شخصيت پرستی يا سياست

محمد محمود طاہر، ايم اے ابلاغيات
محمد محمود طاہر، ايم اے ابلاغيات

وزير اعظم پاکستان جناب خاقان عباسی نے مورخہ 22جنوري 2018ء کو پارليماني رپورٹرز ايسوسی ايشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے يہ بيانيہ بھي جاري کيا کہ مسلم ليگ ن کوووٹ مياں نواز شريف کي تصوير پر ہي ملے گا اور ہم يعني نون ليگ والے آئندہ انتخابات نواز شريف کي فوٹو لگا کر لڑيں گے ۔اس بيانيہ کو ملکي پرنٹ اوراليکٹرانک ميڈيا نے نماياں کوريج دي۔

وزير اعظم پاکستان کي طر ف سے اس قسم کے بيانيہ کے بعد يہ بات واضح کر دي گئي کہ انتخاب جيتنے کے لئے کسي کي ذاتي اہليت يا قابليت کوئي معني نہيں رکھتي بلکہ شخصيت ہي اہميت کي حامل ہے۔اس کا کرداراور فکري و شعوري حالت کيسي ہو، اس سے کوئي فرق نہ پڑے گا۔اس شخصيت کو خواہ عدالت عاليہ نے مجرم يا نااہل بھي کر ديا ہو پھر بھي  اس کي تصوير ہي اليکشن لڑنے ميں کليدي کردار ادا کرے گي۔

تصوير کي سياست کي سوچ کو کسي طور پر بھي جمہوري يا مثبت سوچ نہيں قرارديا جاسکتا۔بلکہ يہ سوچ آمرانہ ذہنيت اورشخصي بادشاہت اور  خانداني حکمراني کي حمايت ميں اقدام ہوسکتا ہے۔ دراصل يہي سوچ جمہوريت کے پنپنے ميں بڑي رکاوٹ ہے۔جس کي وجہ سے ہمارے ملک ميں جمہوريت کا پودا تنا وردرخت نہيں بن سکا کيونکہ اس کي جڑيں کمزور ہيں اور ذرا سے طوفان سے جمہوريت کا پودا اکھڑ جاتا ہے۔

تصوير کي سياست کرنے والے سرکاري خزانے سے اپني ذاتي شہرت کو پروان چڑھاتے ہيں۔ وہ اداروں کو مضبوط کرنے کي بجائے اپنے آپ کو مضبوط کرتے ہيں۔ حکومت کي طرف سے جاري کردہ سکيموں پر خانداني حکمراني اور تصوير کي سياست کرنے والے اپنا نام اور تصوير شائع کرتے ہيں جيسے کہ يہ سکيم اس شخصيت کے ذاتي روپوں سے شروع کي گئي ہے۔تصوير کي سياست اتني عام کر دي گئي ہے کہ ايک طالب علم بھي يہ کہتا ہے کہ يہ ليپ ٹاپ فلاں وزير اعظم يا وزير اعليٰ نے ديا ہے ۔يہ سڑک فلا ںايم اين اے نے بنائي ہے۔ يہ نالي فلاں ايم پي اے نے تعمير کروائي ہے۔ سکول کي چار ديواري فلاں وزير نے بنوائي ہے۔ان وزيروں ،مشيروں يا ممبران پارليمنٹس کا ان رفاہي تعميراتي کاموں سے کيا تعلق ہے۔ يہ حکومت کے فرائض اور ان کے روزمرہ کے کام ہيں جو عوام کے ٹيکس سے انہوں نے سر انجام دينے ہيں ۔ٹيکس عوام کا ذرائع پيداوار قدرتي عطا يا عوامي خدمت سے پيدا کئے گئے ۔ليکن ان پر نام وزيروں کے اور ممبران اسمبلي کے ديئے جاتے ہيں۔

تصوير کي سياست  يا شخصيت پرستي بالآخر اس قدر فکر اور سوچ کو اپاہج کر ديتي ہے کہ مقننہ جس کاکام عوامي خدمت کے قوانين بنانا ہے شخصي قانون سازي کا عمل جاري کر ديتي ہے۔ اس کي حاليہ مثال ايک نااہل شخص کو پارٹي سربراہ بنانے کا حق حاصل ہونے کا قانون ہے۔ کسي شخصيات کي اس قدر اندھي تقليد کي جاتي ہے۔انہيں کسي بھي رفاہي کام سے دلچسپي سے زيادہ اس رفاہي کام کے افتتاح اور اس پر لگنے والي اس تختي سے ہوتي ہے۔جس تختي پر ان کا نام جلي حروف سے کنندہ کيا جاتا ہے۔رفاہي کام کي تکميل بے شک نہ ہو ليکن اس کي تختي کي نقاب کشائي مقصود بالذات ہوتي ہے۔

شخصيت پرستي اور تصويرکي سياست کي سوچ کو تبديل کرنے کي ضرورت ہے اور اس کي بجائے کسي شخص کي قابليت ،اہليت اور اس کي استعدادوں کو مد نظر رکھنے چاہيے ۔ترقي يافتہ اقوام ميں شخصيت کي بجائے ان کي قابليت سامنے ہوتي ہے اور پھر وہ شخصيات اپني قابليت اور اہليت کے بل بوتے پر اپني اقوام کو ترقي کي شاہراہ پر ڈال ديتي ہيں اور اترقي کا عمل ان ميں جاري رہتا ہے خواہ وہ شخصيت حکمران ہو يا نہ ہو۔ آمرانہ خانداني حکمراني کي سوچ کو ترقي يا فتہ اقوام ترک کر چکي ہيں۔

بڑے عہدوں پر فائز شخصيات کو بالخصوص اس سوچ کو پروان چڑھانے کي بجائے قابليت اور اہليت کي سوچ کو قوم کے ذہنوں ميں ڈالنا چاہيے۔ کيونکہ رہبر عوام کي سوچ بنانے اور بدلنے ميں نماياں کردار ادا کرتے ہيں ۔ قابليت کي سوچ يقينا نعرے بازي کي سياست کو ختم کرکے فلاحي اور عملي سياست کو فرقغ دے گي اور انتخاب کے وقت کسي کي تصوير کا سہارا نہيں لينا پڑے گا بلکہ اہليت اور قابليت خود آپ کا انتخاب کر دے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *