جديد معاشرے ميں بچے کی ابتدائی تربيت

جدید معاشرے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر فرد مادی آسائشوں کے حصول کے لئے دوسرے فرد سے آگے بڑھ جانے کی فکر میں ہے۔ والدین لاشعوری طورپر اپنے بچوں کو دوسرے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جیسے کلاس میں اوّل آنے والے بچے کی بہت تعریف کی جاتی ہے اس سے اس بچے میں دوسرے لوگوں سے آگے نکلنے کے رویے کی تشکیل ہوتی ہے۔ اب ظاہر ہے ایک فرد کے آگے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے لوگ اس سے پیچھے ہوں۔ زندگی میں فرد دوسرے لوگوں سے آگے نکلنے کے لئے جو جائز وناجائز طریقے اختیار کرتا ہے تو اس میں بہت سا دخل بچے کی ابتدائی تربیت کا بھی ہوتا ہے۔

اگر بچے کے کردار کا مطالعہ بالکل اس کی ابتدائی عمر سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ابتدا میں بچہ خود کو علیحدہ وجود تصور نہیں کرتا اور وہ خود کو دوسرے افراد خاص کر اپنی والدہ کے وجود کا حصہ تصور کرتا ہے۔ بچے میں ہمدردی کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ ہمدردی کا یہ جذبہ فرد میں بے غرضی پیدا کرتا ہے جو آگے چل کر انسان دوستی کے جذبے میں ڈھل جاتا ہے۔ 18ماہ کی عمر میں بچے میں یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے الگ ایک خود مختار وجود ہے۔ اسے ‘‘میں’’اور ‘‘میں نہیں’’کی تقسیم قرار دیا جاتا ہے لیکن اس عمر میں بھی بچہ دوسروں کے محسوسات کو اپنے محسوسات کے مطابق ہی سمجھتا ہے۔ اسی لئے چھوٹے بچے اپنی والدہ یاکسی قریبی عزیز کو روتا دیکھیں تو خود بھی منہ بسور نے لگتے ہیں۔ دو سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد بچے میں یہ تصور ابھرنے لگتا ہے کہ وہ دوسرے افراد سے مختلف ہے اور دوسرے افراد بھی اپنے اعمال میں اس سے مختلف ہیں اور زیادہ بڑا ہونے پر بچے دوسرے افراد کے حالات کو محسوس کرنے لگتے ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے اعمال سے دوسرے افراد کو تکلیف بھی ہوتی ہے۔

ماہرین نفسیات نے ایسے طریقے دریافت کرنے کی کوشش کی ہے جن سے بچوں میں دوسروں کی مدد کے کردار کو ابھارہ جاسکے۔ بچے کے ابتدائی کردار کو سامنے رکھ کر اگر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کا بچہ جارحانہ کردار کا مظاہرہ کرتا ہے تو آپ اسے ٹوکتے ہیں لیکن اگرآپ اپنے بچے کے جارحانہ کردار پر اظہار ناپسندیدگی کریں۔ تو اس سے بھی بچے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس کے لئے ضروری نہیں کہ آپ اپنے بچے کو سخت سزائیں دیں۔ ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ بلکہ بعض اوقات صرف ‘‘نہیں’’کہنا بھی کافی ہوتا ہے۔ اگر بچے کے سامنے اس بات کی وضاحت بھی کردی جائے کہ اس کے جارحانہ کردار کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں تو اس سے بھی بچوں کے کردار میں مثبت پہلو کو ابھارنے میں مدد ملتی ہے۔ ذیل میں چند ایسے کرداری نمونے دیئے جارہے ہیں جن کی بچوں میں حوصلہ افزائی ضروری ہے تاکہ بچے میں انسان دوست کردار تشکیل پاسکے۔

۱۔ بچے میں اس تصور کے پیدا کرنے میں مدد دیں کہ دوسروں کی مدد کیسے کی جاتی ہے؟ بچے کو بتائیں کہ اس کا صرف دوسروں کو تنگ نہ کرنا کافی نہیں بلکہ اسے دوسروں کی مدد کرنا چاہئے۔

۲۔ بچے کو صرف یہ بتانا کافی نہیں بلکہ اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ایسا کرنا کیوں ضروری ہے؟ ہم جب بچوں کو مدلل انداز میں بات سمجھاتے ہیں تو وہ ان کے واقعہ  (وقونی) نقشے کا حصہ بن جاتی ہے اور بچے ایسی باتوں پر زیادہ عمل کرتے ہیں۔ مثلاً بچے کو یہ سمجھائیں کہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کی اہمیت کیا ہے؟ اگر بچہ دوسرے بچوں کو اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع دیتا ہے تو اس سے خود بچے کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟

۳۔ خاص طورپر تین سال کی عمر سے پہلے بچے اپنے سے زیادہ دوسرے افراد سے اثرات قبول کرتے ہیں۔ اس لئے بچے کے سامنے عملی مثالیں قائم کریں۔ بچوں کی موجودگی میں خودانسان دوست کردار کا اظہار کریں۔ یاد رکھیں آپ کے بچے آپ کی باتوں کی نسبت آپ کے کردار سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے اپنے کردار سے بچوں کے سامنے اچھی عملی مثالیں قائم کریں۔

۴۔ بچوں نے جو کردار سیکھا ہے اس کا انہیں مظاہرہ کرنے دیں۔ اگر آپ نے اپنے بچے کو سمجھایا ہے کہ چھوٹے بچوں کا خیال رکھنا چاہئے تو اسے چھوٹے بچوں کا خیال کرنے کے کردار کا مظاہرہ کرنے دیں۔ اس سے بچے کی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور سیکھی ہوئی بات بچے کے کردار کا مستقل حصہ بن جائیگی۔

۵۔ بچوں کی اس بات میں حوصلہ افزائی کرنی چاہئے کہ وہ دوسروں کی مدد کرنے کے بارے میں سوچیں ۔ اس بات کو یاد رکھیے کہ بچے میں موجود ابتدائی احساسات کی تربیت ان کے والدین کرتے ہیں۔ آپ بھی اپنے بچے میں موجود معاشرتی بھائی چارے کے احساسات کو پروان چڑھنے کا موقع دیں۔ ان میں اس تصور کو ابھاریئے کہ وہ دوسروں کی مدد کرنے والے فرد ہیں۔

۶۔ وہ بچے جواپنے والدین کے ساتھ گرم جوشی پر مبنی تعلقات رکھتے ہیں اور اپنے والدین کی موجودگی میں خود کو محفوظ اور مطمئن پاتے ہیں، زیادہ معاشرتی بھائی چارے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ایسے بچے دوسروں کی ضروریات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ ان کے برعکس جو والدین اپنے بچوں کو طاقت سے کنٹرول کرتے ہیں ان میں معاشرتی بھائی چارے کے احساسات کم ہوتے ہیں۔

۷۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ بچے کی ضروریات کا بھی خیال رکھا جائے۔ جووالدین اپنے بچوں کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتے ، وہ بچے بھی آگے چل کر دوسروں کی مدد کرنے سے گریز کازیادہ مظاہرہ کرتے ہیں۔

۸۔ بچے کو بے جاتنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔ اس سے بچے کے تصور ذات کو نقصان پہنچتا ہے اور اس سے بچے دوسرے لوگوں کے قریب جانے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *