جنوب مغربی ناروے کا شہر

(ستوانگر (تیل کا مرکز

زرتشت منیر خان۔ ناروے
زرتشت منیر خان۔ ناروے

ستوانگر کا شہر سمندر کے کنارے ایک جزیرہ نما کی شکل میں واقع ہے۔اس کے تین اطراف میں سمندر ہے اس علاقہ میں پانچ جھیلیں ہیں زیادہ تر علاقہ ساحلی ہے

تاریخی پسِ منظر

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہاں آبادی کے آثار دس ہزار سال قبل کے پائے جاتے ہیں ستوانگر کے قدیمی چرچ کی تعمیر گیارہ سو کے لگ بھگ شروع ہوئی اور گیارہ سو پچیس میں مکمل ہوئی چنانچہ تاریخی اعتبار سےاس شہر کی بنیاد ۱۱۲۵میں رکھی گئی ستوانگر کا شہر ناروے کے پرانے شہروں میں سے ایک ہےیہاں آٹھارویں اور اُنیسویں صدی کےبنے ہوئے لکڑی کے مکانات دیکھے جاسکتے ہیں۔ دو ہزار آٹھ میں یورپ کے دو شہروں  برطانیہ کے لیور پول اور ناروے کے ستوانگر کو یوروپئین مراکزِ ثقافت کا درجہ دیا گیا۔

آبادی  یہ شہر آبادی کے لحاظ سے ناروے کاچوتھا بڑا شہر ہے۔ شہر کی آبادی میں بتدریج آضافہ ہوتا رہا ہے۔ بالخصوص یہ قابلِ ذکر اضافہ بیسویں صدی میں ناروے کی سمندری حدُود میں تیل کی دریافت کے بعد پیٹرولیم کی انڈسٹری کے نتیجہ میں ہوا۔

تیل کا مرکزستوانگر شہر کو ناروے کا تیل کامرکزبھی کہا جاتا ہےدنیا بھر کےبیشتر تیل و گیس کےدفاتر اس شہر میں موجود ہیں بحرِ شمالی میں تیل کی دریافت کے بعد ۱۹۶۹میں برطانیہ اور ڈینمارک کی کمپنیوں کے ساتھ ناروے کے معاہدے ہوئے۔ جس کے مطابق ان کمپنیوں کو زیرِ زمین کھدائی اور تیل کی دریافت کے اختیارات دیۓ گئے۔ پہلی کمپنی جس نے یہاں ڈرلینگ اور آئل دریافت کرنے کا لائیسنس حاصل کیا وہ ESSO تھی ۔ یہاں ناروے کی سب سے بڑی قومی آئل کمپنی Stat Oil کا بھی ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہاں نارویجن پیٹرولیم میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے۔

تیل کی دریافت سے قبل یہاں کے باسی زیادہ تر ماہی گیری اور جہاز سازی کی صنعتوں سے وابستہ تھے

جنگِ عظیم دوئم جنگِ عظیم دوئم کے دوران اس شہر کی دفاعی اہمیت کے پیشِ نظر جرمن فوجیوں نے قبضہ کر لیا اور ۱۹۴۱تا ۱۹۴۵وہ اس شہر پر قابض رہے۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس شہر میں ملکی اور بین الاقوامی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ نیٹو کا جوائینٹ وار فئیر سینٹر بھی یہاں موجود ہے۔

تعلیم یہاں اعلیٰ تعلیم کے بیشتر تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ یونیورسٹی آف ستوانگر اپنے اعلیٰ تعلیمی معیار کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہے یہ ناروے کی پانچویں بڑی یونیورسٹی ہےاس کا افتتاح ۲۹ اکتوبر ۲۰۰۶ کو ہوا تھا یہاں ۹۰۰۰ سے زیادہ طلباءو طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔

سیاست سیاست کے جملہ اُمور ایک شہری کونسل سر انجام دیتی ہے جس کے ۶۷ ممبران کو چار سال کے عرصہ کےلئے شہری منتخب کرتے ہیں اور وہ اپنے ایک مئیر کا جملہ انتظامی اُمور کے لئے انتخاب کرتے ہیں ۔

سیاحت بین الاقوامی طور پر سیاحت کی غرض سے ستوانگر کا علاقہ بھی بہت مشہور ہے۔ یہاں کروز شِپ بھی آتے رہتے ہیں چنانچہ ۲۰۱۰ کے دوران ایک سو گیارہ کروز شپ کے ذریعہ ۱۷۵۰۰۰سیاحوں نے اس شہر کا وزٹ کیا ۔ یہ شہر انٹر نیشنل ائیر پورٹ بندر گاہ اور ریلوے اسٹیشن کے زریعہ برّ اعظم یوروپ اور ساری دنیا سے رابطہ میں ہیں ۔ بذریعہ سڑک نمبر ۴۴ براستہکریسچین ساند اوسلو سے رابطہ ہے۔ بس اور فیری کے ذریعہ اِرد گرد کے علاقہ کی سیر کی جاسکتی ہے ستوانگر کے جنوب میں ریتلی بیچ پر بھی تفریح کے مواقعے میسر ہیں

قابلِ دید مقامات  Preikestolen
(The pulpit rock)

یہ جگہ ستوانگر سے پچیس کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے یہاں تک سردیوں میں برف اور پھسلن کی وجہ سےرسائی دشوار ہے البتہ اپریل سے اکتوبر تک بہترین موسم ہے۔یہ ایک ایسی چٹان ہے جو سمندر کی بلندی پر سمندر کی طرف جھکی ہوئی ہے۔ یہ ۱۰۹۷۲ فُٹ کی بلندی پر واقع ہے چوٹی پر سطح ہموار ہے ۔

کہتے ہیں کہ دس ہزار سال قبل جب برف پگھلی تو گلیشیئر ختم ہونے کے بعد یہ چٹان نمودار ہوگئی ۲۰۱۲میں دو لاکھ سیاحوں نے اس چٹان کو وزٹ کیا ۔

شیراگ بولٹن

(Kjeragbolten)

یہ پانچ کیوبک میٹر کی ایک چٹان ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان سمندر کے اوپر فضاء میں معلق ہے۔ ستوانگر سے یہ جگہ دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے موسمِ سرما میں برف باری کی وجہ سے راستہ بند ہوتا ہےالبتّہ جون تا ستمبر یہ علاقہ قابلِ دید ہے ۔

یہ جگہ پیراشوٹ کے ذریعہ۔ چھلانگ لگانے والوں میں بہت مقبول ہے ہر سال یہاں Base چھلانگ کے لئے لوگ آتے ہیں کئی چھلانگ لگانے والے حادثات کا بھی شکار ہو جاتے ہیں ۔

کہتے ہیں کہ ہزاروں سال قبل جب سارا ناروے برف سے ڈھکا ہوا تھاگلیشیئرز کا پانی فضا کی گرمی کی وجہ سے پگھلا تو یہ چٹان پہاڑوں کے درمیان اٹک کر رہ گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *