بچہ اور اس کا ماحول

بچے میں پیدائش کے وقت ہی سے اپنے اردگرد کی اشیا کو محسوس کرنے، کمرے میں موجود افراد کی باتوں کی طرف متوجہ ہونے۔ غرض اپنے ماحول میں موجود ہر چیز کے بارے میں اپنے رد عمل کے اظہار کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں لیکن صلاحیتوں کے اظہار کے لئے ان کی نشوونما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جوں جوں مختلف صلاحیتیں نشو ونما پاکر ایک خاص سطح تک پختہ ہوتی جاتی ہیں، بچہ ان کے اظہار پر قادر ہوتا جاتا ہے۔ بچے کی مثال ہم بیج سے دے سکتے ہیں، جس طرح بیج میں ایک تن آور درخت بننے کے تمام امکانات موجود ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح ایک بچے میں تندرست اور چاک وچوبند نوجوان بننے کے لئے درکار تمام صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے جیسے بیج کودرخت بننے تک مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور ہر مرحلے پر خصوصی نگہداشت کرنا پڑتی ہے ، بالکل یہی صورتِ حل بچے کی پرورش کے دوران پیش آتی ہے۔یاد رکھیں اچھے مالی کی پہچان اس کے درخت کا اچھا پھل ہے اسی طرح والدین کی بھی یہی مثال ہے اور بچے کے ماحول میں ایسی چیزوں کو شامل کیا جائے جس سے بچے کونشوونما میں مدد ملے۔ فالتو اور مضراشیا کو اس کے ماحول سے باہر نکال دیاجائے لیکن یہ ایک مشکل کام ہے اور اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا کہ کون سی چیز کس بچے کے لئے مفید ہے اور کون سی مضر، پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جسے حل کرنے کے لئے مناسب تعلیم وتربیت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بچہ جب اس دنیا میں آنے کے بعد آنکھیں کھولتا ہے تو اپنے ارد گرد سے اس کا رابطہ استوار ہوجاتا ہے۔ ماحول کے ساتھ بچے کا رابطہ ہی آگے چل کراس کی صلاحیتوں کی نشوونما میں مدد دیتا ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد بچہ اپنی دو صلاحیتوں کا اظہار بڑے واضح انداز میں کرسکتاہے، یہ سوچنے اور پکڑنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچہ اپنی ہر قسم کی ضروریات سے اپنے والدین کو آگاہ کرنے کے لئے رونے کے گرکو اپناتا ہے۔ اگر آپ غورکریں تواندازہ ہوگا کہ اس عمر میں بچے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ تینوں صلاحیتیں کافی ہیں۔ چند ہفتوں کی عمر کے بچے کے قریب جو بھی چیز لائی جائے وہ اسے پکڑ کر منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ابھی اس عمر میں بچے میں اس بات کی تمیز پیدا نہیں ہوتی کہ کون سی چیز منہ میں ڈالنا چاہئے اور کون سی نہیں۔
رفتہ رفتہ بچے میں یہ صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے کہ وہ منہ میں ڈالنے والی اور نہ ڈالنے والی اشیا میں تمیز کرنے لگتا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ ابتدائی چند ہفتوں میں ہی بچے میں آوازوں کو سننے اور ان میں تمیز کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بہت چھوٹے بچے بھی انسانی آوازوں میں تمیز کرسکتے ہیں اور ان بچوں میں فطری طورپر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ انسانی آوازوں کی طرف زیادہ جلدی متوجہ ہوتے ہیں۔بولنے کی صلاحیت کے بارے میں یہ کہ پیدائش کے چار چھ ماہ کے اندر اندر بچے اپنے منہ سے مختلف آوازیں نکالنے لگلتے ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بچہ اپنے حلق سے کل 56مختلف آوازیں نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رفتہ رفتہ بچہ اپنے ماحول کے مطابق آوازیں منتخب کرکے انہیں ترقی دیتا ہے اور جو زبان بچے کے گھر میں بولی جاتی ہے اس کے مطابق بچہ اپنے حلق سے آوازیں نکالنا سیکھتا ہے جو بعد میں باقاعدہ زبان میں ڈھل جاتی ہیں۔آوازوں سے لفظوں تک کے سفر کے لئے بچے کو ایک سال یا اس سے زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر بچے کے ارد گرد لوگ موجود رہیں ان کی باتوں کی آواز بچے کے کانوں میں پڑتی رہے اور اگر آپ بھی اپنے بچے سے باتیں کرتے رہیں تو آپ کے ہونٹوں کی جنبش ، چہرے کے تاثرات اور آواز کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے اور سنتے ہوئے بچہ بولنا جلد سیکھ لیتا ہے۔
بچہ جوں جوں بڑا ہوتا جاتا ہے اس کا ذہن پختہ ہوتا جاتا ہے۔ بچے کی ذہنی صلاحیتیں نشوونما پاتی ہیں۔ جن سے بچے کو اپنے ماحول میں ڈھلنے اور اپنے ماحول کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں آسانی ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کے لئے یہ بات باعث حیرت ہوگی کہ بچہ اپنی عمر کے پہلے سال میں ہی عقلی قوتوں کا استعمال کرنے لگتا ہے۔ اگر چہ بچے کا ذہنی استدلال بڑوں سے قدرے مختلف ہوتاہے۔بچے ابتداہی سے اس بات کو جان لیتے ہیں کہ ذرائع اور مقصد میں کیا فرق ہے؟ یوں وہ ایک ایسی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں جو ان کی آیندہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے انہیں اس بات کا پتہ چل جاتا ہے کہ پانی پینے کا مقصد پیاس بجھانا ہے۔ رونے سے ماں دودھ دیتی ہے یوں وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنے ماحول میں موجود ذرائع کو استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ بچے میں اشیا کونئے انداز سے دیکھنے اور پرکھنے کی حس بھی موجود ہوتی ہے۔ ایک اور بات جو آگے چل کربچے کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشو ونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بچے اگر ایک ہی کام کو ایک سے زیادہ بار کریں تو وہ دوسری بار سرانجام دیتے ہوئے اس میں ذراسی تبدیلی کردیتے ہیں جس سے کام میں جدت پیدا ہوجاتی ہے اور بچے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
انسان اور حیوان میں ایک بہت بڑا فرق زبان کے استعمال کا ہے۔ انسان کو یہ خوبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کی گئی ہے کہ وہ زبان کو استعمال کرسکتا ہے۔ جس سے وہ سماجی میل جول اور موجودہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کے قابل ہوا ہے۔ ابتدا میں بچے کے ذہن میں تصویریں بنتی ہیں، بچے اشیا کو ان کی شکل وشباہت سے جانتے ہیں لیکن اپنے ارد گرد کے لوگوں کو باتیں کرتے سن کر وہ ان کی نقل میں ویسی ہی آوازیں اپنے منہ سے نکالتے ہیں پھر یہ آوازیں الفاظ کا روپ دھارتی ہیں۔ الفاظ جملوں میں ڈھلتے ہیں اور بچے بامعنی گفتگو کے قابل ہوتے ہیں لیکن ایک بات کو ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ ابتدائی طورپر بچے کی گفتگو کا زیادہ حصہ ذہنی خود کلامی تک محدود ہوتا ہے۔ ماہرین نے اپنے تجربات سے معلوم کیا ہے کہ پانچ چھ سال کی عمر تک بھی بچے کی گفتگو چالیس فیصد حصہ داخلی خود کلامی پر مبنی ہوتا ہے۔ جب بچے بڑوں سے گفتگو میں مصروف ہوں تب بھی وہ زیادہ تر اپنے آپ سے باتوں میں مصروف ہوتے ہیں۔اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو بے معنی باتیں کرنے یا بے سروپا بیان پر سختی سے نہ ٹوکیں بلکہ پیار سے اصل بات بتائیں۔
کھیل بچے کے ابتدائی زمانے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچے کھیل کے دوران زندگی کے حقائق اور ان میں اپنے کردار کے بارے میں بامعنی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوط میں جو کھیل کھیلے جاتے ہیں وہ ثقافتی اہمیت کے ساتھ ساتھ بچے کو اس مخصوص ثقافت میں زندگی گزارنے کے انداز سے بھی متعارف کرواتے ہیں۔ ابتدائی زمانے کے کھیل بچے کی ذہنی نشوونما میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ رویہ پایا جاتا ہے کہ بچوں کو کھیل سے منع کیا جاتا ہے۔ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ کھیلنے سے بچے خراب ہو جاتے ہیں۔ یہ تصورات صحیح نہیں ہیں ا س لئے کہ چھوٹے بچوں کے پاس کرنے کے لئے اور کچھ نہیں ہوتا، سوائے کھیلنے کے۔ اس کے علاوہ کھیل ہی کے ذریعے وہ ذہنی پختگی حاصل کرتے ہیں۔اگر آپ میں استطاعت ہے تو آپ اپنے بچوں کے لئے اچھے سے اچھے کھلونے خریدیں یہ بچوں کے لئے مفید ہونگے لیکن اگر آپ مہنگے کھلونے نہیں خرید سکتے تب بھی کوئی ہرج نہیں ، جو کھلونے بھی میسر ہیں انہیں کھیلنے کے لئے دیں۔اس بات کو یاد رکھیں کہ بچے کے لئے کھیلنا ضروری ہے۔ آپ کی پرانی اور بے کار چیزوں کو بھی کھلونوں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ہمارے دیہات میں بچوں کوپرانے کپڑوں سے گیند اور گڑیا بنا کر دینا معمول ہے ۔ اس طرح کھلونے بھی بچے کی ذہنی نشو ونما میں وہی کردار ادا کرتے ہیں جو مہنگے ترین کھلونے کرتے ہیں۔ کھیل کے ذریعے بچے کو یہ آگاہی حاصل ہوتی ہے کہ اپنے ماحول میں اس کا کردار فعال ہے۔ وہ اپنے اردگرد کی اشیا کو اپنی مرضی سے استعمال کرسکتا ہے۔ چونکہ ابھی وہ بڑے افراد کے استعمال کی اشیا کو استعمال نہیں کرسکتا اس یہ چھوٹی اشیا اس کے کام آتی ہیں۔ جب ہم کھیل کی بات کرتے ہیں تواس میں وہ تمام روایتی اور مقامی کھیلیں بھی شامل ہیں جو پاکستان کے ہر خطے میں بچے کھیلتے ہیں اور دیگر ممالک میں بھی ان تمام کھیلوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔چھوٹی عمر کے بچوں کے بارے میں ایک اور اہم بات یادرکھنے کی یہ ہے کہ ان بچوں کا اپنی والدہ سے تعلق بہت اہم ہے۔ مثلاً آگے چل کر بچہ پر اعتماد ثابت ہوگا یازندگی کے بارے میں عدم اعتماد کے رویے کو اپنائیگا اس بات کا تعلق بڑی حدتک اس چیز سے ہوتا ہے کہ ابتدائی عمر میں بچے کے اپنی والدہ سے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ اگر والدہ گرم جوش بچے کی ضروریات کا خیال رکھنے والی اور بچے کوآرام دہ اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو بچہ آگے چل کر یقینی طورپُر اعتماد انداز میں زندگی گزاریگا۔ ورنہ عدم اعتماد کا شکار ہوجائیگا۔ اسی طرح والد سے تعلق کے حوالے سے بچہ بااختیار فرد بننے یا شرم اور جھجک کا شکار ہوکر بے یقینی کی کیفیت کے شکار کا رویہ اپناتا ہے۔ اس لئے والد کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس کا رویہ بچے کے بارے میں مثبت ہووہ ہر روز اپنے بچے کے ساتھ کچھ وقت گزارے۔ ہمارے ہاں عموماً یہ خیال کیاجاتا ہے کہ والد کاکام پیسہ کماکر لانا اور بچوں کے لئے روٹی کپڑے کا انتظام کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام انتہائی ضروری ہے اور ہر والد کو ضرور کرنا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے سے باتیں کریں۔ اس سے اس کی ضروریات کے بارے میں دریافت کریں اپنے رویے سے یقین دلائیے کہ آپ کا وجود بچے کے لئے اہم ہے اور تمام بچوں کے ساتھ رویہ یکساں ہونا ضروری ہے۔ یوں آپ اپنے بچے کی شخصی نشوونما میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ دوسرے اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزار کر آپ کو جو ذہنی سکون اور خوشی حاصل ہوگی وہ آپ کو ذہنی طورپر صحت مندر کھنے میں اہم کردار ادا کریگی اور بڑے ہوکر بچے اپنے خاندان اور معاشرہ میں صحیح مقام حاصل کر سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *