علّامہ اقبال کا نوحہ

(علامہ اقبال)

ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں

اُمّتی باعثِ رسوائی پیغمبر ہیں

بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں

تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں

بادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئے

حرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئے

واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی

برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی

رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے

شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

)بانگِ درا(

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *