رمضان المبارک

محی الدین عباسی

دنیا بھر کے تمام مسلمان بھائیوں کو رمضان کا بابرکت مہینہ مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانان ِ عالم کو ایک مرتبہ پھر یہ بابرکت ایام نصیب ہورہے ہیں اور خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جو ان سے بھرپور فائدہ اُٹھاکر اپنے رب کا قُرب، اس کی خوشنودی ، اس کا رحم اور فضل اور برکتیں تلاش کریں گے جوان بابرکت ایام میں اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھی ہیں۔ خود رسول کریم ,ﷺ نے رمضان کے ایام اور ان کی برکت، عظمت اور شان اس طرح بیان فرمائی ہے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

‘‘اے لوگو تم پر ایک بڑی عظمت اور شان والا مہینہ سایہ کرنے والا ہے۔ ہاں ایک برکتوں والا مہینہ جس میں ایک ایسی رات ہے جو ثواب وفضیلت کے لحاظ سے ہزاروں مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روز ے فرض کئے ہیں اور اس کی رات کی عبادت کونفل ٹھہرایا ہے…..یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے…..’’

آنحضرت ﷺ نے اس بابرکت مہینہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء نزولِ رحمت ہے اور جس کا وسط مغفرت کا وقت ہے اور جس کا آخر کامل اجر پانے یعنی آگ سے نجات پانے کا زمانہ ہے۔(بیہقی بحوالہ مشکوٰة المصابیح۔ تحفہ الصیام صفحہ 28)

اس بابرکت مہینہ کی عظمت کے بارے میں ایک اور حدیث جو مسلم کتاب الصیام میں درج ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آگ کے دروازے اچھی طرح بند کردیئے جاتے ہیں اور شیطان جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ یہ مہینہ جو اپنے جلومیں ہر قسم کی عبادتوں میں ذوق وشوق میں اضافہ لیکر آتا ہے اور مخلص مسلمان کو یہ موقع بہم پہنچاتا ہے کہ وہ زندگی بھر کی سستیوں ، غفلتوں اور گناہوں سے توبہ کرکے خدا تعالیٰ کی رضا کے مواقع سے فائدہ اُٹھا کر ایک معصوم وبے گناہ بچے کی طرح ہوجائے اور تھوڑی سی مزید توجہ کوشش اور خلوص سے کام لیتے ہوئے آئندہ زندگی کو پاک وصاف یعنی متقیوں کی سی بنالے۔

رمضان میں سحری کھاکر مسجدوں کی طرف جانے کا بہت ہی پیارا نظارہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں تویہ نظارہ نمایاں ہے۔ قرآن اور حدیث کا بابرکت سلسلہ اس ماہ ہوتا ہے۔ اگر قرآن کریم اور حدیث بیان کرنے کا عالم میسر آجائے تو یہ بابرکت مہینہ ایک انسان کی زندگی بدلنے اور اس کے لئے قیمتی سرمایہ حیات بن جاتا ہے۔ اس رمضان میں نماز تراویح کابھی خاص اہتمام ہوتا ہے۔ اکثر مساجد میں حفاظ کرام اپنی خوبصورت آواز اور عقیدت وپیار سے قرآن مجید سناتے ہیں اور مسلمان بھائی اس محسور کن آواز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ علاوہ راہ چلتے غیر مسلم بھی رُک جاتے اور کھڑے ہوکر اس سے سرور تسکین پاتے ہیں۔

ہماری دُعا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے مدینہ سے نکلنے والے چشمہ صافی سے قرآن وحدیث کی برکات دنیا بھر میں پھیلتی جائے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ان برکات سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کی توفیق دیتا رہے۔آمین

 محی الدین عباسی

   مدیر اعلیٰ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *