جنوب مغربی ناروے کا مشہور ساحلی شہر برگن

زرتشت منیر خان
زرتشت منیر خان

سات بلند و بالا پہاڑوں ميں گِھرا ہوا اور دوسری طرف نارتھ سی کے کنارے پر يہ شہر واقع ہے۔ اس علاقے کے لمبے اور گہرے فيورڈز قدرتی حُسن سے مالا مال ہيں ۔ اسی علاقہ ميں سوگنے فيورڈ sognefjord بھی واقع ہے ۔ جو سياحوں کی کشش کا مرکز ہے۔ يہ شہر ناروے کے سب زيادہ آبادی والے شہروں سے دوسرے نمبر پر ہے۔ يہ شہر کسی زمانہ ميں شمالی يوروپ کی بہت مصروف بندر گاہ ہوا کرتا تھا۔ شہر خليجِ برگن کے کنارے پر اور بی فيورڈن کے کنارے پر واقع ہے يہاں زيادہ تر سيّاح جرمنی ، برطانيہ ، چين اور جاپان سے آتے ہيں۔

تاريخی پسِ منظر

يہ شہر سکينڈے نيويا اور شمالی يوروپ کے ساتھ تجارت کے لئے بہت مشہور تھا ۔ يہاں تجارت کا آغاز دس سو بيس (1020) سنِ عيسوی ميں ہوا تھا۔شہر کی بنياد 1070 ميں ناروے کے بادشاہ اُولاف کھرّے نے رکھی اور اسے بيورگ وِن کا نام ديا۔  1832تک يہ ناروے کا سب سے بڑا شہر تھا۔ تيرھویں صدی تک  يہ شہر ہر ناروے کا دارالحکومت رہا۔ بعد ازاں اوسلو دارالحکومت بنا جو اُس وقت کرسچيانيہ کہلاتا تھا۔ اس شہر کو کئی دفعہ آگ نے تباہ کيا۔اور يہ دوبارہ تعمير ہوا۔ 1198ميں جنگ کے دوران شہر کو آگ لگا دی گئی۔اور 1248ميں حملہ آوروں نے شہر کو جلا ديا۔ گیارہ چرچ نظرِ آتش کر دي۔چودہ سو تيرہ ميں آتش ذدگی کے نتيجے ميں چودہ چرچ تباہ ہوگئے۔ بعد ازاں مختلف سالوں ميں يہ شہر آتش زدگی کا شکار ہوا۔ 1702ميں نوے فيصد شہر جل کر خاکستر ہو گيا۔ سولہويں صدی ميں يہ شہر سکينڈے نيويا کے بڑے شہرون ميں شمار ہوتا تھا۔

سياحتی مقامات

يہاں لکڑی کے بنے ہوئے پرانے رنگارنگ گھر قابلِ دید ہيں ۔فليو بانن ايک ايسی ٹرين ہے جو بلند پہاڑون کے درميان چلتی ہےاور سيّاح اس کے زريعہ حسین مناظر سے لُطف اندوز ہوتے ہيں ۔

يہاں کا برگن ہُس فورٹريس bergenhus fortressسن1240ءميں شہر کی حفاظت کے پيشِ نظر تعمير کيا گيا تھا۔ نارويجن بادشاہ ہوکن پنجم کے دورِ حکومت ميں ناروے کا دارالحکومت يہاں سے اوسلو ميں منتقل کر ديا گيا ۔برگن کا پرانا علاقہ يونيسکو کی ورلڈ ہيريٹيج ميں شامل ہے۔ برگن ناروے کی انتہائی مصروف بندرگاہ ہے۔ يہاں سے بہت بڑی تعداد ميں مچھلی بيرونی ممالک کو برامد کی جاتی ہے ۔ ہر سال تقريباً تين سو کروز شپ پچاس لاکھ سيّاحوں کو لے کريہاں لنگر انداز ہوتے ہيں۔ يہاں زیرِ سمندر پيٹروليم بھی نکالا جاتا ہے ۔ يہ شہر بين الاقوامی شپنگ انڈسٹری کا مرکز ہے۔

جنگِ عظيم دوئم

نو اپريل 1940 کو جرمن افواج نے حملہ کر کے اس شہر پر قبضہ کر ليا۔ 20  اپريل کو ايک ڈچ بحری جہاز پر لدے ہوئے دھماکہ خيز مواد کو آگ لگ گئی۔ اس زبردست دھماکہ کے نتيجہ ميں  سينکڑوں کے حساب سےشہری ہلاک ہوگئے۔

تيرہ سو اُننچاس ميں طاعون یہاں ايک برطانوی جہاز کےعملہ کے ذريعہ پہنچی۔ جس کے نتیجہ ميں ہزاروں افراد لُقمۂَ اجل ہوئے۔

تفريح

برگن کے اردگرد کاعلاقہ نہایت خوبصورت نظاروں پر مشتمل ہے۔ سيّاح ہر سال لاکھوں کی تعداد ميں يہ علاقہ ديکھنے کے لئے يہاں آتے ہيں۔ اس شہر کے لوگ فُٹ بال کی گيم بہت پسند کرتے ہيں۔ يہاں کی فُٹ بال کی ٹيم ايس کے بران بہت مشہور ہے۔

موسم

اس شہر کا موسم ناروے کے دوسرے شہری علاقوں کی طرح زيادہ سخت نہيں ہوتا۔ خليجی لہر سمندری پانی کو قدرے گرم رکھتی ہے۔ پہاڑ شہر کو تيز ٹھنڈی ہواؤں اور طوفان سے بچاتے ہيں۔

تعليمی سہوليات

برگن سکول آف ميٹرالوجی جسے 1917 ميں جيو فيزکل انسيٹیوٹ کا درجہ دے ديا گيا۔ نارويجن سکول آف اکنامکس 1936 ميں جبکہ يونيورسٹی آف برگن 1946 ميں قائم کی گئی۔ ميڈيا ٹوريزم ، پيٹرولیم انڈسٹری اور فنانس کی تعليمی سہوليات اس شہر ميں موجود ہيں ۔

شہری انتظاميہ

برگن شہر کی انتظاميہ پارليمانی طرزِ حکومت پر منتخب کی جاتی ہےانتظاميہ سات کمشنرز پر مشتمل ہے جن کا انتخاب شہری کونسل کرتی ہے۔

ذرائع آمدو رفت

بذريعہ ہوائی جہاز اس شہر سے رابطہ ہے۔ يہاں بيس لوکل اور 53 بين الااقوامی فلائيٹس آتی ہيں ۔ سمندری راستوں سے اس شہر کا شمالی اور جنوبی ناروے سے گہرا رابطہ ہے۔ اوسلو سے بذريعہ سڑک E16 پر ڈرائیو کر کے بھی يہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ برگن ریلوے لائن 496 کلو ميٹر لمبی ہے ۔ جبکہ اوسلو اور برگن کے درميان ايک ايکسپريس ٹرين بھی چلتی ہے۔ اس ٹرين سے سفر کرنے والے مسافر ارد گرد کے خوبصورت نظاروں  سے لطف اندوز ہوتے ہيں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *