اداریہ

محی الدین عباسی

سورہ مریم آیت نمبر 99میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں اور قوموں کو متنبہ کرتا ہے جس کی تفسیر یہ ہے۔عیسائیوں کو سارا غرور اس وجہ سے ہے کہ ان کو طاقت حاصل ہے شریعت کو لعنت قرار دینا اور کفارہ وغیرہ مسائل کا ایجاد کرنا سب غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ عیاشیاں کرنا چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے قانون پر عمل کرنا نہیں چاہتے۔ انہیں اپنی طاقتوں پر گھمنڈ ہے اور یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ان پر کبھی زوال نہیں آسکتا حالانکہ ان کو مغرور نہیں ہونا چاہئے۔ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو تباہ کرچکے ہیں۔ کیا آج ان میں سے کسی قوم کے نشان تمہیں نظر آتے ہیں۔ یا ان کی ہلکی سی آواز بھی سنائی دیتی ہے؟ یعنی آج ان کے نشان تک نظر نہیں آتے ۔ ان کی تاریخ تک مشتبہ ہوگئی ہے اور ان کی آہٹ تک سنائی نہیں دیتی ۔ یعنی ان کے کام بالکل مخفی ہوگئے ہیں یہاں تک کہ ان کے وجود کے آثار تک مٹ گئے ہیں۔ اگر پہلی قوموں کے لوگ اس طرح صفحۂ ہستی سے ناپید ہوچکے ہیں تو ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری طرف سے ان کے لئے اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَۃَ کا اعلان ہوچکا ہے۔ جن کے لئے عذاب مقدر ہے وہ عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد خدائے واحد پرایمان لے آئیں گے۔ اور جن کے لئے عذاب مقدر نہیں بلکہ کامل تباہی مقصدہے وہ اس طرح تباہ کردیئے جائیں گے کہ نہ وہ خود نظر آئیں گے اور نہ ان کے آثار دکھائی دیں گے۔ ایمان غالب آجائے گا اور کفر دنیا سے ہمیشہ کے لئے مٹ جائے گا۔
اللہ کرے ہمارے ملکی حکمران اور اشرافیہ جواپنی ناانصافیوں ، کرپشن اور ہر قسم کی برائیوں میں بُری طرح ملّوث ہوچکے ہیں وہ عبرت کا نشان بنیں ۔آج ملک جو تباہی وبربادی کے داہنے پر پہنچ چکا ہے وہ ان عذاب سے بچ سکے ان کو چاہئے وَأْبالمَعْرُوْفِ کو مت چھوڑیں ورنہ بدی کی وجہ سے عذاب آنے پر سب کو ملّوث ہونا پڑئے گا۔ اس ضمن میں یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے مال، تمہاری اولاد فتنہ ہے ۔ یاد رکھیں عذاب جب آتا ہے تو ان کے ساتھ نیک وبدگنگارناکردہ گناہ دونوں پراس کا اثر پہنچتا ہے۔
راقم والحروف پاکستان کے ان حکمرانوں ، سیاستدانوں ، اہل فکر ودانش ، علماء دین اور عوام کو خدا کا واسطہ دیکر یہ کہہ رہا ہے ۔خدا کے عذاب سے ڈریں اور یاد رکھیں یہ جو بار بار پاکستان میں زلزلے آرہے ہیںیہ انہی باتوں کی نشاندہی ہے یہ آپ کے لئے انتباہات جن کی صداقت پر آج ملک کا باشعور طبقہ گواہ ہے۔ علاوہ ازیں آج کل ملک میں حکمران اور آئین کی جنگ جاری ہے۔ ان حکمرانوں نے آئین میں من پسند ترامیم جو کیں ہیں اس آئین میں جتنی دفعہ بھی آئی ہے ہر تبدیلی کے وقت انصاف کے تقاضے کو بھلا دیا گیا یہ بنیادی طورپر آئین وہ آئین نہیں جو قائد اعظم بانی پاکستان چاہتے تھے اور خصوصاً آئین میں بار بار اقلیتوں کے بنیادی حقوق کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے جو کسی جمہوری معاشرہ میں ایسا نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں 18ویں ترمیم نے تو صوبوں میں نئی کرپشن کی تاریخ رقم کی ہے۔ یہی وجہ ہے جو میں یقین سے کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ قانون یا بنیادی ملک کا قانون انسانی حقوق کو نظر انداز کرتا رہا اور اس میں مناسب تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو پھر یہ قانون خود ملک کو چاٹ جائے گا۔ اگر یہ آئین توڑا نہیں گیا تو ایک دن یہ ملک کو توڑ دیگا خدارا عقل کے ناخون لیں اور توبہ کریں۔
(محی الدین عباسی،چیف ایڈیٹر)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *