جو تحفظ کے ساتھ ساتھ جذبات کا ساتھی ہوتا ہے۔جب عمر ڈھلتی ہے تو اسے اولاد کی شکل میں خدمت گزار مل جاتے ہیں جو خدمت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ محافظ بھی ہوتے ہیں۔مرد تو ہر صورت میں عورت کی عزت کا محافظ بن رہا ہوتا ہے لیکن یہ پتا نہیں ان ڈیڑھ سو “عزت دار خواتین”کے محافظ اپنی ذمہ داریوں سے لا پروا کیوں ہوئے کہ ان کو سڑکوں پر آنا پڑا۔اگرچہ یہاں پر بھی پولیس کی شکل میں کئی مرد ان کی حفاظت پر مامور تھے۔پھر بھی ان عورتوں کو شکوہ تھا کہ “خود کھانا گرم کر لو”حالانکہ مرد بھی کہہ سکتے تھے کہ تم اپنی حفاظت خود کر لو۔

اسلام کی تعلیمات تو بہت زبردست ہیں۔اللہ تعالیٰ نے عورت کے ہر رشتہ کو نبانے والے مرد کو بشارتیں اور خوشخبریاں دے کر اپنی رضا کی چادر اس پر ڈالی ہے۔جس طرح کئی نیکیوں کا اجر ہے۔نماز پڑھی تو اجر ملا۔روزہ رکھا تو ثواب دیا۔ان نیکیوں کی جزا جنت کی شکل میں ملتی ہے۔اسی طرح عورت کے ہر رشتہ جو جائز اور صحیح ہے اس کے ذریعہ مرد کے لیے اجر ہے۔اگر عورت بیٹی کی شکل میں ہے توحضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جس شخص کی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے ۔اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح نہ دے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔(ابو داؤد۔کتاب الادب باب فی فضل من علیٰ یتامی ٰ)۔پھر حضرت ابو سعید ؓالخدری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا تو اس کے لئے جنت ہے(ابو داؤد کتاب الادب باب من فضل من عال،یتامی)

پھر فرمایا “کیا میں تجھے بتاؤں کہ بڑی فضیلت والا صدقہ کونسا ہے؟اپنی اس بچی پر احسان کرنا جو (بیوہ ہونے یا طلاق دئیے جانے کی وجہ سے تیری) طرف لوٹادی گئی ہو اور جس کا تیرے سوا کوئی کفیل اور بار اٹھانے والا نہ رہا ہو۔”(ابن ماجہ ابواب الادب باب بر الوالد والاحسان الیٰ البنات)

حضرت انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں جس کسی نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں،انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتو میں اور وہ اس طرح جنت میں داخل ہوں گے۔(مستدرک حاکم جلد 4صفہ 177)

عورت بہن کی صورت میں ہو تو بہن کے حوالے سے باپ کے بعد بھائی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔اگر باپ فوت ہوجاتا ہے تو بھائی ہی بہن کا حقیقی ولی ہوتا ہے۔جائیداد میں بہن کا حصہ یہ بات شاید ہی اسلام سے پہلے کسی مذہب میں موجود ہو۔

جنگ احد کے موقعہ پر حضرت جابر ؓ کے والد نے حضرت جابرؓ سے کہا کہ صاحبزادے!شاید پیش آنے والے معرکہ میں مجھے اس دنیا سے کوچ کرنا پڑے۔اس آخری وقت میں،میں تمہیں اپنی لڑکیوں کے بارے میں خیر اندیشی کی وصّیت کرتا ہوں۔ (مستدرک حاکم جلد ۴ صفحہ۳۰۲)چنانچہ باوجود یکہ حضرت جابر ؓعہد شباب سے گزرہے تھے،لیکن انہوں نے اپنی بہنوں کی نگہداشت کے خیال سے ایک بیوہ کو اپنے لیے منتخب کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے دریافت فرمایا کہ کسی دو شیزہ سے کیوں نہیں شادی کی؟تو جواب دیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے والد احد کے معرکے میں شہید کردئیے گئے اور اپنے پیچھے نو لڑکیاں چھوڑ گئے جو میری نو بہنیں ہوئیں ان کی نگہداشت کے پیش نظر میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان کے ساتھ ان ہی جیسی ایک ناتجربہ کار لڑکی کو جمع کردوں اس لیے ایسی عورت کا انتخاب کیا جو ان کی کنگھی چوٹی اور دیکھ بھال کرسکتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ ٹھیک کیا تم نے۔(مسلم کتاب الرضاع باب استحباب نکاح البکر)گویا بہنوں کی خاطر اپنی خوشیاں،اپنی خواہشوں کی قربانی کرنا پسند کیا گیا۔

اسلام نے عورت کو بحیثیت بیوی، بہت سے حقوق عطا کیے ہیں۔ نکاح، میاں بیوی کے درمیان عہد ہوتا ہے کہ وہ احکام الٰہی کے تحت خوش گوار ازدواجی تعلق رکھیں گے۔ قرآن پاک میں مردوں کو اس طرح اس معاہدہ کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ ترجمہ: “وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔” مردوں کو مزید اس طرح بھی تاکید کی گئی ہے۔ ترجمہ:“اور (عورتوں کے ساتھ) اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔”اس ضمن میں محسن انسانیت حضور اکرم ﷺ کے ارشادات قابل غور ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا “تم میں کامل ایمان والا وہ ہے، جس کے اخلاق اچھے ہوں، اور تم میں بہتر وہ شخص ہے، جس کا سلوک اپنی اہلیہ کے ساتھ سب سے اچھا ہو۔

ایک اور مقام پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:ترجمہ: “اور تم اپنی بیویوں کے ساتھ عمدگی سے زندگی بسر کرو پس، اگر وہ تمہیں (کسی سبب) ناپسند ہوں، تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو، مگر خدا نے تمہارے لیے بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔”

اس ضمن میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا “کوئی مسلمان شوہر اپنی بیوی سے نفرت نہ کرے۔ اگر کوئی ایک عادت ناپسند ہو تو دوسری عادتیں پسندیدہ ہوں گی” مثلاً اگر عورت خوبصورت نہیں یا اس میں کوئی اور خامی ہے، تو اس وجہ سے قطع تعلق نہ کرے، یا ہوسکتا ہے بیوی جھگڑالو یا بدصورت ہے تو ممکن ہے وہ اولاد ایسی دے، جو اس شخص کی عزت میں اضافے کا سبب بنے۔

شوہر بیوی کے لیے تفریح کا مناسب سامان بھی فراہم کرے، احادیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ دوڑ لگائی تو ایک بار حضرت عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے آگے نکل گئیں اور دوسری بار حضور رسالت مآب ﷺ حضرت عائشہ ؓ سے دوڑ میں آگے نکل گئے۔ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے عید کے موقع پر گھر کی دیوار کی اوٹ سے حضرت عائشہؓ کو صحابہ کرام کی جنگی ورزش کا منظر بھی دکھایا تھا۔

سرور کائنات ﷺ اپنی ازواج کی دل جوئی کے علاوہ ان کے ساتھ گھریلو کام کاج میں تعاون بھی فرماتے تھے۔ اپنی پوشاک خود دھوتے، پیوند لگانا ہوتا تو اپنے دست مبارک سے کپڑے میں خود پیوند لگالیا کرتے تھے۔ بکری کا دودھ دوہتے تھے، اپنی اونٹنی کو خود باندھتے تھے، ایک ہی برتن میں خادم کے ساتھ کھانا کھانے میں کبھی تکلف نہ فرماتے تھے۔ اپنے گھر کی ضرورت پر دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دیتے۔ اگرچہ خود کتنی ہی تکلیف برداشت کرنا پڑے۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ “تم میں سے ہر ایک اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نسبت بازپرس ہوگی، مرد اپنی بیوی کا رکھوالا ہے اور اس سے اس کے متعلق احتساب ہوگا اور بیوی اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اس سے اس کے متعلق احتساب ہوگا۔”مرد کو رکھوالا کہہ کر اس کو اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔مرد رکھوالا کہہ کر عورت کی عزت وتوقیر میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔رکھوالی تو اسی کی ہوتی ہے جس کی قدر ومنزلت ہو۔فضول اور لایعنی چیز کی رکھوالی کون کرتا ہے۔

عورت کا حق یہ ہے کہ مرد اس کے ساتھ مکمل مساوات رکھے، یہاں تک کہ خوردونوش اور طعام و لباس کے معاملات میں بھی، لباس میں عدل یہ ہے کہ مرد وہ کپڑا پہنے جو عام مرد پہنتا ہے، اور عورت وہ لباس اختیار کرے جو عام عورت پہنتی ہے۔ مرد کو موٹا اور حتیٰ المقدور سفید لباس پہننا چاہیے لیکن عورت کے لیے ریشمی اور رنگ دار کپڑے پہننے جائز ہیں، پابندی صرف یہ ہے کہ لباس ایسا باریک نہ ہو کہ جس سے اندر کا جسم نظر آئے۔ زیور پہننا بھی جائز ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے“ریشم اور سونا میری امُت کے مردوں پر حرام کر دیا گیا ہے، لیکن عورتوں پر نہیں، عورتوں کے لیے زیور اور ریشم کا استعمال جائز ہے۔”

عورت کے احساسات کا اتنی باریکی میں جا کر خیال رکھنا ہی اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

عورت کے لیے بحیثیت ماں تو اتنے زیادہ حقوق بیان کردیے کہ سب سے زیادہ حق ماں کا قرار دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماں کی خدمت عبادت سمجھ کر کی جاتی ہے۔اسلام نے عورت کو اتنے بلند مقام تک پہنچایا لیکن شاید اسلام کی تعلیمات آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کو ہی اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جس اسلام نے صنف نازک پر اتنے احسانات کیے اسی پر الزام تراشی کی جاتی ہے۔

عورت کے لیے بحیثیت ماں تو اتنے زیادہ حقوق بیان کردیے کہ سب سے زیادہ حق ماں کا قرار دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماں کی خدمت عبادت سمجھ کر کی جاتی ہے۔اسلام نے عورت کو اتنے بلند مقام تک پہنچایا لیکن شاید اسلام کی تعلیمات کی آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کو ہی اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جس اسلام نے صنف نازک پر اتنے احسانات کیے اسی پر الزام تراشی کی جاتی ہے۔

عورت کے لئے بحیثیت ماں تو اتنے زیادہ حقوق بیان کر دئیے کہ سب سے زیادہ حق ماں کا قرار دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں ماں کی خدمت عبادت سمجھ کر کی جاتی ہے۔

جو عورتیں سڑکوں پر اپنے“عوامی شعور”بیدار کرتی ہیں وہ شاید بھول جاتی ہیں کہ عوام تو انہیں کی گود میں کھیل کر شعور تک پہنچتی ہے۔اگر ہر عورت یہ سوچ لے کہ اس نے اپنی “سوشل سرگرمیوں”کو اتنا زیادہ نہیں کرنا کہ وہ بچوں کی تربیت سے غافل ہوجائے اور وہ بچہ کل کو معاشرے میں بڑا ہو کر“عوامی شعور”سے بے بہرہ ہواور اس کے “عوامی شعور” کو بیدار کرنے کے لیے عورتوں پر سڑکوں پر نکلنا پڑے۔اسلام نے عورتوں کے حقوق بیان کر دیے ہیں لیکن مرد کو وہ حقوق بتانے اور سکھانے کی عمر میں عورت تو اپنی “سوشل سرگرمیوں”میں مصروف ہو اورجب مرد کے حقوق اداکرنے کی عمرآئے تو یہی عورت سڑکوں پر نکل کر مردوں میں “عوامی شعور”بیدارکرے۔کیسی عجیب بات ہے۔

جہاں عورت کا اپنے لیے حقوق کا مطالبہ ہے تو عورت جب ساس بنتی ہے تو بہوکے حقوق خود متعین کرتی ہے اور اس میں اتنا تفاوت رکھتی ہے کہ وہ داماد سے حقوق زیادہ سے زیادہ اور بہو کے حقوق کم سے کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔عورت نند بنتی ہے تو بھابی ظالم اور وہی نند خود کسی کی بھابی بنتی ہے تو پھر نندیں ظالم۔بیوی کے لیے خاوند کے بہن بھائی زہر اور ساس نند کے لیے بہو بھابی کے بہن بھائی منحوس۔عورت کے اختیار میں حقوق آئیں تو ان کی یہ کچڑی پکتی ہے۔

اسلام نے عورت کے سپرد معاشرہ بنانے کی نہایت اہم ذمہ داری کی ہے۔اگر عورت ایک نسل پر محنت کرے تو معاشرہ کلیتاً تبدیل ہوجاتا ہے۔مرد کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ معاشرے کو جڑوں سے مضبوط کرے۔وقتی جوش یا ولولہ نعروں کے زیر اثر انقلابی بن سکتا ہے لیکن پورے کا پورا معاشرہ اپنی ہیت اور شکل بدل لے ایسا کرنا مرد کے بس کی بات نہیں یہ صرف اور صرف عورت ہی کر سکتی ہے۔یہ خوبی عورت کے اندر ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داریوں اور اہمیت کو سمجھے تو۔اسے یہ احساس ہو کہ وہ معاشرے کے لیے کتنی اہم ہے۔اس کا ایک غلط فیصلہ قوموں کو صدیوں پیچھے لے جاتا ہے۔ہیرے کی اہمیت کو سمجھاجائے اور اسے درست طریق پر استعمال کیا جائے تو وہ ہیرا ہوتا ہے وگرنہ بے قیمت پتھر کی طرح ضائع ہوجاتا ہے۔جسم کے ہر ایک عضو کی اہمیت ہے لیکن دل اپنا کام کرنا چھوڑ دے تو جسم مردہ ہوجاتا ہے۔اب یہ بھی نہیں کہ دل سے معدے یا کسی اور عضو کا کام لیا جائے تو جسم زندہ رہے گا ہر عضو کی اپنی اہمیت ہے۔کام کی نوعیت کے اعتبار سے اہمیت کم یا زیادہ ہوسکتی ہے لیکن عضو کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ“دنیا سامان زیست ہے او ر نیک عورت سے بڑھ کر کوئی سامان زیست نہیں”(ابن ماجہ ابواب النکاح باب افضل النساء)یعنی دنیاوی زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت نیک عورت کی ہے۔کیونکہ نیک عورت آئندہ آنے والی نسلوں کو حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔

مغربی معاشرے نے عورت کی اہمیت کو نہیں سمجھا جس کی وجہ سے ان کا معاشرہ بے چینی اور ابتری کا شکار ہے۔بے راہ روی کی راہوں پر چل پڑا ہے جس کی وجہ سے وہ بنیادی طور پر کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔

اللہ کرے ہمارا معاشرہ اس طرح کی بے راہ رویوں سے محفوظ رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *