دنیا آبی وسائل کا شکار اور پاکستان کا مستقبل

محی الدین عباسی

پانی خدا تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ اس کرہ ارض پر مشرق ومغرب شمال وجنوب تک اپنی خوبصورتی کا رنگ بکھیرتی یہ زندگی ،زراعت ، صنعت اورمعیشت کے تمام شعبے اسی پانی کی مرہون منت ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کی کیا حکمت مضمر ہے کہ زمین کا تین حصہ پانی اور ایک حصہ خشکی ہے۔ اس حوالے سے کچھ بین الاقوامی اعداد وشمار سے متعلق آپ کو آگاہ کردوں پھر پاکستان کے بارہ میں اس کا مستقبل کیا ہے بقول وفاقی ایوان وتجارت کے صدرزبیراحمدملک کے اگر پاکستان کے حکمران طبقے نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو پانی کی قلت سے صنعت زراعت سمیت متعدد شعبے تباہ ہوجائیںگے جس سے ملک میں قحط اور سول وار کا خطرہ پیدا ہوسکتاہے۔ تحقیق کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ جو موسمیاتی تبدیلی آج دنیا میں رونما ہورہی اس سے چھوٹے جزائر بھی متاثر ہورہے ہیں اور تازہ پانی کی کمی جانوروں اور انسانوں کے لئے خطرہ ہیں۔

2016ء اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 7ارب افراد کو پانی آبی وسائل کی ضرورت ہے اور یہ تعداد 2050ء تک بڑھ کر 9ارب ہونے کی توقع ہے۔ اس رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق ہر انسان روزانہ 2سے 4لیٹر پانی پیتا ہے۔ جس میں خوراک میں موجود پانی بھی شامل ہے۔ اور پاکستان دنیا کے ان 70ممالک میں شامل ہے جو پانی کی قلت کا شکار ہے۔واٹر ایڈ نامی غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیم کے اعداد وشمار کے مطابق 6کروڑ 30لاکھ دیہاتیوں کو پینے اور روز مرہ کے استعمال کے لئے صاف پانی میسر نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی انفراسٹرچکر کی عدم دستیابی اور دشوار گزار علاقوں میں آبادی ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں 4کروڑ 40لاکھ لوگوں کو صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ اسکے بعد تیسرے نمبر پر افریقی ملک اتھوپیا اور نائجیریا ہے جہاں 4کروڑ لوگ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔

واٹر ایڈ انڈیا کے سربراہ وی کے مدہاون نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں ہے ان میں اکثریت ایسے افراد ہیں جو دیہات میں رہتے ہیں اور کسی بھی بڑی ماحولیاتی تبدیلی سے ان لوگوں کی حالت زار مزید ابتر ہوجائیگی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کی 35میں سے 27ریاستیں ایسی ہیں جو قدرتی آفات کی زد میں آسکتی ہیں۔ اور ان میں ایسی ریاستیں جو پسماندہ اور غریب ہیں وہ ماحولیاتی تبدیلی یا شدید موسمی حالت میں سب سے زیادہ متاثر ہوسکتی ہیں۔ دنیا بھر میں 66کروڑ 30لاکھ افراد ایسے ہیں جو صاف پانی سے محروم ہیں اور ان میں 80فیصد یعنی 52کروڑ 20لاکھ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ اور ان میں اکثریت ایسے ملکوں میں بستی ہے جنہیں پہلے ہی شدید موسمی حالات مثلاً سمندری طوفان، سیلابوں اور خشک سالی کا سامنا رہتا ہے۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ سالوں میں موسمی حالات کے پیش نظر کئی طرح کی بیماریوں کے زیادہ پھیلنے کے خطرات بڑھ جائیںگے اور لوگ خوراک کی کمی کا شکار بھی ہونگے۔ علاوہ دنیا میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ کسانوں کوخوراک پیدا کرنے اور مال مویشیوں کو پالنے میں مزید مشکلات کا شکار ہونگے۔

2017ء اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں 1ارب 25کروڑ سے زیادہ افراد کو زمین کی کم ہوتی ہوئی زرخیزی کے سبب خوراک ، پانی کی کمی اور افلاس کا خطرہ ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے اس کنوینشن (UNCCD)میں کہی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں میں زمین کے قدرتی ذخائر کا استعمال دگنا ہوگیا ہے جس سے کرۂ ارض کی ایک تہائی زمین کی زرخیزی شدید طورپر متاثر ہوئی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر سال 15ارب درخت کاٹے جارہے ہیںجبکہ 24ارب ٹن زرخیز زمین ختم ہوتی جارہی ہے۔UNCCDجو اقوام متحدہ کا ادارہ ہے یہ زمین کی بہتر دیکھ بھال اور استعمال کو فروغ دیتا ہے اور یہ عالمی سطح پر زمین کے سلسلے میں واحد قانونی معاہدہ ہے ۔ ادارہ کا کہنا ہے کہ اگر آپ زمین کی کم ہوتی ہوتی زرخیزی کو نہیں روکیں گے تو ایسے مسائل کا شکار ہوجائیںگے جہاں لوگوں کو ا پنے روز گار، گھر بار اور کھیت کھلیان کو کھونا پڑسکتا ہے۔ اگر زمین کی زرخیزی کم ہوتی ہے تو دنیا کو لوگوں کے کھانے کیلئے کم چیزیں دستیاب ہونگی۔

ایک انداز ے کے مطابق ابھی دنیا کی آبادی 7ارب ہے جوکہ 2050ء میں 9ارب ہوجائے گی اور اس کے ساتھ مسائل ومشکلات میں اضافہ ہوگا۔ خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق خشک سالی یا قحط سالی کو روکا نہیں جاسکتا لیکن ہم ایسے منصوبے بنا سکتے ہیں کہ اس کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہیں۔اس ادارہ کے مطابق چین نے 2002ء میں زمین کے ریگستان میں بدلنے کے خلاف پہلا قانون بنایا گیا جس سے ہزاروں ایکڑ زمین کو منگولیا کے اندرونی حصے میں سبزہ زار بنادیا ہے۔ جس سے غذائی پیداوار میں اضافہ ہوا۔

جنوبی افریقہ کا شہر کیپ ٹاون دنیا کا بڑا شہر ہے جہاں پینے کے پانی کی کمی واقع ہوگئی ہے۔یہ وہ مسئلہ ہے جس کی طرف ماہرین ایک عرصہ سے توجہ دلارہے تھے ۔ بظاہر تو پانی دنیا کے 70فیصد حصے پر پھیلا ہوا ہے لیکن اس کا صرف 3فیصد ہی پینے کے قابل ہے جو آبادی بڑھنے آلودگی اور دوسری وجوہات کی بنا پر ناکافی ثابت ہورہا ہے۔

دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کا مسئلہ درپیش ہے اور 2.7ارب انسان ایسے ہیں جنہیں سال کے کم از کم ایک مہینے میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2011ء میں دنیا کے 500بڑے شہروں کا سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک شہر پانی کے دباؤسے دوچار ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق یہ وہ صورت حال ہے جب پانی کی سالانہ مقدار 1700مکعب میٹر (17لاکھ لیٹر)فی کس سے کم ہوجائے۔اقوام متحدہ کی پیشگوئی کے مطابق 2030ء کی دنیا میں تازہ پانی کی طلب 40فیصد تک بڑھ جائیگی جس کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی ، آبادی میں اضافہ اور انسانی رویوں میں تبدیلی ہے اس رپورٹ کے مطابق کیپ ٹاون شہر جیسے کئی مزید شہر ایسے ہیں جو پانی کی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان میں بھارت کا شہر بنگلور، چین کا شہر بیجنگ، مصرکا قاہرہ ،روس کا ماسکو، ترکی استنبول اورلندن شہر ۔ لندن اتھارٹی کے مطابق 2025ء تک اس شہر میں پانی کم پڑنا شروع ہوجائیگا اور یہ مسئلہ 2040ء تک سنگین شکل اختیار کرلیگا۔

’’پاکستان میں پانی کی کمی اور اس کا مستقبل‘‘

اب ہم آپ کو پاکستان کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں ۔ پانی کی کمی اور پاکستان کا مستقبل کیا ہے۔پاکستان زرعی ، معدنی اور دیگر قدرتی خزانوں کے ساتھ بہترین آبی وسائل سے بھی مالامال ہے ۔اگر انہیں صحیح معنوں میں بروئے کار لایا جاتا تو یہ دنیا کا خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا تھا۔ لیکن افسوس کہ حکمران طبقے کی لوٹ مار اور خود غرض سیاست کی وجہ سے وطن عزیز مختلف مسائل کا شکار ہوگیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی کا معاملہ بحرانی شکل اختیار کرگیا ہے لیکن اس کے باوجود بے حس اربابِ اختیار سیاست کی بانسری بجارہے ہیں۔ ملک کی آبادی 20کروڑ ہوچکی ہے اور کراچی کی آبادی 2کروڑ سے زائد تک پہنچ چکی ہے لیکن یہاں لوگ سمندر کے کنارے بھی پیاسے اور صاف پانی سے محروم ہیں۔ یہاں کی انتظامیہ بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور یہاں پانی کے مافیاوں کا اس شہر پر راج ہے۔ پاکستان کونسل ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRW)کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 85فیصد شہری آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔جبکہ دیہاتوں میں رہنے والے 82فیصد لوگوں کو صاف پانی دستیاب نہیں ۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 40فیصداموات پیٹ کی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیںجن کی بنیادی وجہ آلودہ پانی کا استعمال ہے۔ صوبہ سندھ کے 12لاکھ سے زائد آبادی والے صحرائی علاقے تھرپارکر میں زندگی گزار رہے ہیں جن کا تمام ترانحصار مون سون میں ہونے والی بارش کے پانی پر ہے۔ یہاں پرپانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے جن کی وجہ سے کئی سوانسانی جانیں اور ہزاروں جانور ہلاک ہوچکے ہیں۔

پاکستان وافر آبی وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن یہاں کے حکمرانوں نے اس شعبہ کی اصلاحات کی طرف توجہ نہیں دی اگر کالا باغ ڈیم بن جاتا تو عوام کے کئی مسائل حل ہوجاتے لیکن سیاست دانوں نے اپنی سیاست کی وجہ سے اس کو پایہ تکمیل پہنچنے نہیں دیا۔ پاکستان کا نظام آبپاشی کا شمار دنیا کے بڑے نیٹ ورکس میں ہوتا ہے جوکہ 45ملین ایکڑز رقبے پر محیط زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے۔ یہ نظام بنیادی طورپر تین بڑے ذخائر منگلا، تربیلا اور چشمہ پر مشتمل ہے جبکہ 19بیراج 12انٹرریور لنک کینالز 45دیگر کینالز اور143درمیانے ڈیمز ہیں۔ تاہم پاکستان ان میں کوئی اضافہ نہ کرسکا اور ان کی اس غفلت اور موسمیاتی تغیر کے نتیجے میں گزشتہ 67برسوں 1950ء تا 2015ء تک کے دوران شدید نوعیت کے 21سیلابوں کی تباہی کی وجہ سے پاکستان کو مجموعی طورپر 37بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ بدقسمتی سے کئی منصوبے اس ضمن میں بنائے گئے لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا۔ پاکستان میں کراچی تا بلوچستان تک تقریباً 1500کلومیٹر طویل ساحلی سمندر ہے جو قابل ِ استعمال پانی کے حصول کے لئے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جدیدٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ دنیا میں سمندری پانی کو میٹھا کرنے کے لئے ڈی سیلینیشن اور ریورس اوسموس سٹیم تیزی سے مقبول ہورہا ہے ۔ پاکستان کو بھی اس طرف توجہ دینے سے ہمارے زراعت اور پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

عالمی ادارہ WHOکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مشرقی علاقوں یا دریائے سندھ کے ساتھ میدانی علاقوں میں رہائش پذیر 5سے 6کروڑ افراد پینے کے لئے وہ پانی استعمال کررہے ہیں جس میں حکومت کی مقرر کردہ مقدار سے زیادہ سنکھیا ہوسکتا ہے۔ جیالوجی اور زمینی مادوں اور دیگر پیمائشوں کی مدد سے اندازہ ہوا ہے کہ دریائے سندھ کے ساتھ میدانی علاقوں کے زیر زمین پانی میں سنکھیاکی انتہائی زیادہ مقدار موجود ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ارسا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبی ذخائر نہ بننے کی وجہ سے سالانہ 21ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں شامل ہوجاتا ہے ۔ جبکہ رواں سال سردیوں میں ملک کو 36فیصد پانی کی کمی کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان سینٹ کے پالیسی فورم کے اجلاس میں ارسا کے چیر مین نے بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلوں کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کم ہے اور دریائے جہلم اور کابل میں اس وقت پانی کا بہاؤ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ ارسا کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 30دن ہے جبکہ دنیا بھر میں دستیاب پانی کا 40فیصدہونا چاہئے۔ پاکستان محض 10فیصد ذخیرہ کرتا ہے۔ اس فورم اجلاس ارسا کے ممبر نے بتایا کہ ہرسال ضائع ہونے والے اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے منگلاڈیم جیسے تین بڑے ڈیم درکار ہیں۔ جہاں پاکستان اربوں ڈالر مالیت کا پانی سمندر کی نذرکردیتا ہے وہیں دوسری جانب آبی ذخائر نہ ہونے کے سبب پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ ان کی تجویز ہے کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف تربیلا ڈیم کی معیاد بڑھ جائے گی بلکہ 8ملین ایکٹر فٹ پانی بھی ذخیرہ ہوگا۔ حالیہ دنوں میں یہ بھی رپورٹ سامنے آئی ہے کہ منگلا ڈیم خشک ہورہا ہے جس کی وجہ سے زراعت اور پینے کے پانی کا مسئلہ اور بجلی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *