رمضان کی فضلیت ، اہمیت اور افادیت

محی الدین عباسی

میرے مسلمان بھائیو آپ کورمضان مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس بابرکت مہینہ میں اپنی عبادتوں کو عروج تک پہنچانے کی توفیق دے۔ رمضان سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔ رمضان میں چونکہ انسان اکل وشرب اور تمام جسمانی نعمتوں پر صبر کرتا ہے دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا ۔ اہل لغت کہتے ہیں کہ یہ گرمی کے مہینے میں آیا اس لئے رمضان کہلایا۔ روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔ ’’رمض‘‘اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھروغیرہ گرم ہوجاتے ہیں(حوالہ الحکم جلد 5صفحہ 2، 24؍جولائی 1901ء) شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ(البقرہ: 186)یہ ایک فقرہ ہے جس سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ تنویر قلب کا مہینہ ہے،اس میں کثرت سے مکاشفات ہوتے ہیں۔ صلوٰة تزکیۂ نفس کرتی ہے اور صوم (روزہ)تجلی ٔ قلب کرتا ہے۔ تزکیۂ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہوجاوے اور تجلی قلب سے یہ مراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے گا پس اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُمیں یہی اشارہ ہے۔اس میں شک وشبہ کوئی نہیں روزہ کا اجر عظیم ہے لیکن امراض اور ممانعت سے محروم رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے احکام دو قسموں میں تقسیم ہیں۔ ایک عبادات مالی دوسرے عبادات بدنی۔ عبادات مالی ان کے لئے ہیں جس کے پاس مال ہو اور جس کے پاس نہیں وہ معذور ہیں اور عبادات بدنی کو بھی انسان عالم جوانی میں ہی ادا کرسکتا ہے ورنہ ساٹھ سال جب گزرے تو طرح طرح کے عوارضات لاحق ہوتے ہیں۔ نزول المآء وغیرہ شروع ہوکر بینائی میں فرق آجاتا ہے۔یہ ٹھیک کہا کہ پیری وصد عیب اور جو کچھ انسان جوانی میں کرلیتا ہے اسی کی برکت بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے اور جس نے جوانی میں کچھ نہیں کیا اسے بڑھاپے میں بھی صدہارنج برادشت کرنے پڑتے ہیں۔ موئے سفید از اجل آردپیام۔ انسان کا یہ فرض ہے کہ حسب استطاعت خدا کے فرائض بجا لاوئے ۔ روزہ کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌلَّکُمْ یعنی اگر تم روزہ رکھ بھی لیا کرو تو تمہارے واسطے بڑی خیر ہے۔

یہ مبارک دن ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کے نزول کے دن ہیں۔ روزے رکھنا اسلام کا اہم رکن ہے ۔روزہ کی اہمیت سے اکثرلوگ ناواقف ہیں۔روزہ اتناہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیۂ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ ۔ ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہنا بلکہ اسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو ۔ پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے اور جو لوگ خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طورپر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ حمداور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے غذا نہیں مل جاوے۔

(الحکم جلد 2 ۔17؍جنوری 1907ء صفحہ 9)

اس مہینہ میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے(سورة القدر)جسے لیلة القدر کہا گیا ہے۔ اسی ماہ قرآن کا نزول ہوااور حضرت محمد مصطفی ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی جب آپ ﷺ کی عمر چالیس برس ہوئی توایک روز غار حراء میں عبادت کے دوران ایک فرشتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے ظاہر ہوا۔ یہ رمضان کے بابرکت مہینہ کا آخری عشرہ اور سوموار کا دن تھا ۔ اس نے کہا ’’اِقْرَاء‘‘یعنی’’پڑھ‘‘آپ ﷺ نے کہا کہ میں تو پڑھ نہیں سکتا یعنی یہ کام میری طاقت سے باہر ہے ۔ فرشتہ نے آپ ﷺ کو سینہ سے لگاکر تین مرتبہ زور سے کھینچا اور پھر سورة العلق کی آیات آپ ﷺ کو سنائیں۔قرآن کریم کا رمضان میں نازل ہونا اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو روزوں سے خاص تعلق ہے ۔ آنحضرتﷺ کے پاکیزہ دل کی حرارت روحانی کا نتیجہ تھا کہ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے یہ جامع کلام نازل فرمایا۔اب آئندہ کے لئے کوئی نئی شریعت آنے والی نہیں۔رمضان مومن کی کامل قربانی کی عملی تصویر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا’’جب رمضان داخل ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطان جکڑدیئے جاتے ہیں۔‘‘(صحیح بخاری وصحیح مسلم) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کے روزے ایمان کی حالت اور محاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جائیںگے۔(صحیح بخاری کتاب الایمان )اور پھر خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے تو میں ایسے روزہ دار کی جزابن جاتا ہوں(صحیح بخاری باب التوحیدباب ذکر النبیﷺ روایت حدیث 75386)آنحضرت ﷺ نے رمضان کی راتوں کے نوافل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری الایمان)حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں آنحضرت ﷺ آندھی کی طرح صدقہ خیرات کیا کرتے ۔ایک مہینے کی عادت اورمستقل مزاجی سے برائیوں سے پرہیز کرنے کی عادت پڑتی ہے اور یہ عادت ہی اصل میں روزہ اور رمضان کا مقصد ہے ورنہ صرف سال میں ایک مہینہ نیکیوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی کوشش اور گیارہ مہینے اپنی مرضی۔ دنیا کا اثر ۔برائیوں میں ملوث ہونا تو کوئی مقصد پورا نہیں کرتا ۔ لہٰذا رمضان کے مہینے میں عبادت اور قربانی کا جو خاص ماحول پیدا ہوتا ہے اسے مستقل اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم متقیوں کے گروہ میں شامل ہونے والے ہوں۔ رمضان اپنی عظیم الشان برکات کے ساتھ آیا ہے ہمیں چاہئے کہ اس کی جملہ برکات سے مستفید ہونے کی کوشش کریں۔ حضرت سہل ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ’’جنت کا ایک خاص دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں۔ قیامت کے دن روزہ دار اس سے داخل ہونگے ، ان کے سوا کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔ ‘‘(صحیح بخاری کتاب الصوم) حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں ایک وہ جس نے رمضان پایا پھر رمضان گزر گیا اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے۔ دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا، والدین گزرگئے اور گناہ بخشے نہ گئے۔ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اُٹھاتے وقت ہر قسم کے محسنوں کا احسان اتارنے کی کوشش کرو۔ ماں باپ کا احسان تو ہم اتار سکتے ہی نہیں مگر ان سے ہم مسلسل احسان کا سلوک کرتے رہیں بلکہ عمر ہماری اس میں گزر جائے۔ یہی احسان کا احسن طریق ہے اور ہر چیز میںعبادت کو اس کے لئے خالص کرلو اس میں اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ۔ خدا تعالیٰ نے دین اسلام میں 5مجاہدات مقرر فرمائے ہیںنماز ،روزہ ، زکوٰة صدقات، حج اور اسلام دشمنی کا رد اور دفاع خواہ وہ سیفی ہو خواہ قلمی ہو۔یہ مجاہدات قرآن کریم سے ثابت ہیں ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان میں کوشش کریں اور ان کی پابندی کریں۔ وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آگیا وہ اس کا منتظر تھا کہ آوے اور روزے رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے روزہ نہیں رکھ سکا تو آسمان پر روزے سے محروم نہیں۔ مزید براں کن حالتوں میں روزہ فرض نہیں ہے وہ یہ ہیں۔جو سفر میں ہو، مریض ، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں پر ماہواری کے ایام میں روزہ فرض نہیں ہے۔ ایسا بوڑھا انسان جس کے قوی میں انحطاط شروع ہوچکا ہے اور روزہ رکھنا اس کی طاقت سے باہر ہے اوراتنا چھوٹا بچہ جس کے قوی نشونماپارہے ہیں۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ مسافر سفر میں روزہ نہ رکھے۔ حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہے ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی ٔ کریم ﷺ فرماتے ہیں سفر میں روزہ رکھنا کسی نیکی میں شمار نہیں ہے۔ بعض لوگ اٹھ پہرے روزے رکتھے ہیں اور بغیر سحری روزہ رکھ لیتے ہیں یہ درست عمل نہیں۔ 15سال سے کم عمر بچوں کو چاہئے کہ وہ روزہ نہ رکھیں۔ آج کل بلوغت کا وقت یہی ہے ۔روزے کی بلوغت 15سال سے شروع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جہاد کے لئے 15سال سے کم عمر جائز نہیں رکھی چونکہ اس عمر کو پہنچنے پر بچے کی نشوونما تکمیل کے مراحل سے گزرتی ہے جن سے ان کے جسم اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔اگر کم عمر بچے روزے رکھیں گے تو ان کی نشوونما کو نقصان پہنچے گا اور وہ جسمانی طاقت اور نشوونما سے محروم ہوگا۔ جو لوگ روزہ رکھنے کے قابل نہیں بیماری کی وجہ سے ان کو چاہئے وہ فدیہ ادا کریں اور جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ چُھٹے ہوئے روزوں کو بعد میں پورا کریں۔ روزہ قرب الٰہی کا ذریعہ ہے لیکن عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ ایسا کرنا شیطانی عمل ہے ۔آنحضرت ﷺ نے ان تمام لوگوں کے لئے یہ پسند نہیں فرمایا۔ دین یسرپر ہے ’’یُرِیْدُ اللہ بِکُمْ الْیُسْریٰ‘‘ خصوصیت کے لئے روزہ ہی کے ذکر میں آیا ہے۔ ان احکامات کی حکم عدولی کی وجہ سے ہم خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنتے ہیں۔

نماز تراویح کے متعلق

صحابہ رضوان اللہ علیھم میں تین طریقے قیام رمضان کے رائج تھے۔ بعض 20رکعتیں باجماعت پڑھتے تھے۔ بعض آٹھ رکعتیں اور صرف تہجد ہی گھر میں پڑھ لیتے تھے۔ نماز تراویح کوئی جدانماز نہیں ہے۔ دراصل نماز تہجد کواوّل وقت میں پڑھنے کا نام تراویح ہے اوریہ ہر دو صورتوں میںجائز ہیں یعنی ماہ صیام میں نماز تراویح باجماعت مسجد میں پڑھے یا کہ پچھلی رات کو اُٹھ کر اکیلے گھر میں بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ہر دو طرح پڑھی ہے۔ لیکن اکثر عمل آنحضرت ﷺ کا اس پر یہ تھا کہ آپ ﷺ پچھلی رات کو گھر میں اکیلے پڑھتے تھے۔ رمضان شریف میں تراویح کا پڑھنا ضروری ہے۔ایک حافظ قرآن کریم کے پیچھے پڑھنے سے قرآن کریم کا دور مکمل ہوجاتا ہے اور قرأت کا لطف بھی میسر آتا ہے۔ تراویح میں محدثین اور فقہا کا بڑا اختلاف ہے مالکیوں کے ہاں 36رکعت ہیں اور حنفیوں میں 20رکعت ہیں۔ محدثین میں 11رکعت سے زیادہ ثابت نہیں ۔

ماہ رمضان میں مکہ فتح ہوا

اسلامی لشکر نے 10رمضان جنوری 630ھ کو مدینے سے کوچ کیا اور 19رمضان کو وہ مکہ کے قریب مرالظہران پہنچ گیا جو مکہ سے شمالی مغرب میں واقع ہے۔ جب لشکر دشت فاران میں داخل ہوا تو اس کی تعداد د س ہزار تھی۔ 20رمضان المبارک 8ہجری کو آنحضرت ﷺ اپنی اونٹنی القصوا پر مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ سب سے پہلے خانہ کعبہ تشریف لے گئے اور اپنی اونٹنی پر 7اشواط میں بیت اللہ کا طواف فرمایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کے گرد رکھے ہوئے 320بتوں کو اپنی چھڑی مار مار کے توڑا۔ آپ ﷺ نے بیت اللہ کا دروازہ کھلوایا اور اس کے اندر رکھے ہوئے بُت نکلواکر تڑوائے اور اندر بنی ہوئی تصویروں کو مٹانے کی ہدایت فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے اپنا پہلا خطاب فرمایا کہ آج سب کو امن نصیب ہوگا۔ سورہ الحج کی آیت نمبر 79میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’بس نماز قائم کرواور زکوٰة دو اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لو وہی تمہارا آقا ہے۔‘‘

اسلام کا تیسرا بنیادی رکن زکوٰة

مسلمانوں میں یہ عام رواج ہے کہ زکوٰة ماہ رمضان میں ہی ادا کی جاتی ہے جو درست نہیں یہ کسی ماہ بھی ادا کی جاسکتی ہے چونکہ یہ سخاوت اور خیرات کا مہینہ ہے اس وجہ سے لوگ زکوٰة رمضان میں ادا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا’’تؤخذمن اغنیائھم وتردنی فقرائھم‘‘زکوٰة کے نظام کا مقصد ہے کہ امیروں کے اموال کا ایک حصہ کاٹ کر غریبوں کی طرف لوٹادیاجائے۔ دوسرا حصہ طوعی ہے اس نظام کے تحت اسلام نے غریبوں اور بے کس لوگوں کی امداد پر بہت زور دیا ہے۔ ذاتی نیکی کے معیار کو بلند کرنے اور اخوت جذبات کو ترقی دینے کے لئے اسے قانون کی شکل نہیں دی گئی۔ امیر لوگوں کی دولت میں سے ڈھائی فیصد زکوٰة لی جاتی ہے اس طرح ہونے والی رقم غریبوں ، مسکینوں اور محتاجوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ زکوٰة نفس اور اموال کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے ۔ زکوٰة محض اللہ کی خداجوئی کے لئے دینی چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *